ابو بشیر عابدی کا بیان ہے کہ جب سیدنا عثمان غنیؓ کی شہادت ہوئی تو میں مدینہ میں تھا، تمام مہاجرین وانصار، انھیں میں حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما بھی تھے، حضرت علیؓ کے پاس آئے، اور کہنے لگے: اے ابو الحسن! آئیے ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کریں، حضرت علیؓ نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، میں تمھارے ساتھ ہوں، آپ لوگ جسے بھی منتخب کرلیں گے میں اس سے راضی ہوں، پھر انھوں نے آپس میں صلاح ومشورہ کیا اور کہا: واللہ ہم آپ کہ علاوہ کسی کو نہیں منتخب کرتے… الخ
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 448) اس کی سند حسن لغیرہٖ ہے۔ دیکھیے: حملۃ رسالۃ الاسلام الأولون: محب الدین الخطیب: صفحہ 57)۔
پھر اس روایت میں بیعت کے تمام مراحل اور تکمیل بیعت کا تفصیلی ذکر ہے، اس سلسلہ میں بہت سی روایات ہیں جن میں بعض کو ابن جریر نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے۔
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 488، 450) ڈاکٹر محمد أمحزون نے ان روایات کو جمع اور ان کی تحقیق کی ہے۔ دیکھیے: تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 59، 75)
مختصراً یہ کہ تمام روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مدینہ میں موجود تمام صحابہ کرامؓ نے بلا کسی اختلاف کے حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کرلی، اور ان میں حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے جیساکہ ابو بشیر عابدی کی مذکورہ روایت میں اس کی صراحت ہو چکی ہے البتہ جن روایات میں یہ بات ملتی ہے کہ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم نے رضا مندی سے نہیں بلکہ بلوائیوں کے زور زبردستی سے مجبور ہو کر بیعت کی تھی، یہ صحیح روایت سے قطعاً ثابت نہیں ہے بلکہ صحیح روایات اس سے یکسر مختلف ہیں۔
(الانتصارللصحب والآل: صفحہ 236)۔
چنانچہ طبری ہی نے عوف بن ابی جمیلہ سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد بن سیرین کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے: حضرت علیؓ حضرت طلحہؓ کے پاس خود گئے اور کہا: اے طلحہ! ہاتھ بڑھاؤ تاکہ میں تم سے بیعتِ خلافت کروں، لیکن حضرت طلحہؓ نے کہا آپ اس کے زیادہ مستحق ہیں اور آپ ہی امیرالمومنین ہیں، آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں، چنانچہ حضرت علیؓ نے ہاتھ بڑھایا اور حضرت طلحہؓ نے بیعت کی۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 456) الانتصار للصحب والآل: صفحہ 236)۔
اسی طرح عبد خیرالخیوانی سے روایت ہے کہ وہ ابو موسیٰؓ کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا: اے ابو موسیٰ! کیا ان دونوں نے یعنی طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے حضرت علیؓ سے بیعت کی تھی؟ ابو موسیٰ نے جواب دیا: ہاں۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 517)۔
اپنے وقت کے مایہ ناز محقق و امام ابن العربی رحمۃاللہ علیہ صراحتاً اس دعویٰ کو مسترد کرتے ہیں کہ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے مجبور ہو کر حضرت علیؓ کی خلافت پر بیعت کی تھی، یہ بات نہ ان دونوں کے شایانِ شان ہے، اور نہ ہی حضرت علیؓ کے۔
