سیدنا ابوبکر، عمر عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کی خلافت کی درستگی پر تمام صحابہ کرامؓ کا اجماع ہے، اگر ان میں کسی پر کوئی شخص اعتراض کرتا ہے، تو وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو مخالفت کرتا ہے۔
وَمَنۡ يُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَـهُ الۡهُدٰى وَ يَـتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيۡلِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصۡلِهٖ جَهَـنَّمَ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا ۞ (سورۃ النساء آیت 115)
ترجمہ: اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے، اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے، اس کو ہم اسی راہ کے حوالے کردیں گے جو اس نے خود اپنائی ہے، اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
اور اس فرمان نبویﷺ کا بھی مخالف ہے:
عَلَیْْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ عَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ۔
’’تم اپنے اوپر میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کی سنت لازم کر لو، اور انھیں مضبوطی کے ساتھ دانتوں سے پکڑلو۔‘‘
اس حدیث میں جن خلفاء کا ذکر ہے وہ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم ہی ہیں ۔
(الشریعۃ: الآجری: جلد 4 صفحہ 1768)۔
امام ایوب سختیانی نے اس مقام پر بہت ہی عمدہ، بات کہی ہے، فرماتے ہیں:
’’جس نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو پسند کیا اس نے دین قائم کیا، جس نے سیدنا عمر فاروقؓ کو پسند کیا اس نے راستہ کھولا، اور اسے واضح کیا، جس نے حضرت عثمانؓ کو پسند کیا وہ اللہ کے نور سے منور ہوا، اور جس نے سیدنا علیؓ کو پسند کیا اس نے مضبوط کڑے کو سختی سے پکڑ لیا، جو شخص صحابہ کرامؓ کے بارے میں اچھی بات کہے وہ نفاق سے پاک ہے۔‘‘
(الشریعۃ: الآجری: جلد 4 صفحہ 1772 ،1773)۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
اِنِّیْ رَضِیْتُ عَلیاً قُدْوَۃً عَلَماً
کَمَارَضِیْتُ عَتِیْقاً صَاحِبَ الْغَارِ
’’میں علیؓ اپنا قدوہ اور نشان ہدایت مان کر خوش ہوں، جس طرح کہ میں عتیق اور غار والے یعنی ابوبکر صدیقؓ سے خوش ومطمئن ہوں۔‘‘
وَقَدْ رَضِیْتُ اَبَا حَفْصٍ وَشِیْعَتہٖ
وَمَا رَضِیْتُ بِقَتْلِ الشَّیْخِ فِی الدَّارِ
’’میں ابو حفص (عمر رضی اللہ عنہ ) اور ان کے ساتھیوں سے خوش ہوں، لیکن شیخ (عثمان رضی اللہ عنہ ) کو گھر میں قتل کردینے سے میں ہرگز خوش نہیں ہوں۔‘‘
کُلُّ الصَّحَابَۃ عِنْدِی قُدْوَۃٌ عَلَمٌ
فَہَلْ عَلَيّ بہذا القَوْلِ مِنْ عَارِ
’’تمام صحابہ میرے نزدیک قدوہ اور نشان ہدایت ہیں پس کیا اسے کہتے ہوئے مجھے کوئی شرم ہے؟
اِنْ کُنْتُ تَعْلَمُ اِنِّیْ لَا اُحِبُّہُمُ
إِلَّا لِوَجْہِکَ أعْتِقْنِیْ مِنَ النَّارِ
(الشریعۃ: الآجری: جلد 5 صفحہ 2536)۔
’’اے اللہ! یقیناً تو جانتا ہے کہ میں ان سے محض تیری رضا کے لیے محبت کرتا ہوں، تو مجھے جہنم سے آزاد کردے۔‘‘
بہرحال علی اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے درمیان نمایاں و منفرد تعلقات کے قطعی اور روشن دلائل موجود ہیں۔ تفصیل کے ساتھ پیچھے صفحات میں بیان کیا جاچکا ہے۔ یہاں مزید چند دلائل کا ذکر کیا جا رہا ہے جس میں یہ وضاحت ہے کہ سیدنا علیؓ کی نگاہ میں خلفائے راشدینؓ کی کیسی قدر ومنزلت تھی۔