فتاویٰ عالمگیری جس کو سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ کے دورِ حکومت میں 500 جیّد محقق اور معتبر علمائے کرام نے بڑی محنت، کاوش اور علمی دیانت سے مرتب کیا تھا، اس میں تصریح موجود ہے:
وَيَجِبُ اكْفار الرَّوَافِضِ وَهَؤُلَاءِ الْقَوْمُ خَارِجُونَ عَن مِّلَّةِ الْإِسْلَامِ وَأَحْكَامُهُمْ أَحْكَامُ الْمُرْتَدِّينَ
شیعہ اور روافض کو ان کے کفریہ عقائد کی وجہ سے کافر قرار دینا واجب ہے۔ یہ سب لوگ ملتِ اسلام سے بالکل خارج ہیں اور ان کے بارے میں وہی احکام ہیں جو مرتدوں کے لیے ہیں۔
یعنی جس طرح مرتد کا کسی سے نکاح جائز نہیں، کسی سے اسے وراثت نہیں ملتی، اس کا ذبیحہ مردار اور حرام ہے، اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں، اور اسی طرح وہ تمام احکام جو شرعاً مرتدوں پر نافذ ہیں، وہ بلا کم و کاست رافضیوں اور شیعوں پر بھی جاری و ساری ہیں۔
الغرض شیعہ کا کفر اتنا اور ایسا واضح ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے عقائد پر مطلع ہو کر ان کے کفر میں تأمل کرے وہ بھی کافر ہے۔ چنانچہ تصریح موجود ہے: وَمَن تَوَقَّفَ فِی كُفْرهمْ فَهُوَ كَافِرٌ مِّثْلُهُمْ جو شخص شیعہ کے کفر میں تأمل کرے وہ بھی ان ہی جیسا کافر ہے۔
(ارشاد الشیعہ: صفحہ 209)