سیدنا علیؓ خلافت کے سب سے زیادہ مستحق اور موزوں تھے - دفاعِ…

سیدنا علیؓ خلافت کے سب سے زیادہ مستحق اور موزوں تھے

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

4: حضرت عکرمہؓ کا بیان ہے کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے اور علی سے فرمایا تم دونوں ابو سعید کے پاس جاؤ اور ان سے احادیث سنو چنانچہ ہم دونوں ان کے پاس گئے دیکھا تو وہ اپنے باغ میں کام کررہے تھے ہمیں دیکھ کر انھوں نے اپنی چادر سنبھالی اور گوٹ مار کر بیٹھ گئے، پھر ہم سے حدیث بیان کرنے لگے، جب مسجد نبویﷺ کی تعمیر کا تذکرہ ہوا، وہ کہنے لگے: ہم لوگ ایک ایک اینٹ اٹھا رہے تھے اور عمار دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے، نبی کریمﷺ نے ان کو دیکھا تو ان کے جسم سے دھول مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا:

(وَیْح عَمَّار (ویح: کلمۂ ترحم ہے، اگر کوئی شخص بلاوجہ ہلاکت کا شکار ہوجائے تو وہاں بطور دعائے رحمت اس کے لیے یہ کلمہ بولا جاتا ہے۔ 

دیکھیے: غریب الحدیث: ابن الجوزی: جلد 2 صفحہ 486،

لطائف فی غریب الحدیث: جلد 4 صفحہ 85، النہایۃ: جلد 5 صفحہ 235)

تَقْتُلُہٗ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ یَدْعُوْہُمْ اِلَی الْجَنَّۃِ وَیَدَعُوْنَہٗ اِلَی النَّارِ۔

’’افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی، جسے عمار جنت کی دعوت دیں گے اور وہ جماعت عمار کو جہنم کی دعوت دے رہی ہوگی۔‘‘

ابو سعید خدریؓ نے بیان کیا کہ حضرت عمارؓ کہہ رہے تھے کہ ’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْفِتَنِ‘‘ میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ 

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 447)۔

اور صحیح مسلم کی روایت میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ جس وقت خندق کھود رہے تھے اور آپﷺ ان کے سر سے مٹی جھاڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے:

بؤسُ ابْنِ سُمَیَّۃَ تَقْتُلَکَ فِئَۃٌ بَاغِیَۃٌ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2235)۔

’’اے سمعیہ کے بیٹے! افسوس تمھاری خستہ حالی اور مظلومیت پر تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔ ‘‘

امام ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ نبی کریمﷺ کی پیشین گوئی ’’تَقْتُلَ عَمَّارًا اَلْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2235)۔

ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: نبی کریمﷺ کا یہ فرمان حضرت علیؓ کی امامت کی درستگی اور ان کی اطاعت کے وجوب کی دلیل ہے، جو شخص آپﷺ کی اطاعت کی طرف بلائے، وہ جنت کی طرف بلا رہا ہے اور جو شخص کسی کو ان سے قتال پر ابھارے، وہ جہنم کی طرف بلارہا ہے۔ خواہ وہ اس کا ارتکاب کسی تاویل کے نتیجہ میں کرے یا بغیر تاویل بغاوت سے طور سے کرے۔ ہمارے اصحاب و اسلاف کے دو اقوال میں صحیح ترین قول یہی ہے کہ جن لوگوں نے حضرت علیؓ سے قتال کیا انھیں غلطی کا مرتکب قرار دیا جائے یہی ان ائمہ فقہ کا بھی مسلک ہے جنھوں نے اسی واقعہ کو بنیاد بنا کر یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ جو لوگ تاویل کے نتیجہ میں حکام و ائمۃ المسلمین سے بغاوت کریں ان سے قتال کرنا جائز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب امام شافعی رحمۃاللہ علیہ نے حضرت علیؓ کے طرزِ عمل کو بنیاد بنا کر تاویل کے نتیجہ میں ائمۃ المسلمین سے بغاوت کرنے والوں سے قتال کرنے کا فتویٰ دیا تو یحییٰ بن معین نے ان پر اعتراض کیا، اور کہا: کیا طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما بھی باغیوں کے حکم میں ہوں گے؟ لیکن امام احمد ابن حنبلؒ نے یحییٰ بن معین کے اس اشکال کی تردید کی اور کہا: آپ پر حیرت ہے! اس مقام پر اگر امام شافعیؒ حضرت علیؓ کے موقف، اور ان کے طرزِ عمل کی اقتدا نہ کرتے تو اس کا حل کہاں ڈھونڈتے بالخصوص جب کہ باغیوں سے قتال کے سلسلہ میں ان کے سامنے خلفائے راشدینؓ میں سے اور کسی کی کوئی سنت موجود نہ تھی۔ پھر آگے چل کر امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ حالانکہ امام احمدؒ اور ائمہ سنت میں سے کسی کو اس بات میں کوئی تردّد نہیں۔