آپ لکھتے ہیں: ’’اگر کوئی یہ کہے کہ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے مجبور ہو کر بیعت کی تھی، تو ہم اس سے کہیں گے کہ اللہ کی پناہ ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ دونوں حضرت علیؓ کی بیعت خلافت پر مجبور کیے گئے ہوں، یا حضرت علیؓ کو مجبور کیا گیا ہو جن کے ہاتھ پر ان دونوں نے بیعت کی اور اگر ان دونوں کو بیعت پر مجبور ہی کیا گیا ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ معاملہ صرف ایک دو آدمیوں کا ہے۔ ان کی بیعت منعقد اور صحیح ہوگی کیونکہ بیعت عامہ ایک یا دو آدمیوں کے بغیر بھی منعقد ہوجاتی ہے، بقیہ لوگ جنھوں نے بیعت کی وہ اس بیعت اور اطاعت امام کے پابند ہوں گے۔ رہے مخالفت کرنے والے ایک دو لوگ تو ازروئے شرع بیعت کے لیے مجبور ہیں، اور اگر ان دونوں حضرات نے بیعت نہیں کی تو اس سے ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی امام کی بیعت کی درستگی پر کوئی فرق پڑتا ہے۔
جس نے یہ کہا کہ بیعت کا آغاز مفلوج ہاتھ نے کیا، جس کی وجہ سے معاملہ پورا نہیں ہوا
(ان روایات کی طرف اشارہ ہے جن میں آیا ہے کہ سیدنا علیؓ کی خلافت پر سب سے پہلے حضرت طلحہؓ نے بیعت کی تھی، چونکہ غزوۂ احد میں کاری زخم لگنے کی وجہ سے ان کا داہنا ہاتھ مفلوج ہو گیا تھا، اس لیے بیعت کے وقت ایک آدمی نے کہا: امیرالمومنین کی خلافت پر جس ہاتھ نے سب سے پہلے بیعت کی ہے وہ مفلوج ہے، اس لیے انجام کار پورا نہیں ہو سکتا۔ دیکھیے: تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 457، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 237)
تو یہ اس شخص کا گمان ہے جس کی نگاہ میں بیعت کرنے والے پہلے شخص حضرت طلحہؓ تھے، حالانکہ یہ بات خلاف واقع ہے۔
(اگر حضرت طلحہؓ کا ہاتھ پہلے بیعت کرنے کے لیے آگے بڑھا تو یہ عظیم ترین برکت کی علامت ہے کیونکہ یہ ہاتھ نبی کریمﷺ کے دفاع میں مفلوج ہوا تھا۔ اس سے تو اچھی فال لینا چاہیے نہ کہ بدشگونی۔ (مترجم)
لیکن اگر وہ شخص حضرت طلحہؓ کے اس قول کو لے کر ہم پر اعتراض کرے کہ ’’بَایَعْتُ وَاللَّجُّ عَلٰی قفیّ‘‘ یعنی میں نے اس حالت میں بیعت کی کہ تلوار میری گردن پر لٹک رہی تھی۔
(گویا دہشت گردی اتنے شباب پر تھی کہ اگر بیعت نہیں کرتا تو قتل کردیا جاؤں گا۔ (مترجم)
اس پر ہمارا جواب یہ ہے کہ یہ ایسے شخص کا وضع کردہ ہے جو قریش کی لغت سے واقف نہیں ہے۔ قریش کی لغت کو ہذیل کی لغت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ القفا، الہویٰ کے وزن پر قریش کے یہاں استعمال ہوتا ہے۔ قفی ہوی کے وزن پر ہذیل کی لغت ہے، قریش کی لغت کے مطابق قفای ہونا چاہیے۔
(ایک یہ بھی ہے کہ ’’قفی‘‘ قریش کی نہیں بلکہ قبیلہ ’’طے‘‘ کی لغت ہے، دیکھیے: النہایۃ: ابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 94) اسی طرح ’’اللج‘‘ بھی قریش کی نہیں بلکہ قبیلۂ ’’طے‘‘ کی لغت ہے، ابن الاثیر فرماتے ہیں: ’’اللج‘‘ ضمّہ کے ساتھ’’طے‘‘ والوں کی لغت میں تلوار کا معنیٰ دیتا ہے۔ جلد 4 صفحہ 234) اور ایک روایت میں اسے تلوار کے معنیٰ ہذیل اور بعض یمنی قبائل کی لغت بتائی گئی، دیکھیے: لسان لعرب: جلد 2 صفحہ 354)
گویا اس جھوٹ کے لواحق اور سوابق پر غور کیے بغیر یہ کارستانی کی گئی ہے اور جہاں تک معترض کا یہ کہنا ہے کہ مفلوج ہاتھ نے بیعت کا آغاز کیا، تو اسے صحیح مان لینے کے باوجود یہ دلیل معترض کے حق میں نہیں بلکہ اس کے خلاف ہے، کیونکہ جو ہاتھ رسول اللہﷺ کی حفاظت میں مفلوج ہوا ہو اس کی سعادت کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں وہ ہاتھ پڑے، کام بحسن و خوبی اپنے انجام کو پہنچ جائے، اور ہر تکلیف دہ چیز سے حفاظت ہو جائے۔ بہرحال اللہ کی مرضی اور اس کے فیصلہ و تقدیر کے مطابق بیعت خلافت پایۂ تکمیل کو پہنچی۔
