یہ جو کچھ تفصیلات عرض کی گئیں یہی جمہور اُمت کا مختار مسلک ہے، اسی کو مذکورہ بالا محدثین نے صواب اور معتبر قرار دیا ہے حافظ ابنِ کثیرؒ، حافظ زرکشیؒ، حافظ سخاویؒ، علامہ سيوطیؒ وغیرہ نے اس کے علاوہ دیگر حضرات کے بھی پانچ مختلف اقوال ذکر کیے ہیں، مگر ان میں سے بعض کو شاذ، بعض کو باطل اور بعض کو اہلِ بدعت کا قول قرار دیا ہے۔
اُن ہی شاذ اقوال میں سے بعض فقہاء و اصولین کا یہ قول بھی ہے کہ صحابی ہونے کے لیے: ایک معتد بہ مدت تک آپﷺ کی صحبت میں رہنا ضروری ہے اور اس کے لیے وہ حضرات سیدنا انسؓ کے اُس قول سے استدلال کرتے ہیں جس میں آپ سے أصحاب اور أعراب کا فرق منقول ہے، کہ أصحاب تو وہ ہیں جو کچھ مدت تک آپ کے ساتھ رہے، اور ان کے علاوہ وہ لوگ أعراب (یا اہلِ وفود) ہیں جن کو صرف رؤیت اور مختصر ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔
لغت سے اگرچہ اس مفہوم کی بھی فی الجملہ تائید ہوتی ہے، مگر اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ:
ایک تو ہے مطلق شرفِ صحابیت، وہ تو ایمان کی حالت میں بس ایک نظر سے بھی حاصل ہو جاتا ہے، اور وہ اتنے ہی سے تقویٰ و عدالت اور خلوص و للہیت کے اُس مقام بلند پر پہنچ جاتا ہے کہ بعد میں آنے والے تمام لوگوں پر اِس کا ادب و احترام لازم ہو جاتا ہے۔
سیدنا ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں: لا تسبوا أصحاب محمدﷺ فلمقام أحدهم ساعةً خيرٌ من عمل أحدكم عمره۔(سنن ابنِ ماجہ: صفحہ 162)
ترجمہ: اصحابِ محمدﷺ کو برا بھلا مت کہو، کیوں کہ اُن کا ایک ساعت بھی آپﷺ کے ساتھ رہنا تمہارے عمر بھر کے اعمال سے زیادہ خیر ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اِسی عدالت و دیانت کا اعتبار کرتے ہوئے اُن کی حدیث و روایت بھی علی الاطلاق معتبر مانی جاتی ہے، کیوں کہ حدیث کے قبول کیے جانے کے لیے راوی کے اندر ضبط (قوتِ حفظ) کے ساتھ ساتھ، بلکہ اُس سے بھی پہلے عدالت (اور ثقاہت) کا ہونا شرط ہے لہٰذا جس کی عدالت مشکوک ہوتی ہے محدثینِ کرام اُس کی روایت ہی نہیں قبول فرماتے ہیں۔
امام مزیؒ وغیرہ علماء نے صراحت کی ہے:
إنه لم يوجد قط رواية عمن لُمز بالنفاق من الصحابة۔
(البحر المحيط للزرکشی: جلد 4 صفحہ 300)
ترجمہ: ذخیرہ احادیث میں کوئی بھی روایت کسی ایسے شخص سے نہیں ہے جو نفاق سے متہم کیا گیا ہو۔
اور ایک ہے کسی صحابی کا بحیثیتِ صحابیٔ رسول: بعد والوں کے لیے مقتدا اور لائقِ اتباع ہونا، تو یہ شرف یقیناً اُسی کو حاصل ہوگا جو کچھ نہ کچھ وقت رسول اللہﷺ کی صحبت اور خدمت میں رہا ہو، اور آپ سے دین کو سیکھا اور سمجھا ہو۔
حافظ سخاویؒ نے فتح المغيث جلد 4 صفحہ 86 میں اِسی مضمون کو اپنے قول:
لكن قد يجاب بأنه أراد إثبات صحبة خاصة ليست لتلك الأعراب، وهو المطابق للمسألة، وكذا إنما نفى أبو زرعة ومن أشير إليهم صحبةً خاصةً؛ دون العامة میں اجمالاً بیان فرمایا ہے۔
صحابیت کے شرف کے لیے کسی خاص مدت تک کی صحبت ضروری نہیں اس کی سب بڑی دلیل وہ قصہ ہے جس میں ایک بدوی (دیہاتی) کو انصارِ مدینہ کی ہجو کرنے کے الزام میں سیدنا عمرؓ کے دربار میں حاضر کیا گیا۔ سیدنا عمرؓ نے جرم ثابت ہو جانے پر، یہ کہہ کر چھوڑ دیا:
لو لا أن له صحبة من رسول اللہﷺ ما أدری ما نال فيها لكفيتموه، ولكن له صحبة۔
ترجمہ: اگر اس کو صحابیت کا وہ شرف حاصل نہ ہوتا جس کی برکت سے نہ معلوم یہ کس مقام پر پہنچ چکا ہے تو میں تمہاری طرف سے اس کے لیے کافی ہو جاتا، مگر یہ صحابی ہے، اس لیے جانے دو۔
فتوقف عمر عن معاتبته، فضلاً عن معاقبته، لكونه علم أنه لقی النبیﷺ وفی ذلك: أبينُ شاهدٍ على أنهم كانوا يعتقدون أن شأن الصحبة لا يعدله شیء۔
ترجمہ: کہ سیدنا عمرؓ نے سزا تو دور کی بات ہے ڈانٹ ڈپٹ بھی نہیں فرمائی، صرف اس وجہ سے کہ ان کو آپﷺ سے لقاء حاصل تھا اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذہن میں بھی یہ بات تھی کہ شرف صحبت اور صحابیت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔
حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں: کہ شرف صحبت خواہ کتنا بھی قلیل ہو، خلفائے راشدینؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہاں مطلق صحابہ کی تعظیم کا معمول ہمیشہ رہا چنانچہ حضرت ابو سعید خدریؓ کے سامنے کسی نے حضرت امیرِ معاویہؓ پر کوئی تبصرہ کیا تو انہوں نے منع کرتے ہوئے، مندرجہ بالا قصہ سنایا۔ (فتح المغيث: جلد 4 صفحہ 100)
ان تفصیلات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ جس خوش نصیب کو ایمان کی حالت میں رسول اللہﷺ کی زیارت نصیب ہو جائے، وہ صحابی ہے۔ اُمت پر اُس کا ادب و احترام لازم ہے اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے:
لا تمس النار مسلماً رآنی۔(ترمذی: 5838، وقال: حسن غریب)