الحمد لله و كفى و سلام على عباده الذين اصطفىٰ اما بعد!
اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ پر جس دین کو مکمل فرمایا، بطورِ دین جس پر راضی ہوا اور اس نے اس دین کی نسبت آئندہ کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف کر دی:
اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا (سورۃ المائدة: آیت 3)
ترجمہ: آج کے دن تمہارے لیے تمہارے دین کو میں نے کامل کر دیا اور میں نے تم پر اپنا انعام تمام کر دیا، اور میں نے اسلام کو تمہارا دین بننے کے لیے پسند کر لیا۔
سو اس دین کی تاریخ اصحابِؓ رسولﷺ سے شروع ہوتی ہے جن کے فضائل و کمالات کے انبیائے سابقین تک معترف رہے ہیں اور اممِ سابقہ بھی ان کی مدح و ستایش کو بیان کر کے اپنے چہرۂ ایمان کو سنوارتی اور نکھارتی رہی ہیں:
ذٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ (سورۃ الفتح: آیت 29)
یہ ان کے اوصاف توریت میں ہیں اور انجیل میں۔
اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تاریخ اسلام سے نکال دیا جائے تو دینِ اسلام ایک قدم بھی آگے نہیں چل سکتا، آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے:
عن عويم بن ساعدة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم
قال: ان الله تبارك و تعالى اختارنی، و اختار لی أصحاباً،
فجعل لى منهم وزراء وانصاراً واصهاراً، فمن سبهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس اجمعين، لا يقبل منه يوم القيامة صرف ولا عدل۔ هذا حديث صحيح الأسناد ولم يخرجاه وقال الذهبی رحمة الله عليه صحيح
(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 632 کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب ذكر عويم بن ساعدة رضی اللہ عنہ)
سیدنا عویم بن ساعدة رضی اللہ عنہ آنحضرتﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے چن لیا، اور میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو چن لیا، پس ان میں سے بعض کو میرے وزیر، میرے مددگار اور میرے سسرالی رشتہ دار بنا دیا، پس جو شخص ان کو برا بھلا کہتا ہے اس پر اللہ کی، ملائکہ کی اور سارے انسانوں کی لعنت، روزِ قیامت اس کا نہ کوئی فرض قبول ہو گا نہ نفل۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ:
إن الله نظر فی قلوب العباد فاختار محمداًﷺ فبعثه برسالة وانتخبه بعلمه، ثم نظر فی قلوب الناس بعده فاختار له أصحاباً، فجعلهم أنصار دينه و وزراء نبيه وما رآه المؤمنون حسناً فهو عند الله حسن وما رآه المؤمنون قبيحاً فهو عند الله قبيح
(مسند ابوداؤد طیالسی: صفحہ 33 ما اسند عبد اللہ بن مسعودؓ)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے بندوں کے قلوب پر نظر فرمائی تو حضرت محمدﷺ کے قلبِ اطہر کو چن لیا، پس آپﷺ کو اپنے پیغام کے ساتھ مبعوث فرمایا اور آپﷺ کو اپنے علم کے ساتھ منتخب فرمایا، پھر آپﷺ کے بعد لوگوں کے قلوب پر نظر فرمائی تو آپﷺ کے لیے حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو چن لیا اور ان کو دین کے مددگار اور اپنے نبیﷺ کے وزیر بنایا اور جس چیز کو اہلِ ایمان (متفقہ طور پر) اچھا سمجھیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اچھی ہے اور جس چیز کو اہلِ ایمان قبیح جانیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبیح ہے۔
منقولہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح آنحضرتﷺ کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساری کائنات میں سے چھانٹ کر منتخب فرمایا اسی طرح تمام نسلِ انسانی میں سے انتہائی مقدس و مطہر شخصیات اور سعید کو مسعود روحوں کو صحبت و رفاقتِ نبویﷺ کے لیے چھانٹ کر منتخب فرمایا۔ یہ حضرات اپنے شرف و کمال، عزت و افتخار، فضیلت و منقبت اور جمال و جلال میں سوائے انبیائے کرام علیہم السلام کے ساری کائنات سے افضل ہیں۔ اگر اس کائنات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ مقدس وجود کسی اور کا ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے حبیبﷺ کی رفاقت و معیت اور صحبت اور مجالست کے لیے منتخب فرماتا لہٰذا صحابہ کرامؓ کی توہین و تنقیص اور ان کی شان میں بدگوئی و ہرزہ سرائی نہ صرف آنحضرتﷺ کی صحبت شریفہ کی توہین و تنقیص ہے بلکہ انتخابِ خداوندی کا بھی تمسخر ہے۔ یہی حال حضرات اہلِ بیتؓ کا ہے کہ وہ قربت دارانِ رسالتﷺ ہونے کے ساتھ ساتھ صحابہؓ میں بھی شامل ہیں اور صحبتِ نبویﷺ کا شرف بھی انہیں حاصل ہے (بشرطیکہ اسے حالتِ ایمان میں زیارتِ نبویﷺ کا شرف حاصل ہوا ہو اور اس کا خاتمہ بھی ایمان پر ہوا ہو) جس طرح صحابہ کرامؓ واجب الاحترام ہیں اسی طرح اہلِ بیتؓ عظام بھی واجب التعظیم ہیں، مخدومِ محترم مفکرِّ اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب دامت برکاتہم لکھتے ہیں:
صحیح العقائد مسلمانوں میں جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایمان اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی عظمت کا اعتقاد ضروریاتِ مسلک میں سے ہے اسی طرح جو اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کرے وہ بھی اہلِ سنت کے دائرہ حقہ میں شمار کے لائق نہیں رہتا۔
(اہل بیتؓ: صفحہ 4)
امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی قدس سرّہ (متوفی 1034ھ) لکھتے ہیں:
و گوئیم چگونہ عدم محبت اہلِ بیتؓ در حق اہلِ سنت گمان برده شود کہ آن محبت تبرد ایں بزرگواران جزو ایمان است و سلامتی خاتمہ را بر سوخ آن محبت مربوط ساختہ اند۔ محبت اہلِ بیتؓ سرمایہ اہلِ سنت است مخالفان از ایں معنیٰ غافل اند و از محبت متوسط ایشان جاہل جانب افراط و تفریط خود اختیار کرده اند و ماوراء افراط را تفریظ انگاشتہ حکم بخروج نموده اند و مذہب خوارج انگاشتہ اند نہ دانستہ اند کہ درمیان افراط و تفریط حدیست وسط کہ مرکز حق است و موطن صدق کہ اہل سنت گشتہ است شکر اللہ تعالیٰ سعیہم
(مکتوباتِ امام ربانی: دفتر دوم مکتوب 34)
ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ گمان کیسے کیا جا سکتا ہے کہ اہلِ سنت کو اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے محبت نہیں، جبکہ یہ محبت ان بزرگوں کے نزدیک جزوِ ایمان ہے اور خاتمہ کی سلامتی اس محبت کے راسخ ہونے پر موقوف ہے۔ اہلِ بیتؓ کی محبت تو اہلِ سنت کا سرمایہ ہے، مگر مخالفین اس حقیقت سے غافل اور اہلِ بیتؓ کی محبتِ متوسطہ سے جاہل ہیں۔ انہوں نے افراط کو اختیار کیا اور ماسوا کو تفریط خیال کر کے خروج کا حکم لگایا اور سب کو خارجی سمجھ لیا، یہ نہیں جانتے کہ افراط و تفریط کے درمیان ایک حدِّ وسط ہے جو مرکزِ حق اور موطنِ صدق ہے جو اہلِ سنت کو نصیب ہوا ہے۔ شکر اللہ تعالیٰ سعیہم۔
خلاصہ یہ ہے کہ اہلِ سنت والجماعت کے ہاں صحابہ کرام و اہلِ بیت کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کوئی منافات نہیں ہے۔ لہٰذا اب ہماری گفتگو میں جہاں بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کا لفظ آئے گا تو اس میں اہلِ بیتؓ شامل ہوں گے۔
