چند آیات قرآنیہ اور ان کے ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
1: كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ (سورۃ آل عمران: آیت 110)
ترجمہ: تم ہو بہتر سب امتوں سے جو بھیجی گئی عالم میں۔
2: وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ (سورۃ البقرۃ: آیت 143)
ترجمہ: اور (مسلمانو) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو۔
ان دونوں آیات مبارکہ کے مخاطب اولاً بالذات صحابہ کرامؓ ہیں پہلی آیت میں انہیں خیرِ امت کا تاج عطا کر کے پوری امت کا پیشوا اور رہنما قرار دیا گیا ہے جبکہ دوسری آیت میں امۃ وسطاً کا اولین مصداق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ٹھہرایا گیا ہے جیسے آنحضرتﷺ ان پر حجت اور فیصل ہیں اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے بعد والوں پر حجت اور ان کے راہ نما ہیں۔
3: مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ ذٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا (سورۃ الفتح: آیت 29)
ترجمہ: محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ آپﷺ کے صحبت یافتہ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں تیز ہیں (اور) آپس میں مہربان ہیں۔ اے مخاطب! تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کر رہے ہیں، کبھی سجدہ کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہیں۔ ان کے آثار بوجہ تاثیر سجدہ کے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ یہ ان کے اوصاف توریت میں ہیں اور انجیل میں۔ ان کا یہ وصف ہے کہ جیسے کھیتی، اس نے اپنی سوئی نکالی، پھر اس کو ان کو قوی کیا، پھر وہ موٹی ہوئی، پھر وہ تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی کہ کسانوں کو بھلی معلوم ہونے لگی۔ تاکہ ان سے کافروں کو جلا دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان صاحبوں سے جو کہ ایمان لائے اور نیک کام کر رہے ہیں، مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔
اس آیتِ مبارکہ میں مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِایک دعویٰ ہے اور وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اس دعویٰ کی دلیل ہے جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پوری جماعت داخل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کی رسالت و نبوت کے گواہ کے طور پر پیش کیا ہے اور ان کی تعدیل و توثیق اور تزکیہ و تصفیہ فرمایا ہے پس جو شخص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر جرح کرتا ہے اور نہ صرف آنحضرتﷺ کی رسالت پر جرح کرتا ہے بلکہ دعویٰ قرآنی کی بھی تکذیب کا مرتکب ہوتا ہے اس آیتِ مبارکہ سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ صحابہ کرامؓ سے اگر کسی کو غیض اور جلاپا ہو سکتا ہے تو صرف کافروں کو۔ گویا اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ کے وجودِ مسعود کو کافروں کی شناخت کا معیار بنا دیا ہے آخر میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ان کے ایمان و اعمالِ صالح کی بناء پر مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔
4: وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ذٰلِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ (سورۃ التوبۃ: آیت 100)
ترجمہ: اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔
مذکورہ آیتِ مبارکہ میں اللہ رب العزت نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دو طبقے بیان فرمائے، ایک سابقینِ اولین کا دوسرا بعد میں ایمان لانے والوں کا اللہ تعالیٰ نے ان سے غیر مشروط طور پر چار وعدے فرما کر انہیں بڑی کامیابی کی بشارت سے نوازا ہے وہ چار وعدے یہ ہیں:
1: اللہ ان سے ہمیشہ کے لیے راضی ہوا۔
2: وہ اللہ سے ہمیشہ کے لیے راضی ہوئے۔
3: ان کے لیے جنتیں تیار ہیں۔
4: وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔
5: وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اٰمِنُوۡا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوۡاۤ اَنُؤۡمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ اَلَاۤ اِنَّهُمۡ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلٰـكِنۡ لَّا يَعۡلَمُوۡنَ (سورۃ البقرة: آیت 13)
ترجمہ: اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی اسی طرح ایمان لے آؤ جیسے دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم بھی اسی طرح ایمان لائیں جیسے بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں؟ خوب اچھی طرح سن لو کہ یہی لوگ بیوقوف ہیں لیکن وہ یہ بات نہیں جانتے۔
اس آیتِ مبارکہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایمان کے کامل اور معیاری ہونے کی خبر دی گئی ہے اور یہ بتلا دیا گیا ہے کہ لوگوں کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں مانا جائے گا جب تک وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کی کسوٹی پر نہ پرکھ لیا جائے گویا ایمان اور ایمانیات کے باب میں معیار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایمان ہے نیز صحابہ کرامؓ کے ایمان پر اعتراض کرنے والا سبیل المنافقین پر چلنے والا ہے اور جو شخص ان کو نعوذ باللہ بیوقوف یا احمق کہے عند اللہ خود بے عقل و احمق ہے جو لوگ طعنِ صحابہؓ کے مرتکب ہیں اور ان کی کم علمی، کم عقلی اور جہالت اور حماقت کا نتیجہ ہے۔
یہاں مقامِ صحابہؓ کی تمام آیات کا احاطہ اور استعباب مقصود نہیں بلکہ بتلانا یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عند اللہ مقبول اور جنتی ہیں ماننے والوں کے لیے پانچ آیات بھی کافی وافی ہیں اور نہ ماننے والوں کے لیے پورا قرآن بھی کم ہے۔