سیدنا علیؓ خلافت کے سب سے زیادہ مستحق اور موزوں تھے - دفاعِ…

سیدنا علیؓ خلافت کے سب سے زیادہ مستحق اور موزوں تھے

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

بلاشبہ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی خلافت کے سب سے زیادہ مستحق تھے، اہل سنت والجماعت کا یہی عقیدہ ہے اور خلافت راشدہ کی ترتیب شمار کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کو یہی عقیدہ رکھنا چاہیے، اور اللہ سے ثواب کی امید لگانا چاہیے۔ ایسی بہت سی شرعی نصوص ہیں جن میں حضرت علیؓ کی خلافت کے لیے سب سے زیادہ مستحق موزوں ہونے کا اشارہ ملتا ہے، ان میں سے چند یہ ہیں:

1:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌۞ (سورۃ النور آیت 55)

ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ 

اس آیت کریمہ سے سیدنا علیؓ کے استحقاق خلافت پر اس طرح استدلال کیا گیا ہے کہ آپ منصبِ خلافت سنبھالنے کے بعد ان خلفاء میں سے ایک ثابت ہوئے جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دین کو غالب کیا۔

2: رسول اکرمﷺ کا ارشاد ہے:

عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلْفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ مِنْ بَعْدِیْ تَمَسَّکُوا بِہَا وَعَضُّوا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ۔

(سنن ابی داؤد: جلد 4 صفحہ 201) سنن الترمذی: جلد 5 صفحہ 44) حسن صحیح۔)

’’تم لوگ میری سنت اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کے طریقے کو لازم پکڑو، اسے مضبوطی سے تھام لو، اور مضبوطی کے ساتھ دانتوں سے جکڑ لو۔‘‘

اس حدیث میں خلافتِ علیؓ کے استحقاق کی دلیل یہ ہے کہ آپ ان ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ میں سے ایک ثابت ہوئے جنھوں نے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا پورا پورا اہتمام کیا۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کی، نماز و زکوٰۃ کے نظام کو قائم کیا اور عدل وحق کی برتری و قیام کے لیے سیرت رسولﷺ کو نمونہ بنایا۔

3: نبیﷺ کا ارشادہے:

خِلَافَۃُ النُّبُوَّۃِ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُوتِی اللّٰہُ الْمُلْکَ مَن یَّشَائُ۔

(صحیح ابن حبان: حدیث نمبر 6657)

المعجم الکبیر: الطبرانی: 6442)

السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 1 صفحہ 742، 749)۔

’’خلافتِ علیؓ منہاج النبوہ کی مدت تیس سال ہے پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بادشاہت دے گا۔‘‘

اس حدیث میں بھی حضرت علیؓ کے استحقاق خلافت کی طرف اشارہ ملتا ہے، کیونکہ خلافت علی منہاج النبوہ کی جو مدت نبی کریمﷺ نے مقرر کی ہے اس اعتبار سے ہجرت نبوی کی تیسری دہائی کے اخیر میں آپ کی خلافت منعقد ہوئی۔ اہل علم کا قول اس حدیث سے مطابق ہے۔

(عقیدہ أہل السنۃ والجماعۃ: جلد 2 صفحہ 686)۔

چنانچہ امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا:

’’خلافت علی منہاج النبوۃ کے بارے میں سفینہؓ سے مروی حدیث صحیح ہے، اور خلفاء کی مدت خلافت کے بارے میں میرا اسی طرف رجحان ہے۔‘‘

(السنۃ: عبداللّٰہ ابن حنبل: صفحہ 235)۔

عبداللہ بن احمدؒ کا قول ہے کہ میں نے اپنے باپ سے کہا کہ کچھ لوگ حضرت علیؓ کو خلیفہ نہیں مانتے؟ امام احمد بن حنبلؒ نے جواب دیا: یہ بہت بری اور گھٹیا بات ہے، رسولﷺ کے صحابہؓ ان کو اے امیرالمومنین! کہہ کر پکارتے تھے، کیا ہم ان تمام صحابہؓ کو جھٹلا دیں، جب کہ حضرت علیؓ نے حج کی امارت کی، چور کا ہاتھ کاٹا اور شادی شدہ زانی کو رجم کیا، یہ سب خلیفہ ہی کے فرائض ہیں، عام آدمیوں کے نہیں۔

(السنۃ: عبداللہ بن احمد بن حنبل: صفحہ 235) عقیدۃ أہل السنۃ فی الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 68)۔

امام ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ حضرت سفینہؓ کی اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’حماد بن سلمہ، عبدالوارث بن سعید‘‘ اور عوام بن حوشب کی روایت سے یہ حدیث مشہور ہے۔ ان سب نے اس حدیث کو سعید بن جہمان کے واسطہ سے رسول اللہﷺ کے غلام حضرت سفینہؓ سے روایت کیا ہے اور ابو داؤد وغیرہ نے اس کی روایت کی ہے اور چاروں خلفائے راشدینؓ کی خلافت کے اثبات میں امام احمدؒ وغیرہ نے اس حدیث پر اعتماد کیا ہے اور حضرت علیؓ کی شخصیت کے سلسلہ میں لوگوں کے اختلاف کی وجہ سے ان کی خلافت تسلیم نہ کرنے والوں کے خلاف اس حدیث سے حجت قائم کی ہے اور کہا ہے کہ جو شخص حضرت علیؓ کو چوتھا خلیفہ نہ مانے وہ اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ گمراہ ہے، اور آپ نے ایسے شخص سے نکاح و مناکحت سے منع کیا ہے۔‘‘

(یہ کتابچہ امام صاحب کے ہاتھوں کا مسودہ ہے، جو فی الحال مکتبہ ظاہریہ میں موجود ہے، بحوالہ عقیدہ أہل السنۃ والجماعۃ: جلد 2 صفحہ 286، نیز دیکھیے: الصحیحۃ للألبانی: جلد 1 صفحہ 744، (مترجم)

امام ابو جعفر الطحاوی حنفی کی کتاب’’ العقیدہ الطحاویہ‘‘ کے شارح لکھتے ہیں: 

’’حضرت عثمانؓ کے بعد ہم حضرت علیؓ کی خلافت ثابت کرتے ہیں، کیونکہ جب حضرت عثمانؓ شہید کر دیے گئے اور لوگوں نے حضرت علیؓ کے ہاتھوں پر بیعتِ خلافت کر لی، تو حضرت علیؓ یقیناً شرعی امام منتخب ہو گئے، اور آپ کی اطاعت واجب ہو گئی، آپ بھی بحیثیت خلیفہ خلافت علی منہاج النبوۃ کی ایک کڑی تھے، جیساکہ حضرت سفینہؓ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: 

خِلَافَۃُ النُّبُوَّۃِ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُؤْتِی اللّٰہُ مُلْکَہُ مَنْ یَّشَآئُ۔

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ: صفحہ 545،

السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 1 صفحہ 742، 749)۔

خلافت علی منہاج النبوۃ کی مدت تیس سال ہے، پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بادشاہت دے گا۔‘‘

صفحہ 1 از 3