حضرت مولانا مفتی رضا الحق رحمۃاللہ کا فتویٰ (استادِ اہلِ…

حضرت مولانا مفتی رضا الحق رحمۃاللہ کا فتویٰ (استادِ اہلِ حدیث و مفتی مدرسہ دارالعلوم زکریا، جنوبی افریقہ)


شیعہ کے ذبیحہ کا حکم:

سوال: اگر کسی شیعہ یا بریلوی وغیرہ کے عقائد کفر کی حد تک پہنچ گئے ہوں تو ان کا ذبیحہ اہلِ کتاب پر قیاس کرتے ہوئے حلال ہو گا یا نہیں؟ وہ مشرک کے حکم میں ہیں یا اہلِ کتاب کے حکم میں ہیں؟  

جواب:کسی شخص کے عقائد کفر کی حد تک پہنچ گئے ہوں، اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کی فہرست میں شمار کرتا ہے، لیکن اس کا شمار اہلِ سنت والجماعت میں نہیں ہو گا۔ فقہاءِ کرام رحمہم اللہ نے ایسے لوگوں کو زندیق و ملحد میں شمار کیا ہے اور بعض فقہاءِ کرام نے ایسے لوگوں کو باغیوں کی جماعت میں شامل کیا ہے۔

اور آج کل کے شیعہ اور بریلوی وغیرہ جن میں سے بعض کے عقائد کفر کی حد تک پہنچ چکے ہیں، لہٰذا ان کے ذبیحہ کو حلال کہنا جائز اور درست نہیں۔ 

نیز ایسے لوگوں کو اہلِ کتاب میں شمار کرنا بھی مشکل ہے، کیونکہ اہلِ کتاب وہ ہیں جو اسلام کے علاوہ کسی اور دینِ سماوی کے اصول و قوانین پر باقی ہوں اور کسی وحیِ منزل کو مانتے ہوں۔

حضرت مولانا مفتی رشید احمد  رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ معتزلہ کے بارے میں تحریرِ شامیہ کی بناء پر میں شیعہ کو اہلِ کتاب کہتا تھا۔ بعد میں تنبہ ہوا کہ یہ لوگ زندیق ہیں، اس لیے انہیں اہلِ کتاب میں داخل کرنا صحیح نہیں۔ زندیق کی دو قسمیں ہیں۔

1: بمعنی ٰمنافق: یعنی اسلام کا مدعی ہو اور کفریہ عقائد چھپاتا ہو۔  

2: جو شخص عقائدِ اسلام میں تاویلاتِ باطلہ کرتا ہو۔ ایسا شخص اگرچہ اپنے عقائدِ کفریہ کو پوشیدہ رکھنے کی کوش نہیں کرتا بلکہ ان کی اشاعت کرتا ہے، اس کے باوجود اسے زندیق کہا جاتا ہے۔

زندیق کے احکام:

1: زندیق واجب القتل ہے، (لیکن یہ کام اسلامی حکومت کا ہے۔ عام لوگ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔) 

2: گرفتار ہونے کے بعد اس کی توبہ قبول نہیں، گرفتاری سے پہلے قبول ہے۔  

3: ان سے نکاح کرنا حرام ہے۔  

4: ان کا ذبیحہ حرام ہے۔

دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ شیعہ، قادیانی، آغاخانی، ذکری، پرویزی، انجمن، دینداران اور ان قسم کے دوسرے فرقے جو کافر ہونے کے باوجود خود کو مسلم کہلاتے ہیں، اسلام میں تحریف کر کے اپنے عقائدِ کفریہ کو اسلام ظاہر کرتے ہیں اور اس کی اشاعت کرتے ہیں، یہ سب زندیق ہیں۔ ان کا ذبیحہ حرام ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے عقائد کفر تک پہنچ چکے ہوں ان کو اہلِ کتاب میں شمار نہیں کیا جائے گا، بلکہ وہ مشرک کے حکم میں ہیں اور ان کا ذبیحہ حرام ہے۔  

(فتاویٰ دارالعلوم زکریا: جلد6 صفحہ153)