شورش کے آغاز میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف - دفاعِ…

شورش کے آغاز میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

درحقیقت یہ زہر آلود جعلی خط ایسا نہیں تھا جسے ان مجرموں نے پہلی مرتبہ لکھا ہو، بلکہ اس سے پہلے امہات المؤمنین، علی، طلحہ، اور زبیر رضی اللہ عنہم وغیرہ کی طرف جھوٹے و جعلی خطوط ان لوگوں نے منسوب کیے تھے۔ سیدہ عائشہؓ پر تہمت لگائی کہ انھوں نے لوگوں کو خط لکھ کر حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت پر ابھارا، لیکن سیدہ عائشہؓ نے اس کی تردید کی اور کہا: قسم ہے اس ذات واحد کی جس پر مومن ایمان لائے، اور کفر کرنے والوں نے کفر کیا میں نے ان کے نام کسی سفید ورق پر روشنائی نہیں چلائی ہے یہاں تک کہ آج یہاں آ بیٹھی۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 334)

اعمش بھی اس واقعہ کا تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں: لوگ سمجھتے تھے کہ اسے حضرت عائشہؓ کی طرف جعلی طور سے منسوب کیا گیا ہے۔

(تاریخ خلیفہ بن خیاط: صفحہ 169)

اسی طرح باغیوں کی ان ٹولیوں نے حضرت علیؓ پر بھی تہمت لگائی کہ انھوں نے ہمیں خط لکھ کر مدینہ بلایا تھا، پھر حضرت علیؓ نے بھی ان کی ترید کی، قسم کھا کر کہا: اللہ کی قسم کھاتا ہوں میں نے تمھارے نام کوئی خط نہیں لکھا۔

(البدایہ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 191، تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 335)۔

نیز انھوں نے دیگر کئی صحابہ کرامؓ پر یہ تہمت لگائی کہ انھوں نے ہمارے نام یہ خط لکھ کر بلایا تھا کہ محمد (ﷺ) کا دین بگڑ چکا ہے، اس پر عمل نہیں ہو رہا ہے اور مدینہ میں جہاد کرنا، دور دراز ملکی سرحدوں کی حفاظت سے بہتر ہے۔

(البدایہ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 175، تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 335)۔

حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ ان روایات کا تجزیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’یہ سب باتیں صحابہ کرامؓ پر تہمتیں ہیں، جھوٹے اور جعلی خطوط ان کی طرف منسوب کر دیے گئے ہیں، قاتلین عثمان یعنی خوارج کے نام علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کے خطوط منسوب کیے جاتے ہیں، جو کہ یکسر جھوٹ ہیں اور ان پاکیزہ نفوس نے ان کی تردید بھی کر دی ہے خود حضرت عثمانؓ کی طرف یہ جعلی اور جھوٹا خط منسوب کیا گیا ہے، حالانکہ آپ نے نہ اسے لکھوایا اور نہ ہی آپ کو اس کا علم تھا۔‘‘

(البدایہ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 175)

ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ کے اس تجزیہ و تحقیق کی تائید طبری اور خلیفہ بن خیاط کی روایات سے بھی ہوتی ہے جن میں انھوں نے صحیح روایات سے ثابت کیا ہے کہ علی عائشہ، اور زبیر رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدرصحابہ نے خود جھوٹی تحریروں کی تردید کی ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 335)

واقعہ یہ ہے کہ جن ناپاک اور مجرم ہاتھوں نے ان صحابہ کی طرف جھوٹ، جعلی خطوط کو منسوب کیا تھا، انھیں ہاتھوں نے اوّل سے آخر تک فتنوں کی آگ لگائی اور فساد وتخریب کا جال بچھا دیا، اور انھیں نجس روحوں نے حضرت عثمانؓ پر تہمتوں کی بوچھاڑ کی کہ انھوں نے یہ غلط کیا، اور یہ غلط کیا، لوگوں میں یہی پروپیگنڈا کیا گیا اور عوام الناس نے اسے سچ جان لیا اور پھر اس جعلی خط کو سیدنا عثمانؓ سے جوڑ دیا، تاکہ حضرت عثمانؓ شہادت کی چوکھٹ پر سرکٹا کر اپنے رب سے سرخرو ہو کر جا ملیں۔ حضرت عثمانؓ اس سبائی یہودی سازش میں تنہا مظلوم نہیں ہیں بلکہ خود اسلام ان سے پہلے مظلوم ہے، صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ ہماری محرف اسلامی تاریخ اور اسے پڑھنے اور ماننے والی امت مسلمہ ان مظلومین میں سے ہے جن پر اس خبیث یہودی اور اس کے ہم فطرت اعوان و انصار نے بڑا ستم ڈھایا ہے۔ پس کیا امت مسلمہ کی نئی نسلوں کے لیے وہ وقت ابھی نہیں آیا جس میں وہ اپنی سچی و حقیقی تاریخ اور اس کی سرکردہ ہستیوں کو اچھی طرح پہچان سکیں؟ بلکہ کیا اس دور کے مسلمان ادباء و مؤرخین اب بھی اس بات سے خبردار نہ ہوں گے کہ اللہ سے خوف کھائیں اور تحقیق سے قبل امت کے پاک نفوس (صحابہ کرامؓ) پر انگلی نہ اٹھائیں تاکہ غیروں کی طرح یہ بھی ضلالت کے گڈھے میں نہ جاگریں۔

(عثمان بن عفان الخلیفۃ الشاکر الصابر: صفحہ 228، 229)۔


صفحہ 2 از 2