شورش کے آغاز میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف - دفاعِ…

شورش کے آغاز میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

1۔ شورش کے آغاز میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان غنیؓ کے عہد میں بھی دیگر صحابہ کرامؓ کی طرح اپنے معروف و معہود طرز عمل پر قائم رہے۔ یعنی سمع و اطاعت کا مظاہرہ کیا، مشورہ اور خیر خواہی کو مقدم رکھا، حضرت علیؓ نے حضرت عثمانؓ کی اطاعت، اور ان کے حکم کی بصد شوق پابندی کا اظہار نہایت عمدہ الفاظ میں کیا اگرچہ انھیں بجالانا گراں ہی کیوں نہ ہو: ’’اگر حضرت عثمان غنیؓ چشمہ صرار تک جانے کو کہیں تو میں اسے سننے اور ماننے کے لیے تیار ہوں۔‘‘

(مصنف ابن أبی شیبۃ: جلد 15 صفحہ 225،اس کی سند صحیح ہے۔)

اور حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت سے تقریباً ڈیڑھ مہینا قبل جب شرپسندوں کا گروہ ذو المروہ پہنچا تو حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت علیؓ اور ایک دوسرے شخص کو جس کا نام روایات میں مذکور نہیں ہے، ان کے پاس بھیجا، حضرت علیؓ نے ان سے کہا: اللہ کی کتاب کے حوالہ سے فیصلہ ہوگا اور تمھاری ناراضی کے اسباب پر غو ر کیا جائے گا۔ اس پر انھوں نے اپنی موافقت کا اظہار کیا۔

(تاریخ دمشق ترجمہ عثمان: صفحہ 328، تاریخ خلیفہ بن خیاط: صفحہ 169)۔

اور ایک روایت میں ہے کہ دو، تین مرتبہ حضرت علیؓ اور ان کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، پھر سب کہنے لگے، یہ رسول اللہﷺ کے چچازاد بھائی ہیں، اور امیر المؤمنین عثمانؓ کے قاصد بن کر آئے ہیں، اللہ کی کتاب کا حوالہ دیتے ہیں، ان کی باتیں مان لو پھر انھوں نے ان کی باتیں مان لیں۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 129)

 چنانچہ وہ لوگ اپنے پانچ مطالبات پر صلح کرنے کے لیے آمادہ ہوئے:

1: جو ملک بدر کردیے گئے ہیں انھیں واپس لایا جائے۔

2: جنھیں سرکاری خزانہ سے کوئی عطیہ نہیں دیا گیا ہے، انھیں عطیہ دیا جائے۔

3: اور مال فے کو ان کے مستحقین تک پورا پورا پہنچایا جائے۔

4: وظائف کی تقسیم میں عدل و انصاف سے کام لیا جائے۔

5: اور امانت دار و طاقتور لوگوں کو ریاستوں کا گورنر مقرر کیا جائے۔

ان مطالبات کو کتابی شکل میں تحریر کرنے کے بعد یہ بھی لکھا کہ ابنِ عامرؓ کو دوبارہ بصرہ کا گورنر بنا کر بھیجا جائے اور حضرت ابو موسیٰؓ کو کوفہ کا گورنر رہنے دیا جائے۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 129)۔

 بہرحال حضرت عثمانؓ نے شرپسندوں کی تمام ٹولیوں سے الگ الگ مل کر ان کے مطالبات تسلیم کر لیے، اور سب اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 129)

جب ان کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے اور سب خوشی خوشی اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے تو شورش پسندوں کو اندازہ ہو گیا کہ اب ہمارامنصوبہ ناکام ہو چکا ہے، اور ہمارے عزائم پورے ہونے والے نہیں ہیں، چنانچہ فتنہ کی آگ بھڑکانے اور مصالحت کے نتائج کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کے لیے انھوں نے ایک دوسری سازش رچائی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مصری جب اپنے ملک واپس جا رہے تھے تو راستہ میں انھیں ایک اونٹ سوار ملا، جو کبھی اس قافلہ کے بہت قریب ہوتا اور کبھی ان سے بہت دور چلا جاتا ہے، گویا وہ اشارہ دے رہا تھا کہ مجھے گرفتار کر لو، چنانچہ مصری قافلہ نے اسے گرفتار کر لیا، اور پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں امیر المؤمنین عثمانؓ کا ایلچی ہوں اور ان کے گورنر کے پاس جارہا ہوں، انھوں نے قاصد کی تلاشی لی اور اس سے ایک خط دستیاب کیا جس میں حضرت عثمانؓ کی طرف سے گورنر کو یہ ہدایت تھی کہ اس وفد کے شرکاء کو پھانسی دے دو یا قتل کر دو یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دو، مصری گروہ نے جب یہ خط دیکھا تو مدینہ واپس لوٹ آئے۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 379)

