خلافت سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر امت کا اجماع - دفاعِ اہلِ…

خلافت سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر امت کا اجماع

  علی محمد محمد الصلابی

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مہاجرین و انصار کے ہاں سیدنا علیؓ سے افضل کوئی نہ تھا اس لیے کہ آپ ابتداء ہی میں اسلام لانے والوں میں سے تھے، علم میں کامل تھے، نبی کریمﷺ کے قریب ترین نسبی رشتہ دار تھے، بہادر و خوددار تھے، اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت کرنے والے تھے، خوبیوں میں فائق، سبقت إلی الخیر میں افضل، درجات میں بلند، عالی نسب اور سیرت و کردار میں نبی کریمﷺ کے آئینہ دار تھے، تو سب کی نظریں خلافت کے لیے انھیں کی طرف گئیں اور سب نے حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کی، پھر ان کے علاوہ جو صحابہ کرامؓ مدینہ میں بستے تھے، انھوں نے بھی بالاتفاق حضرت علیؓ کے ہاتھوں پر بیعت خلافت کی۔ اسی اجماع صحابہؓ کے پیش نظر اہل سنت و جماعت کا بھی اجماع ہے کہ سیدنا عثمان غنیؓ کے بعد حضرت علیؓ ہی خلافت کے مستحق تھے اور شرعی خلیفہ ہونے کی حیثیت سے آپ کی اطاعت تمام مسلمانوں پر واجب ہوگئی اور ان سے بغاوت کرنا یا انھیں مخالفت و تنقید کا نشانہ بنانا حرام قرار پایا۔