سیدہ ام کلثوم بنت علی کا سیدنا عمر فاروق سے بابرکت نکاح…

سیدہ ام کلثوم بنت علی کا سیدنا عمر فاروق سے بابرکت نکاح ۔اہل سنت معتبر کتب

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

عبداللہ البہی رحمہ اللہ (تابعی صدوق) سے روایت ہے کہ :
“شھدت ابن عمر صلی علیٰ ام کلثوم و زید بن عمر بن الخطاب۔۔۔” 
میں نے دیکھا کہ ابن عمر (رضی اللہ عنہ) نے ام کلثوم اور زید بن عمر بن الخطاب کا جنازہ پڑھا۔۔۔(طبقات ابن سعد 468/8 و سندہ حسن)
اس جنازے کے بارے میں عمار بن ابی عمار (ثقہ و صدوق) نے کہا کہ میں بھی وہاں حاضر تھا۔ (طبقات بن سعد 8/468 و سندہ صحیح)

  عطاء الخراسانی رحمہ اللہ نے کہا:
عمر (رضی اللہ عنہ) نے ام کلثوم بنت علی کو چالیس ہزار کا مہر دیا تھا۔ (طبقات ابن سعد 8/463-466)
اس روایت کی سند عطاء الخراسانی تک حسن ہے۔

درج بالا  صحیح روایات کی تائید میں ائمہ اہل بیت اور علمائے کرام کے کچھ اقوال اور مزید حوالے پیش خدمت ہیں:

   5 المستدرک للحاکم سے ثبوت 

امام علی بن الحسین: زین العابدین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ:

“ان عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ خطب الیٰ علی رضی اللہ عنہ ام کلثوم فقال: انکحنیھا فقال علی: انی ارصدھا لابن اخی عبداللہ بن جعفر فقال عمر: انکحنیھا فو اللہ ما من الناس احد یرصد من امرھا ما ارصدہ، فانکحہ علی فاتی عمر المھاجرین فقال: الاتھنونی؟

فقالوا: بمن یاامیر المومنین؟ فقال: بام کلثوم بنت علی وا بنۃ فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔”

بے شک عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے ام کلثوم کا رشتہ مانگا، کہا: اس کا نکاح میرے ساتھ کر دیں۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اسے اپنے بھتیجے عبداللہ بن جعفر (رضی اللہ عنہ) کے لئے تیار کر رہا ہوں۔

پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کا نکاح میرے ساتھ کر دیں۔ کیونکہ اللہ کی قسم! جتنی مجھے اس کی طلب ہے لوگوں میں سے کسی کو اتنی طلب نہیں ہے۔

(یا مجھ سے زیادہ اس کے لائق دوسرا کوئی نہیں ہے۔)

پھر علی (رضی اللہ عنہ ) نے اسے (ام کلثوم کو) ان (عمر) کے نکاح میں دے دیا۔

پھر عمر رضی اللہ عنہ مہاجرین کے پاس آئے تو کہا: کیا تم مجھے مبارکباد نہیں دیتے؟

انہوں نے پوچھا: اے امیر المومنین! کس چیز کی مبارکباد؟

تو انہوں نے فرمایا: فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی مبارکباد۔۔۔

(المستدرک للحاکم 3/142 حدیث 4684 و سندہ حسن، وقال الحاکم: “صحیح الاسناد” وقال الذہبی: ” منقطع” السیرۃ لابن اسحاق ص 275-276 و سندہ صحیح) علی بن الحسین بن ابی طالب رحمہ اللہ تک سند حسن لذاتہ ہے، جو کہ ائمہ اہل بیت میں سے تھے اور ان کی یہ روایت سابقہ احادیث صحیحہ کی تائید میں ہے۔

6  سنن سعید بن منصور سے ثبوت

امام محمد بن علی بن الحسین الباقر ابو جعفر رحمہ اللہ نے فرمایا:
عمر نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ان کی بیٹی ام کلثوم کا رشتہ مانگا تو علی نے فرمایا: میں نے اپنی بیٹیاں بنو جعفر (جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اولاد) کے لئے روک رکھی ہیں تو انہوں (عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا: آپ میرے ساتھ ان (ام کلثوم) کا نکاح کر دیں۔ کیونکہ اللہ کی قسم! روئے زمین پر میرے علاوہ دوسرا کوئی بھی ان کی حسن معاشرت کا طلبگار نہیں ہے۔ 
پھر علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “قد انکحتکھا” میں نے اس کا نکاح تمہارے ساتھ کر دیا۔۔۔الخ
(سنن سعید بن منصور 1/146 حدیث 520 و سندہ صحیح، طبقات ابن سعد 8/463)

7 السیرت لابن اسحاق سے ثبوت

عاصم بن عمر بن قتادہ المدنی (ثقہ عالم بالغازی) رحمہ اللہ نے فرمایا: 
عمر بن خطاب نے علی بن ابی طالب سے ان کی لڑکی ام کلثوم کا رشتہ مانگا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ کی بیٹی تھیں۔۔۔”فزوجھا ایاہ” پھر انہوں (علی رضی اللہ عنہ) نے اس (ام کلثوم رضی اللہ عنہا) کا نکاح ان (عمر رضی اللہ عنہ) سے کر دیا۔ (السیرۃ لابن اسحاق صفحہ 275 وسندہ حسن)

8 تاریخ لابن عساکر سے ثبوت

  امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ (تابعی) نے فرمایا:
“واما ام کلثوم بنت علی فتزوجھا عمر بن الخطاب فولدت لہ زید بن عمر۔۔۔
اور ام کلثوم بنت علی سے عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہما) نے شادی کی تو ان کا بیٹا زید بن عمر پیدا ہوا۔۔۔(تاریخ دمشق لابن عساکر 21/342 و سندہ حسن)

ان کے علاوہ اہل سنت کی کتابوں میں اور بھی بہت سے حوالے ہیں جن سے ہمارے عنوان کا ثبوت ملتا ہے اور متعدد علماء نے اس کی صراحت کر رکھی ہے کہ ام کلثوم بنت علی کا نکاح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا۔ مثلاً دیکھئے:
1۔ التاریخ الاوسط للبخاری (1/672 ح 379، ص 674 ح 380،381)
2۔ کتاب الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم (3/568)
3۔ طبقات ابن سعد (3/265)
4۔ کتاب الثقات لابن حبان (2/216)


صفحہ 2 از 2