ادھر حضرت عثمانؓ کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اس سے لاعلمی ظاہر کی، اور ان سے کہا کہ دو ہی صورتوں میں تمھاری باتوں کو صحیح مانا جاسکتا ہے، مسلمانوں کی گواہی پیش کرو، یا اللہ واحد کی قسم کھاؤ کہ جس کے علاوہ کوئی معبود حقیقی نہیں، پھر کہا: میں نے ایسا کوئی خط نہیں لکھا ہے نہ لکھوایا ہے، اور نہ ہی مجھے اس کا علم ہے، لکھنے والے کبھی کبھی دوسرے کی طرف منسوب کر کے خط لکھ دیتے ہیں اور اس پر نقلی مہر لگا دیتے ہیں۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 132،

البدایہ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 191)۔

لیکن انھوں نے بد باطنی کی وجہ سے آپ کی بات نہ مانی حالانکہ آپ سچے اور پرہیزگار تھے۔ حقیقی بات یہ ہے کہ جس خط کے بارے میں ان باغیوں اور شرپسندوں نے یہ شور کیا کہ وہ حضرت عثمانؓ کا خط تھا، اس پر ان کی مہر لگی تھی، اور وہ صدقہ کے اونٹ پر سوار ہو کر جا رہا تھا، اور اس خط میں حضرت عثمانؓ نے مصر کی باغی جماعت کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا یہ سب جھوٹ اور کھلا ہوا بہتان ہے جسے سیدنا عثمان غنیؓ کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔

(تیسیر الکریم المنان فی سیرہ عثمان بن عفان: الصلابی: صفحہ 410)

اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مصالحت کے بعد عراقیوں کی ٹولی اپنے ملک کی طرف روانہ ہو چکی تھی اور مصریوں کی جس ٹولی نے وہ خط پکڑا تھا، اس کے اور عراقیوں کی ٹولی میں بہت طویل فاصلہ ہوچکا تھا، دونوں کا الگ الگ راستہ تھا، عراقی مشرق میں جارہے تھے اور مصری مغرب میں، اس کے باوجود یہ کیسے ممکن ہوا کہ دونوں ٹولیاں ایک ساتھ مدینہ واپس آگئیں، جیسا کہ دونوں نے ایک مقررہ وقت پر ملنے کا وعدہ کر رکھا ہو؟ یہ بات ہرگز سمجھ میں نہیں آتی؟ لہٰذا یہ ماننا ہوگا کہ جن لوگوں نے جعلی خط تیار کیا تھا اور کرائے پر ایلچی مقرر کیا تھا، کہ وہ خط لے کر جائے اور مقام بویب پر پہنچ کر مصریوں کے سامنے اپنا کردار نبھائے انھی لوگوں نے ایک شہ سوار کو کرائے پر طے کیا تھا کہ وہ عراقیوں کو جا کر بتا دے کے مصریوں نے حضرت عثمانؓ کا ایک خط پکڑا ہے جس میں انھوں نے مصری باغیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہی بات قرین قیاس ہے، اور اسی کو حضرت علیؓ نے دلیل بناتے ہوئے ان سے پوچھا: اے کوفہ والو! اے بصرہ والو! تمھیں مصریوں کا یہ واقعہ کیسے معلوم ہوا؟ حالانکہ تم اپنے سفر کی کئی منازل طے کر چکے تھے اور پھر ہماری طرف لوٹ آئے، حضرت علیؓ نے صرف قیاس ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ پورے وثوق و یقین سے کہا: اللہ کی قسم! اس معاملہ کے تانے بانے مدینہ میں تیار کیے گئے ہیں۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 359)

صفحہ 1 از 2