عظمت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بیان قرآن میں - دفاعِ…

عظمت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بیان قرآن میں

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ‌ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ ذٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ وَعَدَاللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞ (سورۃ الفتح آیت 29)

 ترجمہ: محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوگئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہوگئی کہ کاشتکار اس سے خوش ہوتے ہیں۔ تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کرلیا ہے۔ 

کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے، تاکہ وہ ان کے ذریعہ کافروں کو غصہ دلائے، اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے بڑی بخشش اور بہت بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔‘‘

میں نے اس بحث کو مذکورہ آیت کریمہ کے ساتھ ختم کرنا اس لیے مناسب سمجھا تاکہ خلفائے راشدینؓ، اہل بیتؓ اور صحابہ کرامؓ میں باہمی محبت، رحمت اور تعاون کے تعلق سے میں نے جو کچھ ذکر کیا ہے اس کی صداقت کی دلیل بن سکے۔ پس یہ آیت کریمہ اللہ کی طرف سے مقامِ رسولﷺ کی عظمت وستائش پرمشتمل ہے، پھر دوسرے درجہ میں اللہ تعالیٰ نے تمام اصحابِ رسولﷺ کی تعریف کی ہے اور ان کے اوصاف کو یوں سراہا ہے کہ وہ آپس میں نرم ہیں، اور کفار کے لیے سخت ہیں۔

(ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم رزم حق باطل ہو تو فولاد ہے مومنؔ (مترجم)

ان میں باہمی رحم دلی اور تعاطف کا جذبہ بھرا ہوا ہے، وہ اخلاص کامل اور پورے یقین کے ساتھ اعمالِ صالحہ بجا لاتے ہیں، انھیں اعمالِ صالحہ میں سے نماز ہے وہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کثرت سے نمازیں پڑھتے ہیں، جن کی علامت ان کے چہروں پر نمایاں ہوتی ہے: سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ (سورۃ الفتح آیت 29)

’’ان کی شناخت ان کے چہروں میں (موجود) ہے، سجدہ کرنے کے اثر سے۔‘‘

حسن بصری اور سعید بن جبیر رحمہا اللہ کہتے ہیں اور ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی بھی ایک روایت میں اس کی تفسیر یہ ہے کہ نمازیوں کی پیشانی پر سفید چمک ہوگی جو قیامت کے دن چمکے گی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی دوسری روایت اور مجاہد سے مروی ہے کہ یہ نشان دنیا ہی میں نظر آتا ہے، یعنی اچھی ہیئت و کردار۔ مجاہد کی ایک روایت میں ہے کہ ان کے اندر خشوع و تواضع پیدا ہو جاتی ہے۔

(تفسیر الطبری: جلد 26 صفحہ 110، نیز جلد 7 صفحہ 393،294)۔

مذکورہ اقوال میں کوئی اختلاف نہیں، صرف تعبیر و بیان کا فرق ہے، ایسا ممکن ہے تواضع و خشوع کے نتیجہ میں دنیا میں اچھی ہیئت و کردار کے حامل ہوں اور آخرت میں ان کی پیشانیوں پر نور کی چمک بھی ہو۔ 

(تفسیر الطبری: جلد 26 صفحہ 112)۔

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نیتیں خالص تھیں، ان کے اعمال و کردار نیک تھے، جس نے بھی ان پر نگاہ ڈالی وہ ان کے اوصاف و کردار سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہا، امام مالک رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا ہے کہ جب ملک شام کے نصاریٰ فاتحین شام کے صحابہ کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے : واللہ جیسا کہ ہم نے سنا تھا، یہ لوگ یقیناً ہمارے نبی کے حواریوں سے کہیں زیادہ اچھے ہیں۔ گزشتہ آسمانی کتب میں ان کی عظمت کو سراہا گیا ہے، پھر ان میں بھی سب سے عظیم اور افضل وہ لوگ ہیں جو محمد (رسول اللہﷺ ) کے صحابہؓ ہیں۔ تمام آسمانی کتب میں اور متداول مذہبی روایات میں اللہ کی طرف سے ان لوگوں کے حق میں ذکر خیر ملتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ذٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ ’’ان کی یہی مثال تورات میں ہے‘‘ پھر آگے فرمایا: وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ’’اور ان کی مثال انجیل میں ہے مثل اس کھیتی کے جس نے اپنی کونپل نکالی‘‘فَاٰزَرَهٗ‘‘ ’’پھر اسے مضبوط کیا‘‘ ’’فَاسۡتَغۡلَظَ‘‘ ’’اور وہ موٹا ہوگئی‘‘فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ

يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑی ہوگئی اور کسانوں کو خوش کرنے لگی لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّار تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے۔ 

امام مالک رحمۃاللہ علیہ ایک روایت کے مطابق اس آیت کریمہ سے روافض کی تکفیر کا فتویٰ مستنبط کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ کافروں کے کفر کی ایک وجہ ہے کہ وہ صحابہؓ کو دیکھ کر چڑتے ہیں، لہٰذا جو شخص بھی ان صحابہؓ سے چڑ کھائے وہ اس آیت کی روشنی میں بہرحال کافر ہے، علماء کی ایک جماعت نے بھی امام مالکؒ کے اس فتویٰ کی تائید کی ہے۔ آگے اللہ نے فرمایا:

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ‌ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ۞ (سورۃ المائدة آیت 9)

ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ (آخرت میں) ان کو مغفرت اور زبردست ثواب حاصل ہوگا۔

صفحہ 1 از 3