تعلیمات و ہدایاتِ نبویﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سارے عالم کا ہادی و نمونہ اور رسالت و امت کے درمیان واسطہ بنا دیا، صحابہ کرامؓ نے بھی آنحضرتﷺ کے جمالِ جہاں آرا اور تجلیات کو اپنے اندر ایسا جذب کیا کہ ان کی سیرت خود رسول اکرمﷺ کی سیرت کا ایک جز بن گئی یعنی تذکرہ اصحابِ رسولﷺ کے بغیر سیرتِ نبویﷺ کی تکمیل ناممکن ہے کیونکہ صحابہ کرامؓ دلیل تربیتِ پیغمبریﷺ ہیں۔
اس تمام شرف و افتخار کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ ہم صحابہؓ کے مقام کا تعین کتاب و سنت کے میزان کو سامنے رکھ کر کرتے لیکن ہماری شامتِ اعمال نے ظلم یہ ڈھایا ہے کہ ہم نے صحابہؓ اور ان کے اختلافات کو دنیوی سیاسی لیڈروں کے اختلافات اور حالات و واقعات کے آئینہ میں دیکھنا شروع کر دیا ہے جو اپنے اقتدار کی خاطر لوگوں کی دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کرتے ہیں۔
جب کہ اہلِ سنت و الجماعت کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دین و ایمان کی اساس ہیں، یہ خالصتاً عقائد کا مسئلہ ہے جس میں اہلِ سنت و الجماعت کا مؤقف یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان جو اختلافات رونما ہوئے اور نوبت باہم جنگوں تک پہنچ گئی یہ اختلافات اور جنگیں اقتدار کی خاطر نہیں ہوئی تھیں بلکہ ہر ایک فریق دوسرے سے دین کے تحفظ و سر بلندی کے لیے ہی لڑا تھا اور یہ حضرات خود ایک دوسرے کے بارے میں یہی سمجھتے تھے کہ ان کا مؤقف دیانت دارانہ اجتہاد پر مبنی ہے، چنانچہ ہر فریق دوسرے کو رائے اور اجتہاد میں غلطی پر سمجھتا تھا لیکن کافر یا فاسق قرار نہیں دیتا تھا۔ معاذ اللہ
(مکتوباتِ امام ربانی: مکتوب 94)
اس کی تفصیل آگے اپنے مقام پر آئے گی۔ یہ اہلِ سنت و الجماعت کا متفقہ مؤقف ہے، تمام کتب عقائد میں یہ مسئلہ (عدالت و معرفتِ صحابہؓ) مستقل باب کے تحت درج ہے لہٰذا اس کا فیصلہ صرف تاریخی روایات کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ فنِ تاریخ کی اہمیت اور اس کے درجہ پر کلام کرتے ہوئے مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1396) فرماتے ہیں:
صحابہ کرامؓ کی ذوات و شخصیات اور ان کے مقام کا تعین صرف تاریخی روایات کی بنیاد پر کر لینا درست نہیں، کیونکہ یہ حضرات رسالت اور امت کے درمیان واسطہ ہونے کی حیثیت سے از روئے قرآن و سنت ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ تاریخی روایات کا یہ درجہ نہیں ہے کہ ان کی بناء پر ان کے اس مقام کو گھٹایا بڑھایا جا سکے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں سمجھنا چاہیے کہ فنِ تاریخ بالکل ناقابلِ اعتبار و بیکار ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اعتماد کے بھی مختلف درجات ہوتے ہیں۔
اسلام میں اعتبار و اعتماد کا جو مقام قرآن کریم اور احادیثِ متواترہ کا ہے وہ عام احادیث کا نہیں، جو حدیثِ رسولﷺ کا درجہ ہے وہ اقوالِ صحابہؓ کا نہیں۔ اسی طرح تاریخی روایات کے اعتماد و اعتبار کا بھی وہ درجہ نہیں ہے جو قرآن و سنت یا سندِ صحیح سے ثابت شدہ اقوالِ صحابہؓ کا ہے۔ بلکہ جس طرح نصِ قرآنی کے مقابلہ میں اگر کسی غیر متواتر حدیث سے اس کے خلاف کچھ مفہوم ہوتا ہو تو اس کی تاویل واجب ہے یا تاویل سمجھ میں نہ آئے تو نصِ قرآنی کے مقابلہ میں اس حدیث کا ترک واجب ہے اسی طرح تاریخی روایات اگر کسی معاملہ میں قرآن و سنت سے ثابت شدہ کسی چیز سے متصادم ہوں تو وہ بہ مقابلہ قرآن و سنت کے متروک یا واجب التاویل قرار دی جائیں گی خواہ وہ تاریخی اعتبار سے کتنی ہی معتبر و مستند روایات ہوں۔
