سیدہ فاطمہ کا بطور میراث نبوی ﷺ فدک کا مطالبہ۔ حضرت ابوبکر…

سیدہ فاطمہ کا بطور میراث نبوی ﷺ فدک کا مطالبہ۔ حضرت ابوبکر صدیق کا فرمان نبوی ﷺ بتانا کہ انبیائے کرام کی میراث نہیں ہوتی۔ سیدہ فاطمہ کا خاموش ہوجانا۔  صرف ایک طرق جس میں راوی ابن شہاب الزہری موجود ہے، اس نے اصل روایت میں اضافہ کیا کہ سیدہ فاطمہ ناراض ہوئیں۔(قسط 7)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

 شیعہ مناظر: جی شکریہ ۔مجھ پر خیانت کے الزام کا جواب نہیں دوں گا  کیونکہ اس سے بحث اپنے علمی محور سے نکل جائے گی ۔ اللہ ہمیں خیانت جیسی برائیوں سے دور رکھے ۔ جناب قریشی صاحب آپ نے یا میرے مدعا کو سمجھا نہیں ہے یا   میں نے ایک سادہ سوال کیا تھا  کہ  یہ ساری باتیں صحیحین میں ہیں یا نہیں  ؟ میرے خیال سے آپ ایک حقیقت کا انکار تو نہ کریں ۔ کل میں نے سب اسناد پیش کی ہیں   اور سب کے سامنے بتایا ہے کہ صحیح بخاری کی روایت میں یہ بات موجود ہیں کہ جناب سیدہ  فاطمہ ناراض ہوئی اور بائیکاٹ کی حالت میں دنیا سے چلی گئیں  اور صحیحین میں یہ بات موجود ہیں کہ جناب امیر المؤمنین بھی اس معاملے میں جناب فاطمہ  کو حق بجانب سمجھتے تھے اور خلفاء کی طرف سے ان کے حق نہ دینے کو ظلم اور سمجھتے تھے ۔میں پھر وضاحت کے طور پر آپ سے کہہ رہا ہوں ۔ ابھی میں آپ سے یہ بحث نہیں کر رہا ہوں کہ سیدہ کا ناراض ہونا  صحیح ہے یا نہیں ۔ آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ ناراض ہونے کی باتیں اور مولا علی کا مؤقف صحیحین کی صحیح سند حدیث میں موجود ہے یا نہیں ۔ آپ اس سوال کا جواب دینے کے بجائے یہ کہہ رہے ہیں کہ اصل ناراض ہونے کو ثابت کرو ۔ جناب وہ ابھی دیر ہے بعد کے مرحلے کے لئے رکھنا ۔


اس مرحلے پر شیعہ مناظر کو سنی مناظر کے اشکال کا رد کرنا چاہئے تھا کیونکہ سنی مناظر واضح الفاظ میں سیدہ فاطمہؓ کی ناراضگی کو ایک راوی کا ذاتی خیال کہہ کر مسترد کر رہا تھا۔ جب سیدہ فاطمہؓ کی شدید ناراضگی اہلسنت قبول ہی نہیں کرتے بلکہ ان کی شان کے خلاف سمجھتے ہیں تو شیعہ مناظر کو یہ نکتہ ثابت کرنا تھا! لیکن وہ اس نکتہ پر بات کرنے پر تیار ہی نہیں تھے، کیونکہ بذات خود وہ مناظرہ نہیں کر رہے تھے بلکہ ان کے پیچھے شیعہ مناظرین کی پوری فوج موجود تھی!سنی مناظر نے ناقابل تردید ثبوت دکھائے تو مجبوراً خود شیعہ مناظر دلشاد نے بھی  آخر میں اقرار کر لیا تھا۔


 آپ  کو اصولاً  یوں کہنا چاہئے ہماری کتابوں میں یہ باتیں تو ہیں لیکن یہ باتیں غلط ہیں اور غلطی سے یہ باتیں ہماری کتابوں میں نقل ہوئی ہیں حقیقت کچھ اور ہے ۔لیکن کبھی یہ نہ کہیں  کہ یہ باتیں شیعوں کی بنائی ہوئی داستانیں ہیں  کیونکہ ان باتوں کا خاص کر صحیحین میں ہونا قابل انکار ہی نہیں۔

 شیعہ اور  اہل سنت کے درمیان گفتگو کا بنیادی محور  یہی مرحلہ ہے ، کہ ان حضرات نے فدک کو اپنا حق سمجھ کر مطالبہ کیا اور یہ حضرات خلفاء کو اپنے اس حق سے محروم کرنے والے سمجھتے تھے ۔ یہ سب باتیں خاص کر اہلِ سنت کی سب سے معتبر کتب صحیحین میں موجود ہیں ۔ اب جب آپ یہ کہہ دیں کہ یہ باتیں  تو ہماری کتابوں میں ہیں لیکن راوی کی غلطی ہے   تو پھر اگلے مرحلے میں آپ کو یہ جواب دوں گا  کہ یہ باتیں بلکل صحیح ہیں  لیکن یہ ابھی نہیں ۔ صبر کریں۔

