عظمت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بیان قرآن میں - دفاعِ…

عظمت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بیان قرآن میں

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

یعنی اللہ نے ایمان والوں، اور عمل صالح والوں سے بڑے ثواب اور باعزت روزی کا وعدہ کیا ہے۔ اور اللہ کا وعدہ حق اور سچ ہے جس کے خلاف ہرگز نہیں ہوسکتا ہے، نہ اس میں تبدیلی ممکن ہے، لہٰذا جو شخص بھی صحابہ کے منہج و طرز زندگی کو اپنائے گا وہ ان انعامات الٰہی کے استحقاق کے لیے انھیں کے حکم میں سے ہے، ان صحابہؓ کو افضیلت، اسبقیت اور کمال کا وہ مقام ملا ہے جہاں تک ان کے علاوہ اس امت کے کسی دوسرے فرد کی رسائی ہی نہیں ہے، اللہ ان سے راضی ہو اور فردوس کی جنتوں کو ان کا ٹھکانا بنائے۔ 

(تفسیر إبن کثیر: جلد صفحہ 365)۔

صحابہ کرامؒ کے بارے میں اللہ کا جو یہ فرمان ہے کہ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے، تو اس میں بہت ہی خطرناک حکم پوشیدہ ہے اور جو لوگ اصحابِ رسولﷺ کو دیکھ کر، یا سن کر خار کھاتے اور چڑتے ہیں ان کے لیے سخت ترین وعید وہلاکت آمیز دھمکی ہے۔

(قبس من ھدي الإسلام: عبدالمحسن العباد: صفحہ 86)

مذکورہ آیت کے اختتام پر اللہ نے وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ‌ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ عَظِيۡمٌ فرما کر تمام صحابہؓ سے جنت کا وعدہ کیا اور امت اجابت میں سے جو انسان بھی ایمان وعمل صالح کی زندگی گزار ے اس سے بھی یہی وعدہ کیا۔ یہ حکم قیامت تک آنے والے تمام مومنوں کے لیے ہے۔

(عقیدہ أہل السنۃ من الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 76)۔

اس آیت کریمہ میں ’’مِنْہُم‘‘ مِنْ بیان جنس کے لیے ہے، یعنی تمام ایمان والوں اور عمل صالح والوں سے یہی وعدہ ہے، ’’مِنْ‘‘ تبعیض کے لیے نہیں ہے کہ جس کا مطلب ہوگا ان میں سے صرف بعض ایمان والوں اور عمل صالح والوں سے یہ وعدہ ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: یقیناً اس آیت میں اصحابِ رسولﷺ کا تذکرہ جن صفات کے ساتھ ہوا ہے۔ یہ ان کی بہت بڑی مدح و ستائش ہے ان کے اوصاف حمیدہ یہ ہیں کہ کافروں کے لیے سخت، آپس میں رحمت و محبت کا نمونہ ہیں۔ ان کے یہاں رکوع و سجود کی کثرت ہے، اللہ کے فضل و رضا مندی کی جستجو ہے، چہروں پر سجدوں کے نشانات ہیں، جس طرح کھیتی درجہ بدرجہ اپنی کونپل نکالتی ہے پھر اس میں مضبوطی آتی ہے، پھر موٹا ہوتی ہے، پھر تنے پر سیدھی کھڑی ہوتی ہے، اسی طرح صحابہؓ اور مومنین بھی درجہ بدرجہ، کمزوری، پھر کمال قوت، اور پھر اعتدال کے مراتب طے کرتے ہیں، تاہم یہ واضح رہے کہ صرف ان صفات پر مغفرت اور اجر عظیم کا دارو مدار نہیں ہے، بلکہ ان کے ساتھ ایمان اور عمل صالح بھی ضروری ہیں، اور چونکہ مغفرت اور اجر عظیم کے وعدہ کی تکمیل کے لیے یہ دونوں ضروری تھے ان کو ذکر کیا اگرچہ تمام صحابہؓ اس سے متصف بھی تھے پھر بھی اسے اس لیے الگ سے ذکر کیا گیا تاکہ کسی کو یہ وہم نہ ہوجائے کہ صرف مذکورہ اوصاف حمیدہ ہی نجات کے لیے کافی ہیں، شروع آیات صرف اوصاف، آخر میں اجر عظیم سے بدلہ کا ذکر ہوا تھا، لیکن اس بدلہ کا اصلی سبب کیا تھا اس کا ذکر نہیں ہوا تھا، پس ایمان اور عمل صالح کو ذکر کرکے اس اجمال کو واضح کردیا گیا، کیونکہ اصولی قاعدہ کے اعتبار سے جب کوئی حکم کسی ایسے اسم مشتق پر منحصر ہو جو سیاق و سباق سے مناسب ہو تو جس کلمہ سے اس اسم کا اشتقاق ہوا ہے وہی حکم کا سبب ہوتا ہے۔