(العواصم من العواصم: صفحہ 148، 149)
جن روایات میں حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کی مجبوراً بیعت کا ذکر ملتا ہے وہ بلاشبہ باطل ہیں۔
(استشہاد عثمان: صفحہ 141)۔
اور صحیح روایات، جن میں سے ایک دو کو میں نے ذکر کیا ہے، اس بات پر صراحت سے دلالت کرتی ہیں کہ ان دونوں نے رضامندی سے تمام صحابہ کرامؓ کے ساتھ مل کر بیعت کی، اس پر مستزاد دیگر صحیح روایات بھی موجود ہیں جنھیں حافظ ابن حجرؒ نے احنف بن قیس کی سند سے ذکر کیا ہے۔
(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 38)۔
اور اس میں ہے کہ احنف نے شہادتِ عثمان کے بعد حضرت عائشہ، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کہ اب کس کے ہاتھ پر بیعت خلافت کی جائے، ان سب نے حضرت علیؓ پر بیعت کرنے کا مشورہ دیا۔
(استشہاد عثمان: صفحہ 141، المصنف: أبن ابی شیبۃ: جلد 11 صفحہ 118، اس کی سند میں عمر بن جاوان کے علاوہ تمام راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں اور عمر مقبول راوی ہیں اور ابن حجرؒ نے فتح الباری: جلد 13 صفحہ 38، میں اس سند کو صحیح کہا ہے۔)
یقیناً حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سبقت الی الاسلام اور فضیلت و رتبہ میں جو بلند مقام حاصل تھا، احکام کتاب وسنت کے جس طرح پابند تھے اور اپنے خطبات و مواعظ میں شرعی احکامات و منہیات کی تطبیق و تنفیذ پر ڈٹے رہنے کا جس طرح عہد کرتے تھے یہ تمام چیزیں قطعاً اس بات کے لیے مانع تھیں کہ کوئی بھی شخص آپ کو مسلمانوں کی امامت و قیادت سنبھالتے وقت حضرت علیؓ پر طعن وتشنیع کا دروازہ کھولتا۔ اس مقام پر ہم یہ بھی کہیں گے کہ صرف اسی پرخطر موقع پر نہیں، بلکہ حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کے بعد مسلمانوں کی امامت کے لیے جو لوگ مناسب ترین اور باصلاحیت سمجھے گئے تھے آپ ان میں سب پر فائق تھے، حضرت عمرؓ نے جو چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی آپ اس میں سے ایک تھے، ان میں چار یعنی عبدالرحمٰن، سعد، طلحہ، اور زبیر رضی اللہ عنہم بحیثیت اہل شوریٰ کے رکھا تھا، یہ سب حضرت علی اور عثمان رضی اللہ عنہما کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگئے تھے، اور ان دونوں کے لیے میدان خالی چھوڑ دیا تھا، گویا اہل شوریٰ کا یہ اجماع ہو چکا تھا کہ اگر عثمانؓ نہ ہوتے تو منصبِ خلافت کے حق دار حضرت علیؓ تھے۔ پھر جب حضرت عثمانؓ شہید کر دیے گئے، اور باشندگان مدینہ بالخصوص صحابہ نے آپ کو آگے بڑھایا، اور خلافت کے لیے آپ کو ترجیح دی تو آپ ہی خلافت کے مستحق ٹھہرے، کیونکہ اس وقت وہاں تمام اصحابِ رسولﷺ میں آپ سے زیادہ خلافت کا کوئی مستحق نہ تھا آپ مہاجرین اور سابقین اولین میں سے تھے رسول اللہﷺ کے عم زاد بھائی اور داماد تھے۔ مزید برآں حضرت علیؓ جس صلاحیت و اہلیت کے مالک تھے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا، بہادری، پیش قدمی، ذہانت اور بےمثال عدالتی فیصلوں کا ملکہ تھا، میدان جنگ میں عزم و ہمت کے پہاڑ بن جاتے، حق کے لیے نہایت سخت، اور معاملات پر گہری نظر رکھنے والے تھے پس یہ تمام تر مثالی اوصاف و اسباب مسلمانوں کے اس حساس و نازک ترین دورمیں باتفاق رائے صرف آپ کو مسلمانوں کی امامت وخلافت سونپنے کے متقاضی تھے۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 91 صفحہ 91، 92)۔
اس کے باوجود آپ کی خلافت اسی وقت صحیح تسلیم کی گئی جب مہاجرین اور انصار نے حضرت علیؓ کی بیعت پر اجماع کرلیا اور اس میں عملاً پیش پیش رہے۔