طعن بَر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نبویﷺ ممانعت…

طعن بَر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نبویﷺ ممانعت

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 1 از 2

جہاں نطقِ نبوت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ان گنت فضائل وارد ہوئے ہیں وہیں آپﷺ‏ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں زبانِ طعن دراز کرنے سے منع فرمایا ہے احادیث ملاحظہ فرمائیں:

1: اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی اللہ اللہ فی اصحابی لا تتخذوھم غرضا من بعدی۔

(ترمذی: جلد 2 صفحہ 225 ابواب المناقب باب فی من سب اصحاب النبیﷺ)

ترجمہ: اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کرامؓ کے بارے میں مکرر کہتا ہوں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہؓ کے بارے میں میرے بعد ان کو ہدفِ تنقید مت بنانا۔

2: لا تسبوا اصحابی فلو ان احدکم انفق مثل احد ذھبا ما بلغ مد احدھم ولا نصیفہ

(مسلم: جلد 2 صفحہ، 310 کتاب الفضائل٬ باب تحریم سب الصحابہؓ)

ترجمہ: میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا مت کہو اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا (راہِ خدا میں) خرچ کر دے تو ان کے ایک سیر جو کو نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس کے عشرِ عشیر کو۔

3: اذا رایتم الذین یسبون اصحابی فقولوا لعنۃ اللہ علیٰ شرکم

(ترمذی: جلد  2 صفحہ، 227 ابواب المناقب٬ باب فی من سب اصحاب النبیﷺ، مشکوٰۃ: صفحہ 554 کتاب الفتن باب مناقب الصحابہؓ)

ترجمہ: جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہؓ کو برا بھلا کہتے ہیں تو ان سے کہو تم میں سے (یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ناقدینِ صحابہ کرامؓ میں سے) جو بھی برا ہے اس پر اللہ کی لعنت۔ 

(اس حدیث کی شرح میں حضرت مرشدی مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ نے ایسے علوم و معارف بیان فرمائے ہیں جو صدّیقین کے قلوب پر بطورِ علمِ لدنی القا ہوا کرتے ہیں۔ 

1: حدیث میں سب سے بازاری گالیاں دینا مراد نہیں بلکہ ہر ایسا تنقیدی کلمہ مراد ہے جو ان حضرات کے استخفاف میں کہا جائے اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید اور نقطہ چینی جائز نہیں بلکہ وہ قائل کے ملعون اور مغرور ہونے کی دلیل ہے۔ 

2: آنحضرتﷺ کے قلبِ اطہر کو اس سے ایذا ہوتی ہے (وقد صرح بہ بقولہ فمن اذاھم فقد آذانی) اور آپﷺ‏ کے قلبِ اطہر کو ایذا دینے میں خبطِ اعمال کا خطرہ ہے لقولہ تعالیٰ: اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ لہٰذا سبّ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سلبِ ایمان کا اندیشہ ہے۔ 

3: صحابہ کرامؓ کی مدافعت کرنا اور ناقدین کو جواب دینا ملتِ اسلامیہ کا فرض ہے (فان الامر للجواب)

4: آنحضرتﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ ناقدینِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ایک ایک بات کا تفصیلی جواب دیا جائے کیونکہ اس سے جواب اور جواب الجواب کا ایک غیر مختتم سلسلہ چل نکلے گا بلکہ یہ تلقین فرمائی کہ انہیں بس اصولی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے اور وہ ہے۔ لعنۃ اللہ علی شرکم

