جہاں نطقِ نبوت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ان گنت فضائل وارد ہوئے ہیں وہیں آپﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں زبانِ طعن دراز کرنے سے منع فرمایا ہے احادیث ملاحظہ فرمائیں:
1: اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی اللہ اللہ فی اصحابی لا تتخذوھم غرضا من بعدی۔
(ترمذی: جلد 2 صفحہ 225 ابواب المناقب باب فی من سب اصحاب النبیﷺ)
ترجمہ: اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کرامؓ کے بارے میں مکرر کہتا ہوں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہؓ کے بارے میں میرے بعد ان کو ہدفِ تنقید مت بنانا۔
2: لا تسبوا اصحابی فلو ان احدکم انفق مثل احد ذھبا ما بلغ مد احدھم ولا نصیفہ
(مسلم: جلد 2 صفحہ، 310 کتاب الفضائل٬ باب تحریم سب الصحابہؓ)
ترجمہ: میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا مت کہو اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا (راہِ خدا میں) خرچ کر دے تو ان کے ایک سیر جو کو نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس کے عشرِ عشیر کو۔
3: اذا رایتم الذین یسبون اصحابی فقولوا لعنۃ اللہ علیٰ شرکم
(ترمذی: جلد 2 صفحہ، 227 ابواب المناقب٬ باب فی من سب اصحاب النبیﷺ، مشکوٰۃ: صفحہ 554 کتاب الفتن باب مناقب الصحابہؓ)
ترجمہ: جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہؓ کو برا بھلا کہتے ہیں تو ان سے کہو تم میں سے (یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ناقدینِ صحابہ کرامؓ میں سے) جو بھی برا ہے اس پر اللہ کی لعنت۔
(اس حدیث کی شرح میں حضرت مرشدی مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ نے ایسے علوم و معارف بیان فرمائے ہیں جو صدّیقین کے قلوب پر بطورِ علمِ لدنی القا ہوا کرتے ہیں۔
1: حدیث میں سب سے بازاری گالیاں دینا مراد نہیں بلکہ ہر ایسا تنقیدی کلمہ مراد ہے جو ان حضرات کے استخفاف میں کہا جائے اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید اور نقطہ چینی جائز نہیں بلکہ وہ قائل کے ملعون اور مغرور ہونے کی دلیل ہے۔
2: آنحضرتﷺ کے قلبِ اطہر کو اس سے ایذا ہوتی ہے (وقد صرح بہ بقولہ فمن اذاھم فقد آذانی) اور آپﷺ کے قلبِ اطہر کو ایذا دینے میں خبطِ اعمال کا خطرہ ہے لقولہ تعالیٰ: اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ لہٰذا سبّ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سلبِ ایمان کا اندیشہ ہے۔
3: صحابہ کرامؓ کی مدافعت کرنا اور ناقدین کو جواب دینا ملتِ اسلامیہ کا فرض ہے (فان الامر للجواب)
4: آنحضرتﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ ناقدینِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ایک ایک بات کا تفصیلی جواب دیا جائے کیونکہ اس سے جواب اور جواب الجواب کا ایک غیر مختتم سلسلہ چل نکلے گا بلکہ یہ تلقین فرمائی کہ انہیں بس اصولی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے اور وہ ہے۔ لعنۃ اللہ علی شرکم
