بلاشبہ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی خلافت کے سب سے زیادہ مستحق تھے، اہل سنت والجماعت کا یہی عقیدہ ہے اور خلافت راشدہ کی ترتیب شمار کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کو یہی عقیدہ رکھنا چاہیے، اور اللہ سے ثواب کی امید لگانا چاہیے۔ ایسی بہت سی شرعی نصوص ہیں جن میں حضرت علیؓ کی خلافت کے لیے سب سے زیادہ مستحق موزوں ہونے کا اشارہ ملتا ہے، ان میں سے چند یہ ہیں:
1:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا۞ (سورۃ النور آیت 55)
ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔
اس آیت کریمہ سے سیدنا علیؓ کے استحقاق خلافت پر اس طرح استدلال کیا گیا ہے کہ آپ منصبِ خلافت سنبھالنے کے بعد ان خلفاء میں سے ایک ثابت ہوئے جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دین کو غالب کیا۔
2: رسول اکرمﷺ کا ارشاد ہے:
عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلْفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ مِنْ بَعْدِیْ تَمَسَّکُوا بِہَا وَعَضُّوا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ۔
(سنن ابی داؤد: جلد 4 صفحہ 201) سنن الترمذی: جلد 5 صفحہ 44) حسن صحیح۔)
’’تم لوگ میری سنت اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کے طریقے کو لازم پکڑو، اسے مضبوطی سے تھام لو، اور مضبوطی کے ساتھ دانتوں سے جکڑ لو۔‘‘
اس حدیث میں خلافتِ علیؓ کے استحقاق کی دلیل یہ ہے کہ آپ ان ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ میں سے ایک ثابت ہوئے جنھوں نے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا پورا پورا اہتمام کیا۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کی، نماز و زکوٰۃ کے نظام کو قائم کیا اور عدل وحق کی برتری و قیام کے لیے سیرت رسولﷺ کو نمونہ بنایا۔
3: نبیﷺ کا ارشادہے:
خِلَافَۃُ النُّبُوَّۃِ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُوتِی اللّٰہُ الْمُلْکَ مَن یَّشَائُ۔
(صحیح ابن حبان: حدیث نمبر 6657)
المعجم الکبیر: الطبرانی: 6442)
السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 1 صفحہ 742، 749)۔
’’خلافتِ علیؓ منہاج النبوہ کی مدت تیس سال ہے پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بادشاہت دے گا۔‘‘
اس حدیث میں بھی حضرت علیؓ کے استحقاق خلافت کی طرف اشارہ ملتا ہے، کیونکہ خلافت علی منہاج النبوہ کی جو مدت نبی کریمﷺ نے مقرر کی ہے اس اعتبار سے ہجرت نبوی کی تیسری دہائی کے اخیر میں آپ کی خلافت منعقد ہوئی۔ اہل علم کا قول اس حدیث سے مطابق ہے۔
(عقیدہ أہل السنۃ والجماعۃ: جلد 2 صفحہ 686)۔
چنانچہ امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا:
’’خلافت علی منہاج النبوۃ کے بارے میں سفینہؓ سے مروی حدیث صحیح ہے، اور خلفاء کی مدت خلافت کے بارے میں میرا اسی طرف رجحان ہے۔‘‘
(السنۃ: عبداللّٰہ ابن حنبل: صفحہ 235)۔
عبداللہ بن احمدؒ کا قول ہے کہ میں نے اپنے باپ سے کہا کہ کچھ لوگ حضرت علیؓ کو خلیفہ نہیں مانتے؟ امام احمد بن حنبلؒ نے جواب دیا: یہ بہت بری اور گھٹیا بات ہے، رسولﷺ کے صحابہؓ ان کو اے امیرالمومنین! کہہ کر پکارتے تھے، کیا ہم ان تمام صحابہؓ کو جھٹلا دیں، جب کہ حضرت علیؓ نے حج کی امارت کی، چور کا ہاتھ کاٹا اور شادی شدہ زانی کو رجم کیا، یہ سب خلیفہ ہی کے فرائض ہیں، عام آدمیوں کے نہیں۔
