4: سیدنا ابوبکر، عمر، اور عثمان رضی اللہ عنہم کی نبی اکرمﷺ کے نزدیک خصوصی حیثیت تھی:
عوام و خواص سب کو معلوم ہے اور تواتر سے یہ بات ثابت ہے کہ ابوبکر، عمر، اور عثمان رضی اللہ عنہم کو نبی کریمﷺ کے نزدیک خصوصی حیثیت و مقام حاصل تھا۔ ان کی صحبت اور قرابت دوسروں سے بدرجۂ بلند تھی، سب کے ساتھ آپ کی رشتہ داریاں رہیں، آپﷺ ان سب کو پسند فرماتے رہے، اور تعریف کرتے رہے دریں صورت یہ لوگ ظاہر و باطن ہر اعتبار سے نبی کریمﷺ کی پوری زندگی، اور آپ کی وفات کے بعد یقیناً استقامت پر قائم رہے ہیں، اور اگر ایسا نہیں تھا، بلکہ آپﷺ کی زندگی میں ان لوگوں کی استقامت میں تزلزل آ گیا، یا آپﷺ کی وفات کے بعد ایسے ہو گئے تو بہرحال یہ کہنا پڑے گا کہ نبی کریمﷺ سے اتنی گہری اور مضبوط قرابت و رکابت کے باوجود استقامت پر قائم نہ رہنا دو میں سے ایک صورت کو مستلزم ہے یا تو آپﷺ کو ان لوگوں کے احوال، اور شب وروز کی اچھی طرح واقفیت نہ تھی یا تھی لیکن آپﷺ نے مداہنت سے کام لیا اور یہ دونوں ہی باتیں نبی اکرمﷺ کی ذات اقدس میں بہت بڑی گستاخی ہیں۔ شاعر کہتا ہے:
فَاِنْ کُنْتَ لَاتَدْرِیْ فَتِلْکَ مُصِیْبَۃً وَإِنْ کُنْتَ تَدْرِیْ فَالْمُصِیْبَۃُ أَعْظَمُ
’’اگر تم نہیں جانتے تھے تو یہ ایک مصیبت ہے، اور اگر جانتے تھے تو یہ اس سے بھی بڑی مصیبت ہے۔‘‘
نیز ان برگزیدہ ہستیوں کو استقامت کے بعد انحراف سے مہتم کرنا، گویا اللہ کی طرف سے اس کے رسول پر اس کے خواص اور اکابر صحابہؓ کو لے کر، رسوائی الٰہی کا نزول ہے، بھلا یہ کیونکر سوچا جاسکتا ہے کہ جس ذات نے اپنے دین کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنے کا وعدہ کیا ہے اس کے خاص ترین بندوں یعنی انبیاء و مرسلین کے جانثار و فداکاران ساتھی مرتد ہو جائیں؟ یقیناً ایسا ہرگز نہیں ہے اور اس طرح کے دیگر کلیجہ شکن الزامات کے ذریعہ سے یہ روافض نبی اکرمﷺ کی ذات اقدس میں قدح و گستاخیاں کرتے ہیں، جیسا کہ امام مالک رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے کہ درحقیقت یہ روافض نبی اکرمﷺ کی ذات مبارکہ کو اپنے طعن وتشنیع کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں، تاکہ اعتراض کرنے والے کو یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ ایک آدمی تھا، جس کے گندے اور برے ساتھی تھے، اگر وہ نیک ہوتا، تو اس کے ساتھی بھی نیک و پاکیزہ ہوتے، اسی لیے اہل علم کہا کرتے ہیں کہ روافض زندیقوں کے لیے چور دروازہ کا کام کرتے ہیں۔
(منہاج السنہ: جلد 4 صفحہ 123)
أصول مذہب الشیعۃ: جلد 2 صفحہ 93)۔