سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیعت کی نوعیت - دفاعِ…

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیعت کی نوعیت

  علی محمد محمد الصلابی

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت خلافت انتخاب کے ذریعہ سے عمل میں آئی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب مختلف قبائل اور شہروں و خطوں سے آئے ہوئے بلوائیوں اور اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے باغیوں نے، جن کا ماضی میں کوئی اچھا کردار نہیں تھا اور نہ ہی دین میں کوئی اچھے نقوش تھے، انھوں نے خلیفۂ راشد عثمانؓ کو بہتان و سرکشی اور ظلم ڈھاتے ہوئے جمعہ کے دن 18 ذی الحجہ 25ھ کو شہید کردیا۔

(الطبقات الکبریٰ: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 31)۔

 تو مدینہ میں اس وقت جتنے اصحابِ رسولﷺ تھے سب حضرت علیؓ کے ہاتھوں پر بیعتِ خلافت کے لیے تیار ہوگئے، اس لیے کہ اس وقت علی الاطلاق حضرت علیؓ سے بہتر اور افضل کوئی نہ تھا جو اس منصب کو سنبھالتا، ان صحابہ میں سے کسی نے اپنی امامت و خلافت کا دعویٰ نہیں پیش کیا، حتیٰ کہ خود حضرت علیؓ اس کے حریص نہ تھے، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب مدینہ کے باقی ماندہ اصحابِ رسولﷺ کا ان پر شدید دباؤ ہوا اور آپ کو بھی احساس ہوا کہ اگر میں بھی اس ذمہ داری سے راہِ فرار اختیار کرتا ہوں تو مزید فتنہ کا خوف ہے۔ تبھی آپ اس منصب کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوئے۔ لیکن حیرت ہے کہ پھر بھی حضرت علیؓ معرکۂ جمل و صفین کی شکل میں رونما ہونے والے فتنوں کے بعد بعض جاہلوں کے نقد و اعتراض سے نہ بچ سکے، حالانکہ ان فتنوں کی آگ ابن سبا اور اس کے جھانسہ میں آنے والے بد بخت دشمنانِ اسلام نے لگائی تھی۔ اس کے پیروکار فاسق تھے اور حق و ہدایت کے راستہ سے منحرف تھے۔

سیدنا علیؓ منصب خلافت کے لیے کس طرح منتخب ہوئے؟ اس کی تفصیل بعض علماء نے اس طرح بیان فرمائی ہے:

(عقیدہ وأھل السنۃ فی الصحابۃ الکرام: جلد 2 صفحہ 677)۔

امام ابوبکر الخلال اپنی سند سے محمد بن الحنفیہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمانؓ دشمنوں کے نرغہ میں تھے اس وقت میں حضرت علیؓ کے پاس تھا، ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یقین کیجیے! امیرالمومنین ابھی قتل کردیے جائیں گے، حضرت علیؓ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے، لیکن میں نے ان کی کمر سے پکڑ کر انھیں روکنا چاہا کہ کہیں آپ بھی بلوائیوں کی زد میں نہ آجائیں، مگر آپ ناراض ہوگئے اور کہا: تمھاری ماں نہ رہے مجھے چھوڑو، جانے دو، پھر حضرت علیؓ حضرت عثمانؓ کے گھر پہنچے اس وقت تک حضرت عثمانؓ شہید کیے جا چکے تھے، پھر حضرت علیؓ لوٹ کر اپنے گھر آئے اور دروازہ بند کرلیا، آپؓ کے پیچھے اور بہت سے لوگ آگئے، انھوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، حضرت علیؓ نے دروازہ کھول دیا، سب لوگ اندر گئے اور کہنے لگے وہ تو شہید ہی کردیے گئے اب مسلمانوں کے لیے دوسرے خلیفہ کی تعین ضروری ہے اور اے علی! ہمارے علم میں اب آپ کے علاوہ کوئی دوسرا اس کا مستحق اور اس کے لائق نہیں ہے۔ سیدنا علیؓ نے ان لوگوں کو جواب دیا: مجھے امارت کے لیے مت منتخب کرو، میں تمھارے لیے وزیر ہوں، یہ امیر ہونے سے میرے لیے بہتر ہے۔ لیکن ان لوگوں نے پھر اصرار کیا، اور کہا: نہیں! ہم آپ سے زیادہ کسی کو اس کا مستحق ہی نہیں جانتے، آپ جب لاچار ہوگئے، تو کہا: ٹھیک ہے اگر آپ لوگ میرے لیے ہی اصرار کر رہے ہو تو میری بیعت خفیہ نہ ہو گی، اس لیے سب لوگ مسجد میں تشریف لے چلو، چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہاں لوگوں نے حضرت علیؓ سے بیعت خلافت کی۔ 

(السنۃ: أبوبکر الخلال: صفحہ 415)۔

سالم بن جعد کی دوسری روایت میں محمد بن الحنفیہؒ اسی واقعہ کو یوں بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ کے صحابہ کرامؓ حضرت علیؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے وہ تو شہید کردیے گئے اور لوگوں کے لیے کسی امام کا ہونا ضر وری ہے اور ہم آپ سے زیادہ کسی کو اس کا مستحق نہیں پاتے ہیں جو معرکوں کا تجربہ رکھتا ہو اور نہ ہی آپ سے بڑھ کر کسی کو رسولﷺ سے قرابت ہے، لہٰذا آپ اسے قبول کر لیں۔ حضرت علیؓ نے کہا: ایسا نہ کرو، میں وزیر رہوں یہ میرے لیے امیر ہونے سے بہتر ہے۔ ان لوگوں نے کہا: نہیں ہرگز نہیں۔ واللہ! ہم بیعت آپ ہی کی خلافت پر کریں گے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: اگر بضد ہی ہو تو چلو مسجد میں چلو، مناسب یہ ہے کہ میری بیعت بر سرعام اور تمام مسلمانوں کی رضا مندی سے ہو، خفیہ نہ ہو۔ سالم بن ابی جعد کا کہنا ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مجھ کو یہ بات ناگوار گزری کہ وہ مسجد میں بیعت کے لیے جائیں، محض اس وجہ سے کہ مباداً آپ کے خلاف شور و ہنگامہ نہ اٹھ کھڑا ہو، لیکن حضرت علیؓ مسجد میں چلنے کے لیے بضد رہے اور جب مسجد میں گئے تو پہلے مہاجرین وانصار آئے اور بیعت کی، پھر باقی سب لوگوں نے بیعت کیا۔ 

(السنۃ: أبوبکر الخلال: صفحہ 416) اس کے سند کے تمام راوی ثقہ ہیں۔)