سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور خلفائے راشدینؓ میں بہتر تعلقات…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور خلفائے راشدینؓ میں بہتر تعلقات پر قرائن و واقعات کے شواہد و دلائل

  علی محمد محمد الصلابی

6: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور خلفائے راشدینؓ میں بہتر تعلقات پر قرائن و واقعات کے شواہد و دلائل:

امیرالمومنین علی رضی اللہ عنہ کی سیرت میں ایسے بے شمار واقعات و قرائن ہیں جن سے ان کے اور ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم کے درمیان تعلقات کی نوعیت آشکارا ہوتی ہے، یہ سب واضح اور عام بات ہے۔ میں نے پچھلے صفحات میں صحابہ کرامؓ کی اس چنندہ جماعت اور پاکیزہ نفوس کی آپس میں رحیمانہ و کریمانہ صفات و تعلیمات کی چند جھلکیاں پیش کردی ہیں، تاہم چند دلائل وقرآئن کا اضافہ فائدہ سے خالی نہ ہوگا، چنانچہ ان دلائل و قرائن میں سب سے پہلے یہ واقعہ قابلِ ذکر ہے کہ امیرالمومنین علیؓ نے اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح امیر المومنین عمر بن خطابؓ سے کیا۔

(أصول مذہب الشیعۃ: جلد 2 صفحہ 932)۔

پس اگر فاروق امت عمر رضی اللہ عنہ ابلیس سے بھی بڑھ کر کافر تھے، جیسا کہ روافض شیعہ کہتے ہیں، تو کیا ان کی عقلیں ماری گئی ہیں کہ اپنے عقیدہ و مذہب کی خرابی نظر نہیں آتی اور یہ نہیں سوچتے کہ جب ہمارے مذہب کے مطابق ابوبکر و عمر کافر ہیں تو گویا حضرت علیؓ نے اپنی بیٹی ام کلثوم کبریٰؓ کو عمرؓ سے شادی کر کے کافر یا کم از کم فاسق قرار پاتے ہیں، انہوں نے اپنی بیٹی کو زنا کے لیے پیش کیا کیونکہ کافر کا کسی مسلم خاتون سے مباشرت کرنا یقیناً صریح زنا ہے۔

(أصول مذہب الشیعۃ: جلد 2 صفحہ 932)۔

تو ہر ذی ہوش انصاف پسند صاف دل نبی کریمﷺ اور آپ کے اہل بیت کی محبت کا سچا دعوے دار اس حقیقت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خلفائے اربعہؓ کے درمیان آپس میں گہری عقیدت، احترام اور الفت ومحبت پائی جاتی تھی۔ اس لیے جب معز الدولہ احمد بن بویہ جو کہ متعصب رافضی تھا اور اصحاب رسولﷺ پر سبّ وشتم کرتا تھا، اس سے کہا گیا کہ حضرت علیؓ نے اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح حضرت عمر بن خطابؓ سے کیا تھا، تو اسے زبردست جھٹکا لگا اور کہنے لگا، مجھے تو اس کا علم ہی نہیں تھا، پھر اس نے اپنے عقیدہ سے توبہ کی، بہت سارا مال صدقہ کر دیا، بہت سارے غلاموں کو آزاد کر دیا، بہت سی ناانصافیوں کی تلافی کی اور اس قدر رویا کہ بےہوش ہوگیا۔

(المنتظم: جلد 7 صفحہ 397،38)

اس لیے کہ اسے اپنے ماضی کی کارستانیوں اور جرائم کا احساس ہوگیا؟ جنھیں روافض کے دھوکا میں آ کر ان برگزیدہ ہستیوں کے لیے جائز سمجھتا تھا۔

(أصول مذهب الشيعة: جلد 2 صفحہ 937)

 روافض شیعہ کے ممتاز علماء وبزرگان نے اس دلیل کو کنارے لگانے اور استدلال کو باطل ٹھہرانے کی پوری کوشش کی ہے اور اپنے ائمہ کے حوالے سے جھوٹی روایات وضع کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اس شرمگاہ کو ہم سے غصب کیا گیا تھا۔ 

(فروع الكافی: جلد 2 صفحہ 10، أصول مذهب الشيعة: جلد 2 صفحہ 937) 

 گویا کیچڑ کو دلدل بنا دیا اور امیر المومنین علیؓ کو (نعوذباللہ) اس دیوث کی شکل میں پیش کیا جو کہ اپنی عزت کی طرف سے دفاع نہیں کرتا اور اپنے گھر میں زنا کاری کرواتا ہے، کیا اس طرح کی بات اسلام کے جرنیل سپوت علیؓ کے بارے میں ہم سوچ سکتے ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں، ایک عام عرب تو اپنی عزت کی حفاظت کی خاطر جان کو قربان کر ہی دیتا ہے، پھر بھلا بنو ہاشم جو کہ عرب کے سرداروں کے سردار تھے، نسب اور مردانگی و حمیت وغیرہ میں سب پر فائق تھے وہ اس ناپاک اور ذلت آمیز حرکت کو امیر المومنین علیؓ کے گھر میں اور رسول اللہﷺ کی نواسی کے ساتھ کیسے برداشت کر سکتے تھے؟ اور مزید برآں علیؓ کب اسے برداشت کر سکتے تھے جب کہ وہ نامور بہادر، بنو غالب کے بےباک فرد اور مشرق و مغرب میں اللہ کے شیر تھے۔ 