5: شرکم کے لفظ میں دو احتمال ہیں ایک یہ شر مصدر مضاف ہے فاعل کی طرف اس صورت میں معنیٰ یہ ہوں گے کہ تمہارے پھیلائے ہوئے شر پر اللہ کی لعنت اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ شرکم اسم تفضیل کا صیغہ ہے جو مشاکلت کے طور پر استعمال ہوا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ تم میں سے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جو بھی بدتر ہو اس پر اللہ کی لعنت اس میں حضرت محمدﷺ نے ناقدینِ صحابہ کرامؓ کے لیے ایسا کنایہ استعمال فرمایا ہے کہ اگر وہ اس پر غور کرے تو ہمیشہ کے لیے تنقیدِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے روگ کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ اتنی بات تو بالکل کھلی ہے کہ صحابہ کرامؓ کیسے ہی ہوں مگر تم سے تو اچھے ہی ہوں گے تم ہوا پر اڑ لو، آسمان پر پہنچ جاؤ سو بار مر کر جی لو مگر تم سے صحابی تو نہیں بنا جا سکے گا آخر تم وہ آنکھ کہاں سے لاؤ گے جس نے جمالِ جہاں آرائے محمدﷺ کا دیدار کیا وہ کان کہاں سے لاؤ گے جو کلماتِ نبوت سے مشرف ہوئے۔ ہاں! تم وہ دل کہاں سے لاؤ گے جو انفاسِ مسیحائی محمدیﷺ سے زندہ ہوئے وہ دماغ کہاں سے لاؤ گے جو انوارِ قدس سے منور ہوئے تم وہ ہاتھ کہاں سے لاؤ گے جو ایک بار بشرۂ محمدیﷺ سے مَس ہوئے اور ساری عمر ان کی بوئے عنبریں نہیں گئی تم وہ پاؤں کہاں سے لاؤ گے جو معیتِ محمدیﷺ میں آبلہ پا ہوئے؟ تم وہ زمان کہاں سے لاؤ گے جب آسمان زمین پر اتر آیا تھا؟ تم وہ مکان کہاں سے لاؤ گے جہاں کونین کی سیادت جلوہ آرا تھی؟ تم وہ محفل کہاں سے لاؤ گے جہاں سعادتِ دارین کی شرابِ طہور کے جام بھر بھر کر دیئے جاتے اور تشنہ کا مانِ محبت هَلۡ مِنۡ مَّزِيۡدٍ کا نعرۂ مستانہ لگا رہے تھے؟ تم وہ منظر کہاں سے لاؤ گے جو کانی اری الله عیانا کا کیف پیدا کرتا تھا؟ تم وہ مجلس کہاں سے لاؤ گے جہان کانما علی رؤسنا الطیر کا سماں بندھ جاتا تھا؟ تم وہ صدر نشینِ تختِ رسالت کہاں سے لاؤ گے جس کی طرف ھذا الابیض المتکی سے اشارے کیے جاتے تھے؟ (ﷺ) تم وہ شمیمِ عنبر کہاں سے لاؤ گے جس کے ایک جھونکے سے مدینہ کی گلی کوچے معطر ہو جاتے تھے تم وہ محبت کہاں سے لاؤ گے جو دیدارِ محبوب میں خواب نیم شبی کو حرام کر دیتی تھی تم وہ ایمان کہاں سے لاؤ گے جو ساری دنیا کو تج کر حاصل کیا جاتا تھا؟ تم وہ اعمال کہاں سے لاؤ گے جو پیمانہ نبوتﷺ سے ناپ ناپ کر ادا کیے جاتے تھے؟ تم وہ اخلاق کہاں سے لاؤ گے جو آئینہ محمدیﷺ سامنے رکھ کر سنوارے جاتے تھے؟ تم وہ رنگ کہاں سے لاؤ گے جو صبغتہ اللہ کی بھٹی دیا جاتا تھا؟ تم وہ ادائیں کہاں سے لاؤ گے جو دیکھنے والوں کو نیم بسمل بنا دیتی تھیں؟ تم وہ نماز کہاں سے لاؤ گے جس کے امام نبیوں کے امام تھے؟ تم قدوسیوں کی وہ جماعت کیسے بن سکو گے جس کے سردار رسولوں کے سردار تھے؟ (ﷺ) تم میرے صحابہ کو لاکھ برا کہو مگر اپنے ضمیر کا دامن جھنجھوڑ کر بتاؤ اگر ان تمام سعادتوں کے بعد بھی (نعوذ باللہ) میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین برے ہیں تو کیا تم ان سے بدتر نہیں ہو؟ اگر وہ تنقید و ملامت کے مستحق ہیں تو کیا تم لعنت و غضب کے مستحق نہیں ہو؟ اگر تم میں انصاف و حیا کی کوئی رمق باقی ہے تو اپنے گریبان میں جھانکو اور میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں زبان بند کرو۔
علامہ طیبیؒ نے اسی حدیث کی شرح میں حضرت حسان رضی اللہ عنہ کا ایک عجیب شعر نقل کیا ہے۔