(مجموع الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 437 ،438)۔

ہاں اگر کوئی اعتراض کرے کہ حضرت عمارؓ کی شہادت معرکۂ صفین میں ہوئی اور وہ اس وقت حضرت علیؓ کے ساتھ تھے جب کہ ان کے مقابلہ میں حضرت معاویہؓ کی جماعت تھی، جس میں صحابہ کرامؓ بھی شریک تھے، لہٰذا ان کے بارے میں یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ جہنم کی طرف بلارہے تھے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے علم اور اجتہاد کے مطابق یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ فریق مخالف کو جنت ہی کی طرف بلا رہے ہیں۔ اپنے علم و اجتہاد کے مطابق عمل پیرا ہونے میں وہ قابل ملامت ہرگز نہیں ہو سکتے اور جنت کی طرف بلانے سے مراد یہ ہے کہ وہ اس عمل کی طرف دعوت دے رہے تھے جو دخول جنت کا سبب تھا یعنی امام کی اطاعت۔ 

حضرت عمارؓ حضرت علیؓ کی اطاعت کی طرف بلارہے تھے کیونکہ وہی اس وقت مسلمانوں کے امام تھے جن کی اطاعت واجب تھی جب کہ فریق مخالف کا معاملہ اس کے برعکس تھا، لیکن چوں کہ یہ لوگ اپنے اجتہاد و تاویل کی بنا پر ایسا کر رہے تھے اس لیے معذور سمجھے جائیں گے ان پر کوئی ملامت نہیں۔ 

(فتح الباری: جلد 1 صفحہ 542)

ا: مام نووی رحمۃاللہ علیہ فرمان نبوی ’’بُؤسِی ابْنُ سُمَیَّۃَ تَقْتُلُہُ فِئَۃٌ بَاغِیَۃٌ‘‘ (صحیح مسلم: حدیث نمبر 2235) کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: 

’’علماء کا کہنا ہے کہ یہ حدیث اس بات کی قوی اور ٹھوس دلیل ہے کہ حضرت علیؓ اپنے فیصلہ میں برحق اور اجتہاد میں درستگی پر تھے اور دوسری جماعت باغی تھی، لیکن چونکہ دوسری جماعت کا اقدام ان کی اجتہادی غلطی پر مبنی تھا اس لیے وہ اس معاملہ میں گناہ گار نہیں کہے جائیں گے۔ نیز اس حدیث میں کئی طرح سے نبی کریمﷺ کے معجزہ کا ظہور ہے، مثلاً آپ نے یہ پیشین گوئی فرمائی تھی کہ عمار کی موت قتل کے ذریعہ سے ہوگی اور قاتلین مسلمان ہی ہوں گے، وہ بغاوت کرنے والے ہوں گے، نیز یہ کہ صحابہ کرامؓ باغی اور غیرباغی دو دھڑوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ چنانچہ یہ ساری باتیں صبح کی سفیدی کی طرح صاف صاف منظر عام پر آئیں، اللہ کی رحمتیں نازل ہوں نبی اکرمﷺ پر جو کہ بات خواہشات نفس کے تابع ہو کر نہیں بولتے، بلکہ وہ اللہ کی وحی ہوتی ہے جو ان کی زبان پر نازل ہوتی ہے۔"

(شرح صحیح مسلم: باب 47) حدیث نمبر 150)۔

5: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

تَمْرَقُ مَارِقَۃٌ عِنْدَ فُرْقَۃٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ یَقْتُلُہَا أَوْلَی الطَّائِفَتَیْنِ بِالْحَقِّ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2460)۔

صفحہ 2 از 3