(السنۃ: عبداللہ بن احمد بن حنبل: صفحہ 235) عقیدۃ أہل السنۃ فی الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 68)۔
امام ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ حضرت سفینہؓ کی اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’حماد بن سلمہ، عبدالوارث بن سعید‘‘ اور عوام بن حوشب کی روایت سے یہ حدیث مشہور ہے۔ ان سب نے اس حدیث کو سعید بن جہمان کے واسطہ سے رسول اللہﷺ کے غلام حضرت سفینہؓ سے روایت کیا ہے اور ابو داؤد وغیرہ نے اس کی روایت کی ہے اور چاروں خلفائے راشدینؓ کی خلافت کے اثبات میں امام احمدؒ وغیرہ نے اس حدیث پر اعتماد کیا ہے اور حضرت علیؓ کی شخصیت کے سلسلہ میں لوگوں کے اختلاف کی وجہ سے ان کی خلافت تسلیم نہ کرنے والوں کے خلاف اس حدیث سے حجت قائم کی ہے اور کہا ہے کہ جو شخص حضرت علیؓ کو چوتھا خلیفہ نہ مانے وہ اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ گمراہ ہے، اور آپ نے ایسے شخص سے نکاح و مناکحت سے منع کیا ہے۔‘‘
(یہ کتابچہ امام صاحب کے ہاتھوں کا مسودہ ہے، جو فی الحال مکتبہ ظاہریہ میں موجود ہے، بحوالہ عقیدہ أہل السنۃ والجماعۃ: جلد 2 صفحہ 286، نیز دیکھیے: الصحیحۃ للألبانی: جلد 1 صفحہ 744، (مترجم)
امام ابو جعفر الطحاوی حنفی کی کتاب’’ العقیدہ الطحاویہ‘‘ کے شارح لکھتے ہیں:
’’حضرت عثمانؓ کے بعد ہم حضرت علیؓ کی خلافت ثابت کرتے ہیں، کیونکہ جب حضرت عثمانؓ شہید کر دیے گئے اور لوگوں نے حضرت علیؓ کے ہاتھوں پر بیعتِ خلافت کر لی، تو حضرت علیؓ یقیناً شرعی امام منتخب ہو گئے، اور آپ کی اطاعت واجب ہو گئی، آپ بھی بحیثیت خلیفہ خلافت علی منہاج النبوۃ کی ایک کڑی تھے، جیساکہ حضرت سفینہؓ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
خِلَافَۃُ النُّبُوَّۃِ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُؤْتِی اللّٰہُ مُلْکَہُ مَنْ یَّشَآئُ۔
(شرح العقیدۃ الطحاویۃ: صفحہ 545،
السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 1 صفحہ 742، 749)۔
خلافت علی منہاج النبوۃ کی مدت تیس سال ہے، پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بادشاہت دے گا۔‘‘
4: حضرت عکرمہؓ کا بیان ہے کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے اور علی سے فرمایا تم دونوں ابو سعید کے پاس جاؤ اور ان سے احادیث سنو چنانچہ ہم دونوں ان کے پاس گئے دیکھا تو وہ اپنے باغ میں کام کررہے تھے ہمیں دیکھ کر انھوں نے اپنی چادر سنبھالی اور گوٹ مار کر بیٹھ گئے، پھر ہم سے حدیث بیان کرنے لگے، جب مسجد نبویﷺ کی تعمیر کا تذکرہ ہوا، وہ کہنے لگے: ہم لوگ ایک ایک اینٹ اٹھا رہے تھے اور عمار دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے، نبی کریمﷺ نے ان کو دیکھا تو ان کے جسم سے دھول مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا:
(وَیْح عَمَّار (ویح: کلمۂ ترحم ہے، اگر کوئی شخص بلاوجہ ہلاکت کا شکار ہوجائے تو وہاں بطور دعائے رحمت اس کے لیے یہ کلمہ بولا جاتا ہے۔
دیکھیے: غریب الحدیث: ابن الجوزی: جلد 2 صفحہ 486،
لطائف فی غریب الحدیث: جلد 4 صفحہ 85، النہایۃ: جلد 5 صفحہ 235)
تَقْتُلُہٗ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ یَدْعُوْہُمْ اِلَی الْجَنَّۃِ وَیَدَعُوْنَہٗ اِلَی النَّارِ۔