(مقامِ صحابہؓ: صفحہ، 14، 15 تحت فنِ تاریخ کی اہمیت)
چند صفحات کے بعد حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ مزید لکھتے ہیں:
پوری اُمت کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرامؓ کی معرفت، ان کے درجات اور ان میں پیش آنے والے باہمی اختلافات کا فیصلہ کوئی عام تاریخی مسئلہ نہیں بلکہ معرفتِ صحابہؓ تو علمِ حدیث کا اہم جز ہے جیسا کہ مقدمہ اصابہ میں حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ نے اور مقدمہ استیعاب میں حافظ ابنِ عبدالبر رحمۃ اللہ نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقام اور باہمی تفاضل و درجات اور ان کے درمیان پیش آنے والے اختلافات کے فیصلے کو علمائے امت نے عقیدہ کا مسئلہ قرار دیا ہے اور تمام کتبِ عقائدِ اسلامیہ میں اس کو ایک مستقل باب کی حیثیت سے لکھا ہے۔
ایسا مسئلہ جو عقائدِ اسلامیہ سے متعلق ہے اور اسی مسئلہ کی بنیاد پر بہت سے اسلامی فرقوں کی تقسیم ہوئی ہے اس کے فیصلہ کے لیے بھی ظاہر ہے قرآن و سنت کی نصوص اور اجماعِ امت جیسے شرعی حجت درکار ہیں، اس کے متعلق اگر کسی روایت سے استدلال کرنا ہے تو اس کو محدّثانہ اصولِ تنقید پر پرکھ لینا واجب ہے۔ اس کو تاریخی روایتوں میں ڈھونڈنا اور ان پر اعتماد کرنا اصولی اور بنیادی غلطی ہے، وہ تاریخیں کتنے ہی بڑے ثقہ اور معتمد علمائے حدیث ہی کی لکھی ہوئی کیوں نہ ہوں ان کی فنی حیثیت ہی تاریخی ہے جس میں صحیح سقیم جمع کر دینے کا عام دستور ہے۔
(ایضاً 34، 35 تحت صحابہؓ اور مشاجراتِ صحابہؓ کا مسئلہ)
حافظ ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ (متوفی 974ھ) فرماتے ہیں:
والواجب ايضاً على كل من سمع شيئا من ذلك ان يتثبت فيه ولا ينسبه الى احد منهم بمجرد روية فی كتاب او سماعة من شخص، بل لا بد ان يبحث عنه حتى يصح عنده نسبته الى احدهم، فحينئذ الواجب ان يلتمس لهم احسن التأويلات
(الصواعق المحرقۃ: صفحہ، 216 فی بيان اعتقاد اہلِ سنت والجماعت فی الصحابہؓ)
اور جو شخص صحابہ کرامؓ کے اختلافات اور لغزشوں سے متعلق کوئی بات سنے تو اس پر اس معاملہ کی تحقیق واجب ہے اور صرف کسی کتاب میں دیکھ لینے یا کسی شخص سے سن لینے کی بناء پر اس غلطی کو ان میں سے کسی کی طرف منسوب نہ کرے بلکہ یہ ناگزیر ہے کہ اس کی تحقیق کرے حتیٰ کہ ان کی طرف اس کی نسبت صحیح ثابت ہو جائے، اس مرحلہ پر واجب ہے کہ ان کے لیے احسن تاویلات تلاش کرے۔
شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ (متوفی 728 ہجری) عقائدِ اہلِ سنت کے ذیل میں لکھتے ہیں:
ويتبرؤون من طريقة الروافض، الذين يبغضون الصحابة ويسبونهم، و طريقة النواصب، الذين يؤذون اہل البيت بقول لا عمل، ويمسكون عما شجر بين الصحابة۔ ويقولون:
ان هذه الآثار المروية فى مساويهم منها ما هو كذب، و منها ما قد زيد فيه و نقص غير عن وجهه، والصحيح منه هم فيه معذورون، إما مجتهدون مصيبون، واما مجتهدون مخطئون۔
وهم مع ذلك لا يعتقدون ان كل واحد من الصحابة معصوم عن كبائر الاثم و صغائره، بل يجوز عليهم الذنوب فی الجملة، ولهم من الفضائل والسوابق ما يوجب مغفرته ما يصدر منهم ان صدر، حتى أنهم يغفر لهم من السيئات مالا يغفر لمن بعدهم