(مؤتمر النجف: السويدی: صفحہ 86، بحواله مذهب الشيعة: جلد 2 صفحہ 937)

بعض رافضی مؤلفین کو دختر علیؓ کے نکاح سے متعلق جب مذکورہ تاویل وتوجیہ پسند نہ آئی تو انھوں نے اس دلیل سے چھٹکارہ لینے کے لیے اس سے بھی زیادہ عجیب وغریب دیومالائی منطق کا سہارا لیا اور کہا کہ وہ ام کلثومؓ علیؓ کی حقیقی بیٹی ہی نہ تھیں، بلکہ ان کی شکل و صورت میں ایک جننیہ جنات نژاد خاتون تھی۔

(الأنوار النعمانية: جلد 1 صفحہ 84،83 بحواله أصول مذهب الشيعة: جلد 2 صفحہ 938)

پس حیرت ہے کہ دلیل بھی دی ہو تو ایسی جس کا ہر عقل مند مذاق اڑائے، اس طرح تو ہر شخص جسے کسی سے نفرت ہو وہ اس کو جن یا جننیہ قرار دے سکتا ہے۔ لوگ اسی طرح سے خرافات میں زندگی گزارتے ہیں اور حقانق کو ضائع کرتے ہیں۔

خلفائے راشدینؓ کے درمیان حقیقی محبت و اخوت کے قرائن میں سے یہ بات بھی ہے کہ ان میں قرابت داریوں کے تعلقات برابر قائم تھے اور ہر ایک نے باہمی محبت کا مظاہرہ کیا جیسا کہ ہم نے پچھلے صفحات میں دیکھ لیا ہے کہ خود علی، حسن، اور حسین رضی اللہ عنہم نے خلفائے راشدینؓ سے فرط عقیدت ہی کی بنا پر اپنے بیٹوں کے نام ابو بکر وعمر رکھے تھے، کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی انسان اپنے سب سے بڑے کافر دشمن یا مبغوض ترین مدمقابل کے نام پر اپنی اولاد کا نام رکھے؟ اور اپنے دشمنوں کے نام کو اپنے گھر کے کونے کونے سے سنے؟ اور خود اپنے گھر و خاندان میں روزانہ کئی مرتبہ اپنے دشمن کا نام دہرائے؟

(أصول مذهب الشيعة: جلد 2 صفحہ 938)

بے شک صحابہؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ اور ائمہ اسلام سے جو بات معروف ومتحقق ہے وہ یہی ہے کہ سیدنا علیؓ نے تاعمر ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی زندگی و خلافت میں اور ان کی وفات کے بعد ان سے قلبی محبت رکھی، جب تک ان خلفاء کی خلافت رہی آپ نے سمع واطاعت کا مظاہرہ کیا، آپؓ ان سے محبت کرتے اور وہ آپ سے، آپ ان کی تعظیم کرتے اور وہ آپ کی، ان کی تئیں آپ کی محبت میں صداقت تھی، اطاعت میں اخلاص تھا، اس کے ساتھ جہاد کرتے جس کے ساتھ وہ جہاد کرتے، جس چیز کو وہ پسند کرتے وہی آپ کو پسند ہوتی، جس چیز کو ناپسند کرتے وہ آپ کے نزدیک بھی ناپسندیدہ ہوتی، وہ خلفاء ناگہانی حالات و حوادث کے وقت آپ سے مشورہ لیتے تو آپؓ انھیں خیرخواہ، مشفق محب کی حیثیت سے مشورہ دیتے، چنانچہ انھوں نے اپنے دورِ خلافت میں بہت سے معاملات حضرت علیؓ ہی کے مشورہ سے انجام دیے۔

(الشریعۃ: الآجری: جلد 2 صفحہ 2312)

بالکل یہی جذبات و احساسات ان خلفاء کے دل میں حضرت علیؓ کے تئیں تھے بیان کیا جاتا ہے کہ سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان، اور علی رضی اللہ عنہم کی یکجائی محبت اس امت کے حقیقی تقویٰ شعاروں ہی میں پائی جاسکتی ہے۔

(الشریعۃ: الآجری: جلد 2 صفحہ 2312)

حضرت سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عثمان اور علی رضی اللہ عنہ کی ایک ساتھ یکساں محبت خال خال شرفاء پرہیزگاروں کے دلوں میں ہی میں جگہ پاسکتی ہے۔

(حلیۃ الأولیاء: جلد 7 صفحہ 32)۔ 

اور حضرت انس بن مالکؓ کا قول ہے کہ روافض شیعہ کا یہ کہنا کہ سیدنا عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کی محبت ایک ساتھ کسی مومن کے دل میں اکٹھی نہیں ہو سکتی، بالکل جھوٹ ہے، الحمدللہ اللہ نے دونوں کی محبت ہمارے دلوں میں ایک ساتھ جمع کردی ہے۔

(الشریعۃ: الآجری: جلد 5 صفحہ 2312 اس کی سند صحیح ہے۔)