’’افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی، جسے عمار جنت کی دعوت دیں گے اور وہ جماعت عمار کو جہنم کی دعوت دے رہی ہوگی۔‘‘
ابو سعید خدریؓ نے بیان کیا کہ حضرت عمارؓ کہہ رہے تھے کہ ’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْفِتَنِ‘‘ میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 447)۔
اور صحیح مسلم کی روایت میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ جس وقت خندق کھود رہے تھے اور آپﷺ ان کے سر سے مٹی جھاڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے:
بؤسُ ابْنِ سُمَیَّۃَ تَقْتُلَکَ فِئَۃٌ بَاغِیَۃٌ۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2235)۔
’’اے سمعیہ کے بیٹے! افسوس تمھاری خستہ حالی اور مظلومیت پر تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔ ‘‘
امام ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ نبی کریمﷺ کی پیشین گوئی ’’تَقْتُلَ عَمَّارًا اَلْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2235)۔
ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: نبی کریمﷺ کا یہ فرمان حضرت علیؓ کی امامت کی درستگی اور ان کی اطاعت کے وجوب کی دلیل ہے، جو شخص آپﷺ کی اطاعت کی طرف بلائے، وہ جنت کی طرف بلا رہا ہے اور جو شخص کسی کو ان سے قتال پر ابھارے، وہ جہنم کی طرف بلارہا ہے۔ خواہ وہ اس کا ارتکاب کسی تاویل کے نتیجہ میں کرے یا بغیر تاویل بغاوت سے طور سے کرے۔ ہمارے اصحاب و اسلاف کے دو اقوال میں صحیح ترین قول یہی ہے کہ جن لوگوں نے حضرت علیؓ سے قتال کیا انھیں غلطی کا مرتکب قرار دیا جائے یہی ان ائمہ فقہ کا بھی مسلک ہے جنھوں نے اسی واقعہ کو بنیاد بنا کر یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ جو لوگ تاویل کے نتیجہ میں حکام و ائمۃ المسلمین سے بغاوت کریں ان سے قتال کرنا جائز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب امام شافعی رحمۃاللہ علیہ نے حضرت علیؓ کے طرزِ عمل کو بنیاد بنا کر تاویل کے نتیجہ میں ائمۃ المسلمین سے بغاوت کرنے والوں سے قتال کرنے کا فتویٰ دیا تو یحییٰ بن معین نے ان پر اعتراض کیا، اور کہا: کیا طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما بھی باغیوں کے حکم میں ہوں گے؟ لیکن امام احمد ابن حنبلؒ نے یحییٰ بن معین کے اس اشکال کی تردید کی اور کہا: آپ پر حیرت ہے! اس مقام پر اگر امام شافعیؒ حضرت علیؓ کے موقف، اور ان کے طرزِ عمل کی اقتدا نہ کرتے تو اس کا حل کہاں ڈھونڈتے بالخصوص جب کہ باغیوں سے قتال کے سلسلہ میں ان کے سامنے خلفائے راشدینؓ میں سے اور کسی کی کوئی سنت موجود نہ تھی۔ پھر آگے چل کر امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ حالانکہ امام احمدؒ اور ائمہ سنت میں سے کسی کو اس بات میں کوئی تردّد نہیں۔
(مجموع الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 437 ،438)۔
ہاں اگر کوئی اعتراض کرے کہ حضرت عمارؓ کی شہادت معرکۂ صفین میں ہوئی اور وہ اس وقت حضرت علیؓ کے ساتھ تھے جب کہ ان کے مقابلہ میں حضرت معاویہؓ کی جماعت تھی، جس میں صحابہ کرامؓ بھی شریک تھے، لہٰذا ان کے بارے میں یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ جہنم کی طرف بلارہے تھے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے علم اور اجتہاد کے مطابق یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ فریق مخالف کو جنت ہی کی طرف بلا رہے ہیں۔ اپنے علم و اجتہاد کے مطابق عمل پیرا ہونے میں وہ قابل ملامت ہرگز نہیں ہو سکتے اور جنت کی طرف بلانے سے مراد یہ ہے کہ وہ اس عمل کی طرف دعوت دے رہے تھے جو دخول جنت کا سبب تھا یعنی امام کی اطاعت۔