اتھجوہ ولست لہ بکفوء
فشرکما لخیر کما فداء
ترجمہ: کیا تو آپﷺ کی ہجو کرتا ہے جبکہ تو آپﷺ کے برابر کا نہیں ہے؟ پس تم دونوں میں کا بدتر تمہارے بہتر پر قربان۔
6: حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تنقیدِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا منشا ناقد کا نفسیاتی شر اور خبث و تکبر ہے آپ جب کسی شخص کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہیں تو اس کا منشا یہ ہوتا ہے کہ کسی صفت میں وہ آپ کے نزدیک خود آپ کی اپنی ذات سے فروتر اور گھٹیا ہے اب جب کوئی شخص کسی صحابیؓ کے بارے میں مثلاً یہ کہے گا کہ اس نے عدل و انصاف کے تقاضوں کو کما حقہ ادا نہیں کیا تو اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اگر اس صحابی کی جگہ یہ صاحب ہوتے تو عدل و انصاف کے تقاضوں کو زیادہ بہتر ادا کرتے گویا ان میں صحابیؓ سے بڑھ کر صفتِ عدل موجود ہے یہ ہے تکبر کا وہ شر اور نفس کا وہ خبث جو تنقیدِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر ابھارتا ہے اور آنحضرتﷺ اسی شر کی اصلاح اس حدیث میں فرمانا چاہتے ہیں۔
7: حدیث میں بحث اور مجادلہ کا ادب بھی بتایا گیا ہے یعنی خصم کو براہِ راست خطاب کرتے ہوئے یہ نہ کہا جائے کہ تم پر لعنت بلکہ یوں کہا جائے کہ تم دونوں میں جو برا ہو اس پر لعنت ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسی منصفانہ بات ہے جس پر سب کو متفق ہونا چاہیے۔ اس میں کسی کے برہم ہونے کی گنجائش نہیں اب رہا یہ قصہ کہ تم دونوں میں برا کا مصداق کون ہے؟ خود ناقد؟ یا جس پر تنقید کرتا ہیں؟ اس کا فیصلہ کوئی مشکل نہیں۔ دونوں کے مجموعی حالات کو سامنے رکھ کر ہر معمولی عقل کا آدمی یہ نتیجہ بآسانی اخذ کر سکتا ہے کہ آنحضرتﷺ کا صحابیؓ برا ہو سکتا ہے یا اس کا خوش فہم ناقد؟
8: حدیث میں فقولو کا خطاب امت سے ہے گویا ناقدینِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آنحضرتﷺ اپنی امت نہیں سمجھتے بلکہ انہیں امت کے مقابل فریق کی حیثیت سے کھڑا کرتے ہیں۔ اور یہ ناقدین کے لیے شدید وعید ہے جیسا کہ بعض دوسرے معاصی پر فلیس منا کی وعید سنائی گئی ہے۔
9: حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضرتﷺ کو جس طرح ناموسِ شریعت کا اہتمام تھا اسی طرح ناموسِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حفاظت کا بھی اہتمام تھا۔ کیونکہ ان ہی پر سارے دین کا مدار ہے۔ حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ناقدینِ صحابہ کرامؓ کی جماعت بھی ان مارقین سے ہے جس سے جہاد باللسان کا حکم امت کو دیا گیا ہے یہ مضمون کئی احادیث میں صراحتاً بھی آیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب (ماہنامہ بینات محرم الحرام 1390ھ)
4: فمن سبھم فعلیہ لعنتہ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین لا یقبل اللہ منہ یوم القیامہ صرفا ولا عدلا
(تفسیر القرطبی: جلد 16 صفحہ 297، 298)
ترجمہ: جو شخص میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بدگوئی کرے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو قیامت کے دن اس کا نہ کوئی فرض قبول ہو گا اور نہ نفل۔