ان مستند و صحیح روایات کی روشنی میں چند درس و عبرت اور فوائد مستنبط ہوتے ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے:
1: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے سیدنا علیؓ کی مدد اور ان کی طرف سے دفاع: یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے جو حضرت علیؓ سے متواتراً ثابت ہے، حضرت عثمانؓ کی طرف سے حضرت علیؓ نے سب سے زیادہ دفاع کیا، اس کی صداقت کے لیے متعدد اسانید موجود ہیں، انھیں میں سے ایک حضرت مروان بن حکم رضی اللہ عنہما کی یہ گواہی بھی ہے کہ سیدنا عثمان غنیؓ کی طرف سے حضرت علیؓ سے زیادہ پوری قوم میں کسی نے دفاع نہیں کیا۔
(بیعت علی بن أبی طالب: أم مالک الخالدی: صفحہ 2)
بحوالہ تاریخ الذہبی: عہدالخلفاء الراشدین: 460) اس کی سند قوی ہے۔ یہاں حضرت مروانؓ کی شہادت اس حیثیت سے اہمیت کی حامل ہے کہ وہ حضرت عثمانؓ کے قبیلہ و گھرانہ یعنی بنو امیہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس سے جو حضرات بنو ہاشم اور بنوامیہ کے درمیان عداوت و دشمنی ثابت کرنے کے پیچھے پڑے ہیں ان کی تردید ہوتی ہے۔ (مترجم)
2: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے بےنیازی، بےرغبتی ظاہر ہوتی ہے، آپ نے قطعاً اس کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ اپنے گھر میں گوشہ نشین ہوگئے، یہاں تک کہ صحابہ کرامؓ آپ کے پاس آئے اور آپ کی بیعت کے لیے بضد ہوگئے۔
3: تمام مہاجرین وانصار صحابہ اور مدینہ میں رہنے والے دیگر تمام لوگوں نے بالاتفاق آپ کی خلافت پر بیعت کی، اور اس میں اہل حل عقد پیش پیش رہے۔ انھوں نے ہی حضرت علیؓ کو اس کے لیے مناسب سمجھا اور بیعت پر رضامندی کے لیے انھیں تیار کیا اور اتنے بضد ہوگئے کہ آپ کو مجبوراً قبول کرنا ہی پڑا۔ حضرت علیؓ نے شرپسندوں کی ہنگامہ آرائی اور قاتلینِ عثمان کے فتنہ سے مرعوب ہو کر خلافت ہرگز قبول نہیں کی، جیساکہ ضعیف اور موضوع روایات میں وارد ہے۔
4: اس موقع پر سیدنا علیؓ ہی خلافت کے سب سے زیادہ مستحق تھے، اس کی دلیل یہ ہے کہ پہلی فرصت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نظر انتخاب آپ ہی پر ٹھہری اور وہ اصرار کرتے رہے تاکہ آپ بیعت خلافت کو قبول فرمالیں، حتیٰ کہ انھوں نے نہایت صریح الفاظ میں کہہ دیا کہ آج ہم امامت کے لیے آپ سے زیادہ کسی کو مستحق نہیں پاتے۔
5۔ خلافت کی اہمیت وعظمت ظاہر ہوتی ہے چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ شہادتِ عثمانؓ کے فوراً بعد صحابہؓ نے حضرت علیؓ کو یہ ذمہ داری سونپنے میں جلدی کی، اور سیدنا علیؓ نے بھی اس بار گراں کو قبول کرنے کی وجہ بھی بتادی کہ اگر اللہ کے دین کو خطرہ لاحق ہونے کا مجھے اندیشہ نہ ہوتا تو میں اس مطالبہ کو ہرگز قبول نہ کرتا۔
(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 75) اس کی سند صحیح ہے دیکھیے: بیعۃ علی: صفحہ 105)
6: خلافتِ علیؓ کی بیعت کے ضمن میں بعض مؤرخین نے یہ شوشہ چھوڑا ہے کہ خوارج عثمانؓ کا سخت محاصرہ کیے ہوئے تھے اور آپ کے قتل کے درپے تھے، انھیں میں سے چند شرپسند مدینہ میں بھی گھوم رہے تھے اور انھوں نے ہی سب سے پہلے حضرت علیؓ کو بیعت خلافت کے لیے مجبور کیا تھا اور خود سب سے پہلے بیعت بھی کی تھی، اور انھیں کی زور و زبردستی پر مجبوراً طلحہ اور زبیر نے بھی بیعت کی، درحقیقت یہ سب مؤرخین کی قیاس آرائیاں ہیں جن کی کوئی صحیح بنیاد اور معتبر سند نہیں ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے بعد لوگوں کے سامنے کوئی ایسی چوتھی شخصیت نہیں تھی جو قدر ومنزلت، علم وتقویٰ، دین، اسلام میں سبقت اور جہاد کے اعتبار سے کامل نظر آتی رہی ہو، اس لیے مہاجرین وانصار نے حضرت علیؓ پر اس منصب کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تو آپؓ نے اس ذمہ داری کو اپنے لیے فرض سمجھا، اور ان صحابہ کی بات مان لی۔ اگر اس بیعت میں تاخیر کی جاتی تو پوری اسلامی ریاست کے کونہ کونہ سے فتنوں اور اختلافات کی لہریں امنڈ آئیں، لہٰذا مسلمانوں کی مصلحت اور ان کا مفاد اسی میں پوشیدہ تھا کہ حالات و ظروف اگرچہ نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں پھر بھی حضرت علیؓ بیعت خلافت کو تسلیم کرلیں، اور مدینہ میں موجود مہاجرین و انصار صحابہ میں سے کوئی بھی اس سے پیچھے نہ رہا، اس مقام پر لوگوں سے غلط فہمی یا بھول یہ ہوگئی ہے کہ سیدنا علیؓ کے ساتھ بصرہ جانے سے صحابہ کرامؓ کے تردد اور پیچھے رہ جانے کو ان کی بیعت سے جوڑ دیا، حالانکہ حضرت علیؓ کی بیعت خلافت سے کوئی بھی صحابی پیچھے نہ رہا، ہاں حضرت علیؓ کے بصرہ جاتے وقت انھوں نے آپ کاساتھ نہ دیا تھا، کیونکہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ تھا،
(المدینۃ النبویۃ: محمد شرّاب: جلد 2 صفحہ 311)۔
اور حضرت علیؓ نے انھیں اپنے ساتھ چلنے پر مجبور بھی نہ کیا تھا، اس پر مزید گفتگو معرکۂ جمل کے موقع پر ہوگی ( ان شاءاللہ )۔
7: ناقلین روایات کی ان مبالغہ آمیزیوں سے خبردار رہنا ضروری ہے، جن میں یہ بات کہی گئی ہے کہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے بعد پانچ دنوں تک مدینہ کا حاکم منتظم غافقی بن حرب تھا ان بلوائیوں کو تلاش تھی کہ امارت کو کوئی قبول کرلے لیکن وہ کسی کو نہیں پارہے تھے۔
(تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 432، دیکھیے: المرتضیٰ صفحہ 235 ازمترجم)
ان کا زعم ہے کہ مصر کے فسادیوں نے حضرت علیؓ سے اس کی پیش کش کی، لیکن آپ نے رد کردیا۔ کوفہ کے خوارج چاہتے تھے کہ خلافت زبیرؓ کے سپرد کر دیں، لیکن تلاش کے بعد وہ نہ مل سکے اور بصرہ کے مفسدین نے حضرت طلحہؓ پر خلافت پیش کی، یہ اور اس طرح کی دیگر روایات کی کوئی سند قطعاً صحیح نہیں اور نہ ہی صحیح روایات سے مقابلہ میں ان کی کوئی حیثیت ہے۔
(اشتہاد عثمان و وقعۃ الجمل: خالدالغیث: صفحہ 136تا140)
معتبر تاریخی روایات کی روشنی میں یہ بات معروف و مسلم ہے کہ صحابہ کو مدینہ میں مکمل کنٹرول حاصل تھا اور اگر حضرت عثمانؓ فساد پرداز عناصر کے خلاف کارروائی کرنے سے انھیں نہ روکتے تو وہ لوگ مفسدین کی فتنہ سامانیوں، اور ہنگامہ آرائیوں کا بآسانی خاتمہ کر سکتے تھے، میں نے اس موضوع کو اپنی کتاب ’’عثمان بن عفانؓ شخصیت اور کارنامے‘‘ میں خوب تفصیل سے واضح کیا ہے۔ بہرحال حضرت علیؓ کی خلافت پر صحابہ کرامؓ اور دیگر لوگوں کی بیعت پوری رضا مندی اور جذبۂ اطاعت سے ہوئی تھی اور اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں مفسدین اور بلوائیوں کا کوئی کردار نہیں تھا، جو صحابہ کرامؓ اس وقت مدینہ میں موجود تھے، انھیں لوگوں نے آپ کو امیر المومنین بنانے میں پیش رفت کی اور آپ کو خلیفہ بنایا۔ (استشہاد عثمان: 240)۔
8: سیدنا علیؓ کی بیعت کے سلسلہ میں صحیح روایات مع شواہد کل گیارہ روایات ہیں۔
(بیعۃ علی بن أبی طالب: صفحہ 122)۔
ان میں بعض کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