حضرت عمارؓ حضرت علیؓ کی اطاعت کی طرف بلارہے تھے کیونکہ وہی اس وقت مسلمانوں کے امام تھے جن کی اطاعت واجب تھی جب کہ فریق مخالف کا معاملہ اس کے برعکس تھا، لیکن چوں کہ یہ لوگ اپنے اجتہاد و تاویل کی بنا پر ایسا کر رہے تھے اس لیے معذور سمجھے جائیں گے ان پر کوئی ملامت نہیں۔
(فتح الباری: جلد 1 صفحہ 542)
ا: مام نووی رحمۃاللہ علیہ فرمان نبوی ’’بُؤسِی ابْنُ سُمَیَّۃَ تَقْتُلُہُ فِئَۃٌ بَاغِیَۃٌ‘‘ (صحیح مسلم: حدیث نمبر 2235) کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
’’علماء کا کہنا ہے کہ یہ حدیث اس بات کی قوی اور ٹھوس دلیل ہے کہ حضرت علیؓ اپنے فیصلہ میں برحق اور اجتہاد میں درستگی پر تھے اور دوسری جماعت باغی تھی، لیکن چونکہ دوسری جماعت کا اقدام ان کی اجتہادی غلطی پر مبنی تھا اس لیے وہ اس معاملہ میں گناہ گار نہیں کہے جائیں گے۔ نیز اس حدیث میں کئی طرح سے نبی کریمﷺ کے معجزہ کا ظہور ہے، مثلاً آپ نے یہ پیشین گوئی فرمائی تھی کہ عمار کی موت قتل کے ذریعہ سے ہوگی اور قاتلین مسلمان ہی ہوں گے، وہ بغاوت کرنے والے ہوں گے، نیز یہ کہ صحابہ کرامؓ باغی اور غیرباغی دو دھڑوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ چنانچہ یہ ساری باتیں صبح کی سفیدی کی طرح صاف صاف منظر عام پر آئیں، اللہ کی رحمتیں نازل ہوں نبی اکرمﷺ پر جو کہ بات خواہشات نفس کے تابع ہو کر نہیں بولتے، بلکہ وہ اللہ کی وحی ہوتی ہے جو ان کی زبان پر نازل ہوتی ہے۔"
(شرح صحیح مسلم: باب 47) حدیث نمبر 150)۔
5: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
تَمْرَقُ مَارِقَۃٌ عِنْدَ فُرْقَۃٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ یَقْتُلُہَا أَوْلَی الطَّائِفَتَیْنِ بِالْحَقِّ۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2460)۔
’’جب مسلمانوں میں پھوٹ پڑ جانے کے وقت ایک فرقہ نکلے گا اسے دونوں میں سے جو حق سے زیادہ قریب ہوگا وہی قتل کرے گا۔‘‘
دوسری روایت کے الفاظ اس طرح ہیں:
تَکُوْنَ فِیْ أُمَّتِیْ فِرْقَتَانِ فَیَخْرُجُ مِنْ بَیْنِہِمَا مَارِقَۃٌ، یَلِیْ قَتْلُہُمْ أَوْلَاہُمْ بِالْحَقِّ۔
(صحیح مسلم: باب 47 حدیث نمبر 151)۔
’’ میری امت میں دو گروہ ہو جائیں گے اور ان میں سے ایک فرقہ نکلے گا، اسے وہ گروہ قتل کرے گا جو حق سے قریب تر ہوگا۔‘‘
تیسری روایت کے الفاظ ہیں:
تَمْرُقُ مَارِقَۃٌ فِیْ فِرْقَۃٍ مِّنَ النَّاسِ،
فَیَلِیْ قَتْلُہُمْ أَوْلَی الطَّائِفَتَیْنِ بِالْحَقِّ۔
’’جب لوگوں میں پھوٹ ہو جائے گی تو ایک فرقہ نکلے گا، اسے دونوں گروہوں میں جو حق سے قریب تر ہوگا وہی قتل کرے گا۔‘‘
چوتھی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
یَخْرُجُوْنَ عَلٰی فِْرقَۃٍ مُّخْتَلِفَۃٍ یَقْتُلُہُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَیْنِ مِنَ الْحَقِّ۔
(صحیح مسلم: الزکاۃ باب: 47، 1064، (150-153، (مترجم) ان روایات کے اندر اَوْلَی الطَّائِفَتَیْنِ مِنَ الْحَقِّ. ان دونوں گروہوں میں سے جو حق سے قریب تر ہوگا) جس سے واضح ہے کہ یہاں ایک کو حق دوسرے کو باطل نہیں کہا گیا ہے اس لیے طرفین میں سے کسی کو ہدف ملامت نہیں بنایا جا سکتا ہے، صرف اقرب و قریب کا فرق ہے