(منہاج السنۃ: جلد 1 صفحہ 158)۔

میں نے صحابہ کرامؓ کے درمیان میل محبت اور اخوات و ہمدردی، کفار کے لیے سختی اور خصوصاً خلفائے راشدینؓ کے آپس میں گہرے تعلقات اور خیر خواہی کے جذبات کے تعلق سے جو کچھ ذکر کیا ہے، وہ مکمل طور سے قرآنی توضیح و بیان کے مطابق ہیں، بلاشبہ یہ خلفاء صحابہ انتہائی معزز وشریف تھے، پوری امت کا دماغ تھے، نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد اس کے بےمثال قائد تھے لہٰذا باہوش! خبردار! ان ضعیف روایات اور جھوٹے قصوں وخرافات سے جنھیں دشمنانِ اسلام نے اسلام کی ابتدائی روشن تاریخ کے چہرہ کو مسخ کرنے کے لیے گھڑا اور رواج دیا ہے۔ کیا ہم ان جھوٹی روایات اور واہی تباہی قصوں کی تصدیق کریں گے، جو خلفائے راشدینؓ میں باہمی چپقلش اور عداوت کا تصور پیش کرتی ہیں یا اپنے رب کی کتاب قرآن مجید کی تصدیق کریں گے اور عظمتِ صحابہؓ کی شان میں ہمارے نبی کریمﷺ نے جو کچھ فرمایا ہے اسے مانیں گے اور اہل سنت و جماعت کے ثقہ ومستند علماء نے قرآن وسنت کی روشنی میں ان کی جو تصویر کشی کی ہے اسے تسلیم کریں گے؟

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ‌ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيۡنَهُمۡ‌ اِنَّهٗ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ۞ (سورۃ الأنفال آیت 63)

ترجمہ: اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی الفت پیدا کردی۔ اگر تم زمین بھر کی ساری دولت بھی خرچ کر لیتے تو ان کے دلوں میں یہ الفت پیدا نہ کرسکتے، لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا، وہ یقیناً اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

صحابہ کرامؓ کی حقیقی باہمی الفت و محبت کی یہ قرآنی توضیح و توثیق ہے اس پاک نفس جماعت کے لیے یہ تحفہ ربانی اور انعام الٰہی ہے، اس میں کسی انسان کی کوئی مداخلت نہیں پس قرآنی توصیف و بیان کے بموجب رسولﷺ پر بھی ایک عظیم احسان ہے، صحابہ کرامؓ کی عظمت و شان امتیازی کی یہ قرآنی تصویر کشی ان صحیح روایات سے مکمل طور سے میل کھاتی ہے جن میں صحابہ کرامؓ کی آپسی محبت و الفت کو سراہا گیا ہے اور اسی صاف شفاف و حقیقی آئینہ میں وہ داغ دار چہرے نمایاں نظر آتے ہیں جنھوں نے خود ساختہ روایات اور بےبنیاد واقعات کا پروپیگنڈا کیا ہے۔ بہرحال یہ آیت کریمہ ان تمام لوگوں کی فضیلت و برتری پر شاہد ہے جو قرآنی تعلیمات اور سنت نبویہ کے سانچے میں اپنی زندگی کو ڈھالتے ہیں، ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، رشتوں کی قرابت کٹ سکتی ہے اور محسن کی احسان فراموشی ہو سکتی ہے، لیکن حقیقی بنیادوں پر دل مل جانے کے بعد میں نے اسے کٹتے نہیں دیکھا۔ 

(الدرالمنثور فی تفسیر المأثور: جلد 4 صفحہ 100)۔

کسی شاعر نے کہا ہے:

وَلَقَدْ صَحِبْتُ الناسَ ثُمَّ خَبَرَّ تُہُمْ

وَبَلَوْتُ مَا وَصَلُوا مِنَ الأَسْبَابِ

صفحہ 2 از 3