طعن بَر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نبویﷺ ممانعت…

طعن بَر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نبویﷺ ممانعت

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 2

علامہ طیبیؒ نے اسی حدیث کی شرح میں حضرت حسان رضی اللہ عنہ کا ایک عجیب شعر نقل کیا ہے۔

اتھجوہ ولست لہ بکفوء

فشرکما لخیر کما فداء 

ترجمہ: کیا تو آپﷺ کی ہجو کرتا ہے جبکہ تو آپﷺ کے برابر کا نہیں ہے؟ پس تم دونوں میں کا بدتر تمہارے بہتر پر قربان۔

6: حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تنقیدِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا منشا ناقد کا نفسیاتی شر اور خبث و تکبر ہے آپ جب کسی شخص کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہیں تو اس کا منشا یہ ہوتا ہے کہ کسی صفت میں وہ آپ کے نزدیک خود آپ کی اپنی ذات سے فروتر اور گھٹیا ہے اب جب کوئی شخص کسی صحابیؓ کے بارے میں مثلاً یہ کہے گا کہ اس نے عدل و انصاف کے تقاضوں کو کما حقہ ادا نہیں کیا تو اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اگر اس صحابی کی جگہ یہ صاحب ہوتے تو عدل و انصاف کے تقاضوں کو زیادہ بہتر ادا کرتے گویا ان میں صحابیؓ سے بڑھ کر صفتِ عدل موجود ہے یہ ہے تکبر کا وہ شر اور نفس کا وہ خبث جو تنقیدِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر ابھارتا ہے اور آنحضرتﷺ‏ اسی شر کی اصلاح اس حدیث میں فرمانا چاہتے ہیں۔ 

7: حدیث میں بحث اور مجادلہ کا ادب بھی بتایا گیا ہے یعنی خصم کو براہِ راست خطاب کرتے ہوئے یہ نہ کہا جائے کہ تم پر لعنت بلکہ یوں کہا جائے کہ تم دونوں میں جو برا ہو اس پر لعنت ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسی منصفانہ بات ہے جس پر سب کو متفق ہونا چاہیے۔ اس میں کسی کے برہم ہونے کی گنجائش نہیں اب رہا یہ قصہ کہ تم دونوں میں برا کا مصداق کون ہے؟ خود ناقد؟ یا جس پر تنقید کرتا ہیں؟ اس کا فیصلہ کوئی مشکل نہیں۔ دونوں کے مجموعی حالات کو سامنے رکھ کر ہر معمولی عقل کا آدمی یہ نتیجہ بآسانی اخذ کر سکتا ہے کہ آنحضرتﷺ‏ کا صحابیؓ برا ہو سکتا ہے یا اس کا خوش فہم ناقد؟

8: حدیث میں فقولو کا خطاب امت سے ہے گویا ناقدینِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آنحضرتﷺ‏ اپنی امت نہیں سمجھتے بلکہ انہیں امت کے مقابل فریق کی حیثیت سے کھڑا کرتے ہیں۔ اور یہ ناقدین کے لیے شدید وعید ہے جیسا کہ بعض دوسرے معاصی پر فلیس منا کی وعید سنائی گئی ہے۔ 

9: حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضرتﷺ‏ کو جس طرح ناموسِ شریعت کا اہتمام تھا اسی طرح ناموسِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حفاظت کا بھی اہتمام تھا۔ کیونکہ ان ہی پر سارے دین کا مدار ہے۔ حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ناقدینِ صحابہ کرامؓ کی جماعت بھی ان مارقین سے ہے جس سے جہاد باللسان کا حکم امت کو دیا گیا ہے یہ مضمون کئی احادیث میں صراحتاً بھی آیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب (ماہنامہ بینات محرم الحرام 1390ھ)

4: فمن سبھم فعلیہ لعنتہ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین لا یقبل اللہ منہ یوم القیامہ صرفا ولا عدلا 

(تفسیر القرطبی: جلد 16 صفحہ  297، 298)

ترجمہ: جو شخص میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بدگوئی کرے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو قیامت کے دن اس کا نہ کوئی فرض قبول ہو گا اور نہ نفل۔


صفحہ 2 از 2