اگر ایک رافضی بکری ذبح کرے اور ایک یہودی ذبح کرے تو میں یہودی کا ذبیحہ کھا لوں گا، رافضی کا ذبیحہ نہیں کھاؤں گا، کیونکہ وہ (رافضی) اسلام سے برگشتہ ہو چکا ہے اور یہودی اہلِ کتاب ہے جس کا ذبیحہ حلال ہے۔
(عظمت و شان صحابہؓ: صفحہ 21)
اگر ایک رافضی بکری ذبح کرے اور ایک یہودی ذبح کرے تو میں یہودی کا ذبیحہ کھا لوں گا، رافضی کا ذبیحہ نہیں کھاؤں گا، کیونکہ وہ (رافضی) اسلام سے برگشتہ ہو چکا ہے اور یہودی اہلِ کتاب ہے جس کا ذبیحہ حلال ہے۔
(عظمت و شان صحابہؓ: صفحہ 21)