سیدنا علیؓ خلافت کے سب سے زیادہ مستحق اور موزوں تھے - دفاعِ…

سیدنا علیؓ خلافت کے سب سے زیادہ مستحق اور موزوں تھے

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

’’جب مسلمانوں میں پھوٹ پڑ جانے کے وقت ایک فرقہ نکلے گا اسے دونوں میں سے جو حق سے زیادہ قریب ہوگا وہی قتل کرے گا۔‘‘

دوسری روایت کے الفاظ اس طرح ہیں:

تَکُوْنَ فِیْ أُمَّتِیْ فِرْقَتَانِ فَیَخْرُجُ مِنْ بَیْنِہِمَا مَارِقَۃٌ، یَلِیْ قَتْلُہُمْ أَوْلَاہُمْ بِالْحَقِّ۔

(صحیح مسلم: باب 47 حدیث نمبر 151)۔

’’ میری امت میں دو گروہ ہو جائیں گے اور ان میں سے ایک فرقہ نکلے گا، اسے وہ گروہ قتل کرے گا جو حق سے قریب تر ہوگا۔‘‘

تیسری روایت کے الفاظ ہیں:

تَمْرُقُ مَارِقَۃٌ فِیْ فِرْقَۃٍ مِّنَ النَّاسِ، 

فَیَلِیْ قَتْلُہُمْ أَوْلَی الطَّائِفَتَیْنِ بِالْحَقِّ۔

’’جب لوگوں میں پھوٹ ہو جائے گی تو ایک فرقہ نکلے گا، اسے دونوں گروہوں میں جو حق سے قریب تر ہوگا وہی قتل کرے گا۔‘‘

چوتھی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

یَخْرُجُوْنَ عَلٰی فِْرقَۃٍ مُّخْتَلِفَۃٍ یَقْتُلُہُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَیْنِ مِنَ الْحَقِّ۔

(صحیح مسلم: الزکاۃ باب: 47، 1064، (150-153، (مترجم) ان روایات کے اندر اَوْلَی الطَّائِفَتَیْنِ مِنَ الْحَقِّ. ان دونوں گروہوں میں سے جو حق سے قریب تر ہوگا) جس سے واضح ہے کہ یہاں ایک کو حق دوسرے کو باطل نہیں کہا گیا ہے اس لیے طرفین میں سے کسی کو ہدف ملامت نہیں بنایا جا سکتا ہے، صرف اقرب و قریب کا فرق ہے

’’وہ اختلاف کے وقت نکلیں گے، انھیں وہ جماعت قتل کرے گی جو دونوں میں سے حق سے زیادہ قریب ہوگی۔‘‘

ان تمام احادیث میں نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کی جماعت سے خروج کرنے والے فرقہ کے ظہور کا وقت یہ بتایا ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں اختلاف رونما ہوگا اور اس اختلاف سے مراد سیدنا علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان واقع ہونے والا اختلاف ہے۔

(شرح النووی علی صحیح مسلم: جلد 7 صفحہ 166)۔

اور جو فرقہ اس جماعت سے سب سے پہلے الگ ہوا وہ اہل نہروان کا تھا جو کہ معرکۂ صفین میں حضرت علیؓ کے لشکر میں شامل تھے، لیکن جب ’’حکمین‘‘ کو فیصل ماننے کے لیے سیدنا علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما باہم متفق ہوگئے تو اہلِ نہروان نے یہ کہتے ہوئے بغاوت کا اعلان کردیا کہ علی اور معاویہ دونوں نے ہی کفر کی طرف سبقت کی ہے، معاویہ کا کفر یہ ہے کہ انھوں نے علی سے قتال کیا، اور علی کا کفر یہ ہے کہ تحکیم کو قبول کر لیا، اور پھر انھوں نے طلحہ اور زبیر (رضی اللہ عنہما) کی بھی تکفیر کی، چنانچہ ان خوارج سے حضرت علیؓ نے جنگ کی، اور کیفر کردار تک پہنچایا پس نبویﷺ پیشین گوئی کی روشنی میں خوارج سے جنگ کرنے والی حضرت علیؓ کی جماعت ہی حق سے قریب ترین تھی، گویا حضرت علیؓ اور آپ کے ساتھیوں کے برحق ہونے کی یہ شہادت نبوی ہے اور یہ آپ کا معجزہ رہا کیونکہ آپ کی پیشین گوئی کے مطابق حرف بہ حرف واقعہ اسی طرح پیش آیا۔ پس تمام قرائن و دلائل اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ کی خلافت صحیح تھی، اور ان کی مخالفت کرنے والے غلطی پر تھے۔

(منہاج القاصدین فی فضل الخلفاء الراشدینؓ ابن قدامہ: صفحہ 75، 76) بحوالہ عقیدۃ أہل السنۃ والجماعۃ: جلد 2 صفحہ 683) یہاں یہ حقیقت واضح رہے کہ حضرت علیؓ کی خلافت پر کسی کو اعتراض نہیں تھا۔ معاویہ، زبیر، طلحہ اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہم آپ کی خلافت کے مخالف نہ تھے، بلکہ وہ اختلاف جو رونما ہوا وہ قاتلین عثمان سے قصاص لینے کا مسئلہ تھا یہ حضرات خلیفہ وقت سے قاتلین عثمان پر نفاذ قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے اور حضرت علیؓ اس کے فوری نفاذ کو صورتِ حال کے پیش نظر مصلحت کے خلاف سمجھ رہے تھے۔ قاتلینِ عثمانؓ آپ کے پرچم تلے جمع تھے اور امت اسلامیہ کا شیرازہ منتشر کرنے میں لگے تھے۔ سیدنا علیؓ صورت حال سے بخوبی واقف تھے اور آپ کو نفاذ قصاص کا امکان نظر نہ آرہا تھا۔ اور یہ قاتلین عثمان ہی تھے جنھوں نے اپنے بچاؤ کے لیے دونوں جماعتوں کو آپس میں ٹکرا دیا ورنہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی تھا۔

رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: 

لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَقْتُلَ فِئَتَانِ عَظِیْمَتَانِ وَتَکُوْنَ بَیْنَہُمَا فقتلہ عظیمۃ وَدَعْوَاہُمَا وَاحِدَۃٌ۔

(متفق علیہ: رواہ مسلم فی الفتن: جلد 17 صفحہ 157) ’’قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک مسلمانوں کی دو عظیم جماعتیں قتال نہ کریں، دونوں کے مابین عظیم جنگ ہوگی اور ان دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا۔‘‘ (مترجم)


صفحہ 3 از 3