طعن بَر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اعتقادی…

طعن بَر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اعتقادی ممانعت

  محمد ظفر اقبال

کتاب و سنت کے ساتھ اہلِ سنت والجماعت کی کتبِ عقائد میں بھی یہ مسئلہ نہایت صراحت و وضاحت کے ساتھ مسطور ہے کہ حضراتِ صحابہ کرامؓ عادل و ثقہ ہیں اور ہر طرح کی جرح سے بالا ہیں، جو ان پر زبانِ طعن دراز کرتا ہے۔ اس کا اپنا ایمان و اسلام مشکوک و متہم ہے، وہ قابلِ سزا و مستوجبِ عقوبت ہے، الحمدللہ عقائد میں اہلِ سنت والجماعت (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) ایک ہیں۔ ان میں سرِمو فرق نہیں۔ آئیے اہلِ سنت والجماعت کی کتبِ عقائد سے طعن بَر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ممانعت پر چند حوالہ جات پڑھیں اور اسے اپنی زندگی کا نصب العین بنائیں، ساتھ ہی ناقدین و طاعنینِ صحابہ کرامؓ کا شرعی حکم بھی معلوم کریں۔  

اہلِ سنت والجماعت کے ہاں عقیدۃ الطحاوی عقائد کا ایک مستند مجموعہ ہے، جس میں حضرت امام ابو جعفر الطحاویؒ (متوفیٰ 321ھ) نے عقائدِ اہلِ سنت کو محدثین کے مسلک اور ائمہ ثلاثہ (حضرت امام اعظم ابو حنیفہ (متوفی 150ھ)، حضرت امام ابو یوسف (متوفی 182ھ)، اور حضرت امام محمد (متوفی 189ھ) رحمہم اللہ) کے اقوال کے مطابق بڑی جامعیت سے ترتیب دیا ہے، تمام اہلِ سنت نے اس بےنظیر مجموعۂ عقائد کو سلفاً و خلفاً قبول کیا ہے اور اسی کو پڑھتے پڑھاتے آئے ہیں۔ آج بھی یہ رسالہ سعودی عرب میں درساً پڑھایا جاتا ہے۔اس رسالہ میں لکھا ہے:

ونحب اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولا نفرط فی حب احد منھم، ولا نتبرأ احد منھم، ونبغض من یبغضھم و بغیر الحق نذکرھم، ولا نذکرھم الا بخیر، وحبھم دین و ایمان و احسان، وبغضھم کفر و نفاق وطغیان الیٰ قوله ومن احسن القول فی اصحاب النبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و ازواجه و ذریاته فقد برئ من النفاق 

(عقیدۃ الطحاویہ: صفحہ 11، 12) 

اور ہم رسول اللہﷺ کے تمام صحابہ کرامؓ سے محبت کرتے ہیں اور ان میں سے کسی کی محبت میں افراط و تفریط نہیں کرتے اور نہ ہی ان میں سے کسی سے بیزاری اور تبرّیٰ اختیار کرتے ہیں اور ہم ہر ایسے شخص سے بغض رکھتے ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض رکھتا ہے اور ان کو برائی سے یاد کرتا ہے اور ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ذکر سوائے نیکی کے نہیں کرتے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت دین، ایمان اور احسان ہے اور ان سے بغض کفر، نفاق اور سرکشی ہے۔ اور جو شخص آنحضرتﷺ کے اصحابؓ و ازواجؓ اور اولادؓ کے بارے میں حسنِ ظن رکھے وہ نفاق سے بری ہے۔ 

حضرت امام مالک رحمۃ اللہ (متوفیٰ 179 ہجری) سے نقل کیا گیا ہے: 

ومن شتم اصحابہ ادب و قال ایضا من شتم واحدا من اصحاب رسول اللہﷺ ابا بکر او عمر او عثمان او معاویہ او عمرو بن العاص فان قال کانوا فی ضلال قتل وان شتم بغیر ھذا من مشاتمة الناس نکل نکالا شدیدا۔(رسائل ابنِ عابدین الشامی: جلد 1 صفحہ  358 تحت الباب الثانی فی حکم سابّ من احد الصحابہؓ)

امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ جو صحابہ کرامؓ پر سبّ وشتم کرے تو اس کی تادیب کی جائے گی اور جو شخص اصحابِؓ رسولﷺ میں سے کسی ایک صحابیؓ خواہ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت امیرِ معاویہؓ یا حضرت عمرو بن العاصؓ ہوں کہ حق میں یہ کہے کہ یہ لوگ گمراہ تھے تو اسے قتل کیا جائے گا اور اگر انہیں عام لوگوں کی گالیوں کی طرح برا بھلا کہے تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔ 

حضرت امام احمد بن حنبلؒ (متوفیٰ 241ھ) کا قول ہے: 

و قال المیمونی سمعت احمد یقول: ما لھم و لمعاویۃ رضی اللہ عنہ نسئل الله العافیۃ وقال یا ابا الحسن اذا رایت احدا یذکر اصحاب رسول اللہﷺ بسوء فاتھمه علی الاسلام۔

(الصارم المسلول: صفحہ  573، تحت فصل فی حکم سبّ الصحابہؓ و سبّ اہلِ بیتہ) 

میمونیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد رحمۃ اللہ کو فرماتے سنا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی برائی کرتے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلب گار ہیں، اور پھر مجھ سے فرمایا اے ابو الحسن! جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ اصحابِؓ رسولﷺ کا ذکر برائی کے ساتھ کر رہا ہے تو اس کے اسلام کو مشکوک و متہم سمجھو۔ 

حضرت امام ابو ذرعہ رازیؒ (متوفیٰ 261ھ) فرماتے ہیں: 

اذا رایت الرجل ینتقص احدا من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاعلم انه زندیق

(الاصابہ: جلد 1 صفحہ 22 ثناء اہل العلم علی الصحابہؓ)

جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ اصحابِؓ رسولﷺ میں سے کسی کی تنقیص کر رہا ہے تو تم جان لینا کہ وہ یقیناً زندیق ہے۔ 

حضرت امام ابوبکر السرخسیؒ (متوفیٰ 483ھ) لکھتے ہیں:

ان اللہ تعالیٰ اثنی علیھم فی غیر موضع من کتاب کما قال تعالیٰ مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ (الآیہ) ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وصفھم بانھم خیر الناس فقال خیر الناس قرنی الذین انافیھم والشریعۃ انما بلغتنا بنقلھم، فمن طعن فیھم فھو ملحد منا بذللاسلام دواؤہ السیف ان لم یتب

(اصول السرخسی: جلد  2 صفحہ، 134 تحت من طعن فی الصحابۃ فہو ملحد) 

تحقیق اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب کے متعدد مواضع میں حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ثناء و صفت بیان فرمائی ہے، جیسے مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ الخ، اور رسول اقدسﷺ نے اپنے ارشادات میں حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خیر الناس فرمایا ہے اور فرمایا ہے وہ لوگ اس عہد کے خیر الناس ہیں جس دور میں مَیں ہوں اور شریعت ہم تک حضراتِ صحابہ کرامؓ کے ذریعے نقل ہو کر پہنچی ہے، پس جو شخص ان کے حق میں طعن و تشنیع کا مرتکب ہو وہ ملحد اور بے دین اور اسلام کو پسِ پشت ڈال دینے والا ہے، اگر وہ توبہ نہ کرے تو اس کا علاج صرف تلوار ہے۔