شیعہ کو قربانی کے جانور میں شریک کرنا:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قربانی کے جانور میں اہلِ سنت وجماعت (بریلوی) کے ساتھ شیعہ کی شرکت کیسی ہے؟ قربانی میں ان کی شرکت سے دوسروں کی قربانی جائز ہو گی یا نہیں؟
جواب: قربانی میں شریک افراد کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایک کی نیت قربانی کی ہو، ورنہ کسی کی بھی قربانی نہیں ہو گی۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ فرماتے ہیں:
لَنۡ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوۡمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰـكِنۡ يَّنَالُهُ التَّقۡوٰى مِنۡكُمۡ
اللہ تعالیٰ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں، نہ ان کے خون، ہاں! تمہاری پرہیزگاری اس تک پہنچتی ہے۔
ہدایہ میں ہے: اگر قربانی کرنے والے کے ساتھ باقی چھ میں کوئی نصرانی ہو یا کوئی ایسا آدمی ہو جو گوشت کا ارادہ رکھتا ہو تو ان میں سے کسی ایک کی طرف سے بھی قربانی نہیں ہو گی۔ چونکہ شیعہ کی کوئی عبادت ہی معتبر نہیں، اس لیے انہیں قربانی میں شامل کرنا جائز نہیں۔
(فتاویٰ بھکھی شریف: جلد1 صفحہ282)