’’وہ اختلاف کے وقت نکلیں گے، انھیں وہ جماعت قتل کرے گی جو دونوں میں سے حق سے زیادہ قریب ہوگی۔‘‘
ان تمام احادیث میں نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کی جماعت سے خروج کرنے والے فرقہ کے ظہور کا وقت یہ بتایا ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں اختلاف رونما ہوگا اور اس اختلاف سے مراد سیدنا علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان واقع ہونے والا اختلاف ہے۔
(شرح النووی علی صحیح مسلم: جلد 7 صفحہ 166)۔
اور جو فرقہ اس جماعت سے سب سے پہلے الگ ہوا وہ اہل نہروان کا تھا جو کہ معرکۂ صفین میں حضرت علیؓ کے لشکر میں شامل تھے، لیکن جب ’’حکمین‘‘ کو فیصل ماننے کے لیے سیدنا علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما باہم متفق ہوگئے تو اہلِ نہروان نے یہ کہتے ہوئے بغاوت کا اعلان کردیا کہ علی اور معاویہ دونوں نے ہی کفر کی طرف سبقت کی ہے، معاویہ کا کفر یہ ہے کہ انھوں نے علی سے قتال کیا، اور علی کا کفر یہ ہے کہ تحکیم کو قبول کر لیا، اور پھر انھوں نے طلحہ اور زبیر (رضی اللہ عنہما) کی بھی تکفیر کی، چنانچہ ان خوارج سے حضرت علیؓ نے جنگ کی، اور کیفر کردار تک پہنچایا پس نبویﷺ پیشین گوئی کی روشنی میں خوارج سے جنگ کرنے والی حضرت علیؓ کی جماعت ہی حق سے قریب ترین تھی، گویا حضرت علیؓ اور آپ کے ساتھیوں کے برحق ہونے کی یہ شہادت نبوی ہے اور یہ آپ کا معجزہ رہا کیونکہ آپ کی پیشین گوئی کے مطابق حرف بہ حرف واقعہ اسی طرح پیش آیا۔ پس تمام قرائن و دلائل اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ کی خلافت صحیح تھی، اور ان کی مخالفت کرنے والے غلطی پر تھے۔
(منہاج القاصدین فی فضل الخلفاء الراشدینؓ ابن قدامہ: صفحہ 75، 76) بحوالہ عقیدۃ أہل السنۃ والجماعۃ: جلد 2 صفحہ 683) یہاں یہ حقیقت واضح رہے کہ حضرت علیؓ کی خلافت پر کسی کو اعتراض نہیں تھا۔ معاویہ، زبیر، طلحہ اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہم آپ کی خلافت کے مخالف نہ تھے، بلکہ وہ اختلاف جو رونما ہوا وہ قاتلین عثمان سے قصاص لینے کا مسئلہ تھا یہ حضرات خلیفہ وقت سے قاتلین عثمان پر نفاذ قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے اور حضرت علیؓ اس کے فوری نفاذ کو صورتِ حال کے پیش نظر مصلحت کے خلاف سمجھ رہے تھے۔ قاتلینِ عثمانؓ آپ کے پرچم تلے جمع تھے اور امت اسلامیہ کا شیرازہ منتشر کرنے میں لگے تھے۔ سیدنا علیؓ صورت حال سے بخوبی واقف تھے اور آپ کو نفاذ قصاص کا امکان نظر نہ آرہا تھا۔ اور یہ قاتلین عثمان ہی تھے جنھوں نے اپنے بچاؤ کے لیے دونوں جماعتوں کو آپس میں ٹکرا دیا ورنہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی تھا۔
رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:
لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَقْتُلَ فِئَتَانِ عَظِیْمَتَانِ وَتَکُوْنَ بَیْنَہُمَا فقتلہ عظیمۃ وَدَعْوَاہُمَا وَاحِدَۃٌ۔
(متفق علیہ: رواہ مسلم فی الفتن: جلد 17 صفحہ 157) ’’قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک مسلمانوں کی دو عظیم جماعتیں قتال نہ کریں، دونوں کے مابین عظیم جنگ ہوگی اور ان دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا۔‘‘ (مترجم)