(العقيدة الواسطيہ: صفحہ، 173 اہلِ السنۃ يحبون اہل البيت و يتبرون ممن يعاديہم)
اہلِ سنت طریقہ روافض سے برأت (کا اعلان) کرتے ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض رکھتے ہیں اور انہیں برا کہتے ہیں، اسی طرح طریقہ نواصب سے بھی برأت (کا اعلان) کرتے ہیں جو کہ اہلِ بیتؓ کو اپنی باتوں سے نہ کہ عمل سے ایذا پہنچاتے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان جو اختلافات رونما ہوئے اہلِ سنت ان کے بارے میں سکوت اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جن روایات سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی برائیاں معلوم ہوتی ہیں ان میں کچھ تو جھوٹ ہی جھوٹ (پر مبنی) ہے اور کچھ (روایات) ایسی ہیں کہ ان میں کمی بیشی کر دی گئی ہے اور ان کا صحیح مفہوم بدل دیا گیا اور ان میں سے جو روایات صحیح ہیں، ان میں بھی صحابہ کرامؓ معذور ہیں (کیونکہ) یا تو وہ مجتہد برحق ہیں (کہ اجتہاد سے کام لے کر حق و صواب کو پا گئے) یا پھر اجتہادی خطا کے مرتکب ہوئے، اس کے ساتھ ساتھ اہلِ سنت یہ عقیدہ بھی نہیں رکھتے کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دین کا ہر ہر فرد چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم تھا بلکہ فی الجملہ ان سے گناہوں کا صدور ممکن ہے لیکن ان کے فضائل و سوابق اتنے ہیں کہ اگر ان سے کوئی گناہ صادر بھی ہوا ہو تو یہ فضائل ان کی مغفرت کا موجب ہیں حتیٰ کہ ان کی مغفرت کے مواقع اتنے ہیں کہ ان کے بعد کسی کو حاصل نہیں ہو سکتے۔
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1024ھ) فرماتے ہیں:
و منازعات و محاربات کہ درمیان ایشان واقع شده است بر محال نیک صرف باید کرد و از ہوا و تعصب دور باید داشت زیرا کہ آن مخالفت مبنی بر اجتہاد و تاویل بوده نہ بر ہوا و ہوس چنانکہ جمہور اہل سنت بر آنند پس باید کہ مدار اعتقاد را بر آنچہ معتقد اہل سنت است دادند و سخنان زید و عمر و را در گوش نیارند مدار کار را بر افسا نہائے دروغ ساختن خود را ضائع کردن است۔ تقلید فرقہ ناجیہ ضروریست تا امید نجات پیدا شود۔
(مکتوباتِ امام ربانی: دفتر اول مکتوب، 251)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان جو لڑائی جھگڑے ہوئے ان کو اچھے حال پر محمول کرنا چاہیے اور (ان جھگڑوں کو) نفسانیت اور تعصب سے بعید سمجھنا چاہیے کیونکہ ان اختلافات کا دار و مدار اجتہاد اور تاویل پر مبنی تھا نہ کہ ہوا و ہوس پر۔ یہی جمہور اہلِ سنت کا مذہب ہے۔ اس بناء پر یہ بات ضروری ہے کہ اپنا اعتقاد اہلِ سنت کے مطابق رکھو اور زید و عمرو (ہما و شما) کی باتوں پر کان نہ دھرو، جھوٹے انسانوں پر اپنے عقائد و نظریات کی بنیاد رکھنا اپنے ایمان کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ فرقہ ناجیہ (اہلِ سنت والجماعت) کی تقلید ضروری ہے تاکہ نجات کی امید پیدا ہو۔
ان تصریحات سے اتنی بات تو طے ہو گئی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام کا تعین تاریخی روایات کی بنیاد پر نہیں بلکہ کتاب و سنت کی روشنی میں ہو گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتاب و سنت کی روشنی میں صحابہ کرامؓ کا مقام ہے کیا؟ یہ سوال اتنا وسیع ہے کہ یہ مختصر سا مقالہ اس کے اجمالی اشارہ سے بھی عاجز ہے۔ تاہم چند نصوصِ قرآنیہ، احادیثِ نبویہ کے ساتھ ساتھ سلف صالحین کے اقوال درج کیے جاتے ہیں جس سے صحابہؓ کے مقامِ رفیع کا اندازہ ہو سکے گا۔