 سنی  مناظر: آپ نے فدک کے واقعے پر  تحریر لکھ کر تاثر دیا کہ سیدہ کو فدک نہ دیکر ظلم کیا گیا! جبکہ وہ اہم نکتہ جس کی بنیاد پر ہی فیصلہ ہوا، اسے عوام سے چھپایا۔ کیا یہ خیانت نہیں ہے؟ آپ کو جواب نہیں دینا  آتا تو پھر مختلف  واٹس اَپ گروپس میں گفتگو کے لئے چیلینج کیوں کرتے  پھر رہے ہیں؟  میں آپ کے مدعا اور مقصد کو اچھی طرح سمجھ کر ہی گفتگو کر رہا ہوں۔ اور آپ کے سادہ سوال میں جو خیانت چھپی ہے اسے عوام تک پہنچا رہا ہوں۔

آپ نے صحیحین کی نامکمل باتیں لکھ کر عوام کو  گمراہ کیا ہے اور یہ کوئی دین کی خدمت نہیں ہے۔  آپ نے کل اسناد پیش کیں، سیدہ کی ناراضگی کے وہ الفاظ دکھائے جو صرف ایک راوی سے مروی ہیں، کیا آپ کا یہی ایمان ہے کہ تحقیق کئے بغیر صرف اس گمان پر یقین کر لیا  جائے؟ آپ نے یہ کیوں نہیں دکھایا کہ انہی صحیحین میں یہ بھی موجود ہے کہ فدک کا فیصلہ نبی کریمﷺ خود کر چکے تھے۔

 ابھی آپ بحث نہیں کر رہے تو کیا فضول ٹائم پاس کرنا چاہتے ہیں۔ میرے وضاحت طلب نکات پر آپ جواب دینے کے پابند ہیں۔ گروپ کے شیعہ ممبرز بھی آپ سے امید رکھے ہوئے ہوں گے۔ میں عرض کر چکا ہوں کہ ناراض ہونے کا ذکر اہل سنت کے ہاں راوی کے ذاتی گمان کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ہماری احادیث کو ہم جس طرح سمجھتے ہیں وہی آپ کو تسلیم کرنا  پڑے گا۔  ہماری کتب کی باتیں ہم ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ آپ اگر غلط سمجھ رہے ہیں تو یہ آپ کی غلطی ہے۔ میں تو آپ کو پورا پورا موقعہ دے رہا ہوں کہ آپ اپنی بات کو ثابت کر کے دکھائیں۔  شیعوں نے ہماری احادیث سے غلط مطالب نکالے ہیں۔ یہی حقیقت آج ثابت ہو رہی ہے۔ اگر آپ واقعی منصف مزاج ہیں تو میرے وضاحت طلب نکات پر جواب دیں تاکہ سب کو یقین ہوسکے کہ آپ کا مقصد واقعی حق طلبی ہے۔ آپ کی بات اس وقت تسلیم کی جائے گی جب آپ ٹائم پاس کرنے کے بجائے میرے وضاحت طلب نکات کے علمی جوابات  دیں گے۔  اب تک کی گفتگو میں مندرجہ ذیل نکات کی وضاحت آپ سے مطلوب ہے۔ہمارے درمیان طے شدہ شرائط میں شرط نمبر 5 کو پڑھ لیجئے گا اس کے مطابق ہم دونوں ایک دوسرے کو اپنی باتوں کے جوابات دینے کے پابند ہیں۔

سیدہ فاطمہ کے مطالبہ فدک کا تعین کریں کیونکہ آپ کا مدعا براہ راست صحیحین کی روشنی میں ہے۔

¹ـ کیا اہلِ سنت کے ہاں سیدہ کی طرف سے  مطالبہ فدک بطور میراث نبوی  کو اہل تشیع بھی تسلیم کرتے ہیں؟

²ـ  اگر اہلِ تشیع تسلیم نہیں بھی کرتے تو صحیحین میں موجود اتنی واضح حقیقت عوام سے چھپاتے کیوں ہیں؟ آپ نے اپنی تحریر میں اس واقعے کو بیان کرنے میں خیانت کیوں کی ہے؟ سیدہ کا مطالبہ بیان کرنے  کے بعد خلفاء کا عذر/مجبوری بیان کیوں نہیں کی گئی؟ کیا یہ براہ راست شان نبوت میں گستاخی نہیں ہے؟

³ـ کسی بھی صحیح روایت کے متن سے سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کو ثابت کریں۔

(الف) سیدہ فاطمہ کے وہ الفاظ جن سے ناراضگی ثابت ہو رہی ہو۔

(ب) سیدہ فاطمہ کے چہرے یا جسمانی تاثرات سے ناراضگی کا بیان ہونا۔

⁴ـ  راوی ابنِ شہاب کے علاوہ کسی بھی طرق سے سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کا بیان ہونا کسی اور راوی کے گمان سے ثابت کریں۔

⁵ـ دلیل دیں کہ اہلِ تشیع کے ہاں صحیح روایت میں راوی کا گمان من و عن قبول کیا جاتا ہے۔


صفحہ 2 از 2