5: شرکم کے لفظ میں دو احتمال ہیں ایک یہ شر مصدر مضاف ہے فاعل کی طرف اس صورت میں معنیٰ یہ ہوں گے کہ تمہارے پھیلائے ہوئے شر پر اللہ کی لعنت اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ شرکم اسم تفضیل کا صیغہ ہے جو مشاکلت کے طور پر استعمال ہوا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ تم میں سے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جو بھی بدتر ہو اس پر اللہ کی لعنت اس میں حضرت محمدﷺ‏ نے ناقدینِ صحابہ کرامؓ کے لیے ایسا کنایہ استعمال فرمایا ہے کہ اگر وہ اس پر غور کرے تو ہمیشہ کے لیے تنقیدِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے روگ کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ اتنی بات تو بالکل کھلی ہے کہ صحابہ کرامؓ کیسے ہی ہوں مگر تم سے تو اچھے ہی ہوں گے تم ہوا پر اڑ لو، آسمان پر پہنچ جاؤ سو بار مر کر جی لو مگر تم سے صحابی تو نہیں بنا جا سکے گا آخر تم وہ آنکھ کہاں سے لاؤ گے جس نے جمالِ جہاں آرائے محمدﷺ‏ کا دیدار کیا وہ کان کہاں سے لاؤ گے جو کلماتِ نبوت سے مشرف ہوئے۔ ہاں! تم وہ دل کہاں سے لاؤ گے جو انفاسِ مسیحائی محمدیﷺ سے زندہ ہوئے وہ دماغ کہاں سے لاؤ گے جو انوارِ قدس سے منور ہوئے تم وہ ہاتھ کہاں سے لاؤ گے جو ایک بار بشرۂ محمدیﷺ‏ سے مَس ہوئے اور ساری عمر ان کی بوئے عنبریں نہیں گئی تم وہ پاؤں کہاں سے لاؤ گے جو معیتِ محمدیﷺ‏ میں آبلہ پا ہوئے؟ تم وہ زمان کہاں سے لاؤ گے جب آسمان زمین پر اتر آیا تھا؟ تم وہ مکان کہاں سے لاؤ گے جہاں کونین کی سیادت جلوہ آرا تھی؟ تم وہ محفل کہاں سے لاؤ گے جہاں سعادتِ دارین کی شرابِ طہور کے جام بھر بھر کر دیئے جاتے اور تشنہ کا مانِ محبت هَلۡ مِنۡ مَّزِيۡدٍ کا نعرۂ مستانہ لگا رہے تھے؟ تم وہ منظر کہاں سے لاؤ گے جو کانی اری الله عیانا کا کیف پیدا کرتا تھا؟ تم وہ مجلس کہاں سے لاؤ گے جہان کانما علی رؤسنا الطیر کا سماں بندھ جاتا تھا؟ تم وہ صدر نشینِ تختِ رسالت کہاں سے لاؤ گے جس کی طرف ھذا الابیض المتکی سے اشارے کیے جاتے تھے؟ (ﷺ‏) تم وہ شمیمِ عنبر کہاں سے لاؤ گے جس کے ایک جھونکے سے مدینہ کی گلی کوچے معطر ہو جاتے تھے تم وہ محبت کہاں سے لاؤ گے جو دیدارِ محبوب میں خواب نیم شبی کو حرام کر دیتی تھی تم وہ ایمان کہاں سے لاؤ گے جو ساری دنیا کو تج کر حاصل کیا جاتا تھا؟ تم وہ اعمال کہاں سے لاؤ گے جو پیمانہ نبوتﷺ‏ سے ناپ ناپ کر ادا کیے جاتے تھے؟ تم وہ اخلاق کہاں سے لاؤ گے جو آئینہ محمدیﷺ‏ سامنے رکھ کر سنوارے جاتے تھے؟ تم وہ رنگ کہاں سے لاؤ گے جو صبغتہ اللہ کی بھٹی دیا جاتا تھا؟ تم وہ ادائیں کہاں سے لاؤ گے جو دیکھنے والوں کو نیم بسمل بنا دیتی تھیں؟ تم وہ نماز کہاں سے لاؤ گے جس کے امام نبیوں کے امام تھے؟ تم قدوسیوں کی وہ جماعت کیسے بن سکو گے جس کے سردار رسولوں کے سردار تھے؟ (ﷺ‏) تم میرے صحابہ کو لاکھ برا کہو مگر اپنے ضمیر کا دامن جھنجھوڑ کر بتاؤ اگر ان تمام سعادتوں کے بعد بھی (نعوذ باللہ) میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین برے ہیں تو کیا تم ان سے بدتر نہیں ہو؟ اگر وہ تنقید و ملامت کے مستحق ہیں تو کیا تم لعنت و غضب کے مستحق نہیں ہو؟ اگر تم میں انصاف و حیا کی کوئی رمق باقی ہے تو اپنے گریبان میں جھانکو اور میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں زبان بند کرو۔ 

صفحہ 1 از 2