صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تعدیل کے محتاج نہیں -…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تعدیل کے محتاج نہیں

  محمد ظفر اقبال

حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عادل اور خیارِ امت ہونا متفق علیہ امر ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم امت میں کسی کی تعدیل کے محتاج نہیں ہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ جو ان کے باطن پر پوری طرح مطلع ہے، ان کی تعدیل کر چکا ہے اکابر علماء نے بڑی صراحت کے ساتھ اس مسئلے کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔

حافظ کبیر ابوبکر بن الخطیب بغدادی رحمۃ اللہ (متوفیٰ 463 ہجری) فرماتے ہیں: 

فلا يحتاج أحد منهم مع تعديل الله تعالى لهم، المطلع علىٰ بواطنهم الىٰ تعديل أحد من الخلق

(الکفایہ: صفحہ  48 باب ما جاء فی تعدیل اللہ و رسولہ الصحابہ، العواصم من القواصم: صفحہ  34 تحت اصحابِ رسول اللہﷺ، الصواعق المحرقۃ: صفحہ 210)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کوئی بھی مخلوقات میں سے کسی کی تعدیل کے محتاج نہیں ہیں اللہ تعالیٰ جو ان کے باطن پر مطلع ہے اس کی تعدیل کے ساتھ کسی اور کی تعدیل کی ضرورت نہیں ہے۔ 

اسی طرح امام ابنِ اثیر الجزری رحمۃ اللہ (متوفیٰ 630 ہجری) لکھتے ہیں:

والصحابة يشار كون سائر الرواة فی جميع ذلك الا فی الجرح والتعديل فانهم كلهم عدول لا يتطرق اليهم الجرح لان الله عزوجل و رسوله زكاهم و عدلاهم و ذلك مشهور لا نحتاج لذكره 

(اسد الغابہ: جلد  1 صفحہ  14 مقدمۂ ابن الاثیر) 

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تمام باتوں میں راویوں کے ساتھ شریک ہیں مگر جرح و تعدیل میں نہیں کیونکہ صحابہ کرامؓ سب کے سب عادل اور ثقہ ہیں ان پر جرح نہیں کی جا سکتی اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے رسول اللہﷺ نے اس کا تزکیہ اور ان کی تعدیل فرمائی ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تزکیہ وتصفیہ کی یہ بات اتنی مشہور ہے جس کے ذکر کی بھی ضرورت نہیں۔ 

مؤرخِ شہیر علامہ ابنِ خلدون المغربی رحمۃ اللہ (متوفیٰ 808 ہجری) فرماتے ہیں:

هذا هو الذی ينبغی ان تحمل عليه افعال السلف من الصحابة والتابعين فهم خيار الامة واذا جعلنا هم عرضة القدح فمن الذی يختص بالعدالة والنبی صلى الله عليه وسلم يقول خير الناس قرنی ثم الذين يلونهم مرتين او ثلاثاً ثم يفشوا الكذب فجعل الخيرة وهى العدالة مختصّة بالقرن الاول والذی يليه فاياك ان تعود نفسك او لسانك التعرض لاحد منهم

(مقدمہ ابنِ خلدون: صفحہ، 218 الفصل الثلاثون فی ولایۃ العہد) 

اسی خیریت پر مناسب ہے کہ سلف کے اعمال کو حمل کیا جائے جو کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین تھے، کیونکہ وہ خیارِ امت تھے اور جب ہم انہیں کو ہدفِ تنقید بنانے لگیں تو پھر کون ہے جس کو عدالت کے ساتھ مختص کیا جائے؟ حالانکہ جناب نبی کریمﷺ نے فرمایا بہتر لوگ میرے دور کے ہیں پھر جو ان سے متصل ہوں دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ، پھر جھوٹ رائج ہو جائے گا، آپﷺ نے ان کی بہتری جو عدالت ہے، کو قرنِ اوّل اور ثانی (اور ثالث) کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے۔ آگاہ ہو جاؤ! ان میں سے کسی ایک کے متعلق دل میں برا خیال اور زبان پر برا لفظ ہرگز نہ لانا۔