سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سیدنا طلحہ اور زبیر رضی اللہ…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سیدنا طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

گویا اس جھوٹ کے لواحق اور سوابق پر غور کیے بغیر یہ کارستانی کی گئی ہے اور جہاں تک معترض کا یہ کہنا ہے کہ مفلوج ہاتھ نے بیعت کا آغاز کیا، تو اسے صحیح مان لینے کے باوجود یہ دلیل معترض کے حق میں نہیں بلکہ اس کے خلاف ہے، کیونکہ جو ہاتھ رسول اللہﷺ کی حفاظت میں مفلوج ہوا ہو اس کی سعادت کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں وہ ہاتھ پڑے، کام بحسن و خوبی اپنے انجام کو پہنچ جائے، اور ہر تکلیف دہ چیز سے حفاظت ہو جائے۔ بہرحال اللہ کی مرضی اور اس کے فیصلہ و تقدیر کے مطابق بیعت خلافت پایۂ تکمیل کو پہنچی۔

(العواصم من العواصم: صفحہ 148، 149)

جن روایات میں حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کی مجبوراً بیعت کا ذکر ملتا ہے وہ بلاشبہ باطل ہیں۔

(استشہاد عثمان: صفحہ 141)۔

اور صحیح روایات، جن میں سے ایک دو کو میں نے ذکر کیا ہے، اس بات پر صراحت سے دلالت کرتی ہیں کہ ان دونوں نے رضامندی سے تمام صحابہ کرامؓ کے ساتھ مل کر بیعت کی، اس پر مستزاد دیگر صحیح روایات بھی موجود ہیں جنھیں حافظ ابن حجرؒ نے احنف بن قیس کی سند سے ذکر کیا ہے۔

(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 38)۔

اور اس میں ہے کہ احنف نے شہادتِ عثمان کے بعد حضرت عائشہ، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کہ اب کس کے ہاتھ پر بیعت خلافت کی جائے، ان سب نے حضرت علیؓ پر بیعت کرنے کا مشورہ دیا۔

(استشہاد عثمان: صفحہ 141، المصنف: أبن ابی شیبۃ: جلد 11 صفحہ 118، اس کی سند میں عمر بن جاوان کے علاوہ تمام راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں اور عمر مقبول راوی ہیں اور ابن حجرؒ نے فتح الباری: جلد 13 صفحہ 38، میں اس سند کو صحیح کہا ہے۔)

یقیناً حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سبقت الی الاسلام اور فضیلت و رتبہ میں جو بلند مقام حاصل تھا، احکام کتاب وسنت کے جس طرح پابند تھے اور اپنے خطبات و مواعظ میں شرعی احکامات و منہیات کی تطبیق و تنفیذ پر ڈٹے رہنے کا جس طرح عہد کرتے تھے یہ تمام چیزیں قطعاً اس بات کے لیے مانع تھیں کہ کوئی بھی شخص آپ کو مسلمانوں کی امامت و قیادت سنبھالتے وقت حضرت علیؓ پر طعن وتشنیع کا دروازہ کھولتا۔ اس مقام پر ہم یہ بھی کہیں گے کہ صرف اسی پرخطر موقع پر نہیں، بلکہ حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کے بعد مسلمانوں کی امامت کے لیے جو لوگ مناسب ترین اور باصلاحیت سمجھے گئے تھے آپ ان میں سب پر فائق تھے، حضرت عمرؓ نے جو چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی آپ اس میں سے ایک تھے، ان میں چار یعنی عبدالرحمٰن، سعد، طلحہ، اور زبیر رضی اللہ عنہم بحیثیت اہل شوریٰ کے رکھا تھا، یہ سب حضرت علی اور عثمان رضی اللہ عنہما کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگئے تھے، اور ان دونوں کے لیے میدان خالی چھوڑ دیا تھا، گویا اہل شوریٰ کا یہ اجماع ہو چکا تھا کہ اگر عثمانؓ نہ ہوتے تو منصبِ خلافت کے حق دار حضرت علیؓ تھے۔ پھر جب حضرت عثمانؓ شہید کر دیے گئے، اور باشندگان مدینہ بالخصوص صحابہ نے آپ کو آگے بڑھایا، اور خلافت کے لیے آپ کو ترجیح دی تو آپ ہی خلافت کے مستحق ٹھہرے، کیونکہ اس وقت وہاں تمام اصحابِ رسولﷺ میں آپ سے زیادہ خلافت کا کوئی مستحق نہ تھا آپ مہاجرین اور سابقین اولین میں سے تھے رسول اللہﷺ کے عم زاد بھائی اور داماد تھے۔ مزید برآں حضرت علیؓ جس صلاحیت و اہلیت کے مالک تھے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا، بہادری، پیش قدمی، ذہانت اور بےمثال عدالتی فیصلوں کا ملکہ تھا، میدان جنگ میں عزم و ہمت کے پہاڑ بن جاتے، حق کے لیے نہایت سخت، اور معاملات پر گہری نظر رکھنے والے تھے پس یہ تمام تر مثالی اوصاف و اسباب مسلمانوں کے اس حساس و نازک ترین دورمیں باتفاق رائے صرف آپ کو مسلمانوں کی امامت وخلافت سونپنے کے متقاضی تھے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 91 صفحہ 91، 92)۔

 اس کے باوجود آپ کی خلافت اسی وقت صحیح تسلیم کی گئی جب مہاجرین اور انصار نے حضرت علیؓ کی بیعت پر اجماع کرلیا اور اس میں عملاً پیش پیش رہے۔ 

 


صفحہ 2 از 2