نقش اولیں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

نقش اولیں

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 3 از 3

والواجب ايضاً على كل من سمع شيئا من ذلك ان يتثبت فيه ولا ينسبه الى احد منهم بمجرد روية فی كتاب او سماعة من شخص، بل لا بد ان يبحث عنه حتى يصح عنده نسبته الى احدهم، فحينئذ الواجب ان يلتمس لهم احسن التأويلات 

(الصواعق المحرقۃ: صفحہ، 216 فی بيان اعتقاد اہلِ سنت والجماعت فی الصحابہؓ)

اور جو شخص صحابہ کرامؓ کے اختلافات اور لغزشوں سے متعلق کوئی بات سنے تو اس پر اس معاملہ کی تحقیق واجب ہے اور صرف کسی کتاب میں دیکھ لینے یا کسی شخص سے سن لینے کی بناء پر اس غلطی کو ان میں سے کسی کی طرف منسوب نہ کرے بلکہ یہ ناگزیر ہے کہ اس کی تحقیق کرے حتیٰ کہ ان کی طرف اس کی نسبت صحیح ثابت ہو جائے، اس مرحلہ پر واجب ہے کہ ان کے لیے احسن تاویلات تلاش کرے۔

شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ (متوفی 728 ہجری) عقائدِ اہلِ سنت کے ذیل میں لکھتے ہیں:

ويتبرؤون من طريقة الروافض، الذين يبغضون الصحابة ويسبونهم، و طريقة النواصب، الذين يؤذون اہل البيت بقول لا عمل، ويمسكون عما شجر بين الصحابة۔ ويقولون:

ان هذه الآثار المروية فى مساويهم منها ما هو كذب، و منها ما قد زيد فيه و نقص غير عن وجهه، والصحيح منه هم فيه معذورون، إما مجتهدون مصيبون، واما مجتهدون مخطئون۔

وهم مع ذلك لا يعتقدون ان كل واحد من الصحابة معصوم عن كبائر الاثم و صغائره، بل يجوز عليهم الذنوب فی الجملة، ولهم من الفضائل والسوابق ما يوجب مغفرته ما يصدر منهم ان صدر، حتى أنهم يغفر لهم من السيئات مالا يغفر لمن بعدهم 

(العقيدة الواسطيہ: صفحہ، 173 اہلِ السنۃ يحبون اہل البيت و يتبرون ممن يعاديہم)

اہلِ سنت طریقہ روافض سے برأت (کا اعلان) کرتے ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض رکھتے ہیں اور انہیں برا کہتے ہیں، اسی طرح طریقہ نواصب سے بھی برأت (کا اعلان) کرتے ہیں جو کہ اہلِ بیتؓ کو اپنی باتوں سے نہ کہ عمل سے ایذا پہنچاتے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان جو اختلافات رونما ہوئے اہلِ سنت ان کے بارے میں سکوت اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جن روایات سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی برائیاں معلوم ہوتی ہیں ان میں کچھ تو جھوٹ ہی جھوٹ (پر مبنی) ہے اور کچھ (روایات) ایسی ہیں کہ ان میں کمی بیشی کر دی گئی ہے اور ان کا صحیح مفہوم بدل دیا گیا اور ان میں سے جو روایات صحیح ہیں، ان میں بھی صحابہ کرامؓ معذور ہیں (کیونکہ) یا تو وہ مجتہد برحق ہیں (کہ اجتہاد سے کام لے کر حق و صواب کو پا گئے) یا پھر اجتہادی خطا کے مرتکب ہوئے، اس کے ساتھ ساتھ اہلِ سنت یہ عقیدہ بھی نہیں رکھتے کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دین کا ہر ہر فرد چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم تھا بلکہ فی الجملہ ان سے گناہوں کا صدور ممکن ہے لیکن ان کے فضائل و سوابق اتنے ہیں کہ اگر ان سے کوئی گناہ صادر بھی ہوا ہو تو یہ فضائل ان کی مغفرت کا موجب ہیں حتیٰ کہ ان کی مغفرت کے مواقع اتنے ہیں کہ ان کے بعد کسی کو حاصل نہیں ہو سکتے۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1024ھ) فرماتے ہیں:

و منازعات و محاربات کہ درمیان ایشان واقع شده است بر محال نیک صرف باید کرد و از ہوا و تعصب دور باید داشت زیرا کہ آن مخالفت مبنی بر اجتہاد و تاویل بوده نہ بر ہوا و ہوس چنانکہ جمہور اہل سنت بر آنند پس باید کہ مدار اعتقاد را بر آنچہ معتقد اہل سنت است دادند و سخنان زید و عمر و را در گوش نیارند مدار کار را بر افسا نہائے دروغ ساختن خود را ضائع کردن است۔ تقلید فرقہ ناجیہ ضروریست تا امید نجات پیدا شود۔ 

(مکتوباتِ امام ربانی: دفتر اول مکتوب، 251)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان جو لڑائی جھگڑے ہوئے ان کو اچھے حال پر محمول کرنا چاہیے اور (ان جھگڑوں کو) نفسانیت اور تعصب سے بعید سمجھنا چاہیے کیونکہ ان اختلافات کا دار و مدار اجتہاد اور تاویل پر مبنی تھا نہ کہ ہوا و ہوس پر۔ یہی جمہور اہلِ سنت کا مذہب ہے۔ اس بناء پر یہ بات ضروری ہے کہ اپنا اعتقاد اہلِ سنت کے مطابق رکھو اور زید و عمرو (ہما و شما) کی باتوں پر کان نہ دھرو، جھوٹے انسانوں پر اپنے عقائد و نظریات کی بنیاد رکھنا اپنے ایمان کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ فرقہ ناجیہ (اہلِ سنت والجماعت) کی تقلید ضروری ہے تاکہ نجات کی امید پیدا ہو۔

ان تصریحات سے اتنی بات تو طے ہو گئی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام کا تعین تاریخی روایات کی بنیاد پر نہیں بلکہ کتاب و سنت کی روشنی میں ہو گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتاب و سنت کی روشنی میں صحابہ کرامؓ کا مقام ہے کیا؟ یہ سوال اتنا وسیع ہے کہ یہ مختصر سا مقالہ اس کے اجمالی اشارہ سے بھی عاجز ہے۔ تاہم چند نصوصِ قرآنیہ، احادیثِ نبویہ کے ساتھ ساتھ سلف صالحین کے اقوال درج کیے جاتے ہیں جس سے صحابہؓ کے مقامِ رفیع کا اندازہ ہو سکے گا۔


صفحہ 3 از 3