نقش اولیں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

نقش اولیں

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 3

ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ گمان کیسے کیا جا سکتا ہے کہ اہلِ سنت کو اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے محبت نہیں، جبکہ یہ محبت ان بزرگوں کے نزدیک جزوِ ایمان ہے اور خاتمہ کی سلامتی اس محبت کے راسخ ہونے پر موقوف ہے۔ اہلِ بیتؓ کی محبت تو اہلِ سنت کا سرمایہ ہے، مگر مخالفین اس حقیقت سے غافل اور اہلِ بیتؓ کی محبتِ متوسطہ سے جاہل ہیں۔ انہوں نے افراط کو اختیار کیا اور ماسوا کو تفریط خیال کر کے خروج کا حکم لگایا اور سب کو خارجی سمجھ لیا، یہ نہیں جانتے کہ افراط و تفریط کے درمیان ایک حدِّ وسط ہے جو مرکزِ حق اور موطنِ صدق ہے جو اہلِ سنت کو نصیب ہوا ہے۔ شکر اللہ تعالیٰ سعیہم۔

خلاصہ یہ ہے کہ اہلِ سنت والجماعت کے ہاں صحابہ کرام و اہلِ بیت کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کوئی منافات نہیں ہے۔ لہٰذا اب ہماری گفتگو میں جہاں بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کا لفظ آئے گا تو اس میں اہلِ بیتؓ شامل ہوں گے۔ 

تعلیمات و ہدایاتِ نبویﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سارے عالم کا ہادی و نمونہ اور رسالت و امت کے درمیان واسطہ بنا دیا، صحابہ کرامؓ نے بھی آنحضرتﷺ کے جمالِ جہاں آرا اور تجلیات کو اپنے اندر ایسا جذب کیا کہ ان کی سیرت خود رسول اکرمﷺ کی سیرت کا ایک جز بن گئی یعنی تذکرہ اصحابِ رسولﷺ کے بغیر سیرتِ نبویﷺ کی تکمیل ناممکن ہے کیونکہ صحابہ کرامؓ دلیل تربیتِ پیغمبریﷺ‏ ہیں۔

اس تمام شرف و افتخار کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ ہم صحابہؓ کے مقام کا تعین کتاب و سنت کے میزان کو سامنے رکھ کر کرتے لیکن ہماری شامتِ اعمال نے ظلم یہ ڈھایا ہے کہ ہم نے صحابہؓ اور ان کے اختلافات کو دنیوی سیاسی لیڈروں کے اختلافات اور حالات و واقعات کے آئینہ میں دیکھنا شروع کر دیا ہے جو اپنے اقتدار کی خاطر لوگوں کی دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کرتے ہیں۔

جب کہ اہلِ سنت و الجماعت کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دین و ایمان کی اساس ہیں، یہ خالصتاً عقائد کا مسئلہ ہے جس میں اہلِ سنت و الجماعت کا مؤقف یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان جو اختلافات رونما ہوئے اور نوبت باہم جنگوں تک پہنچ گئی یہ اختلافات اور جنگیں اقتدار کی خاطر نہیں ہوئی تھیں بلکہ ہر ایک فریق دوسرے سے دین کے تحفظ و سر بلندی کے لیے ہی لڑا تھا اور یہ حضرات خود ایک دوسرے کے بارے میں یہی سمجھتے تھے کہ ان کا مؤقف دیانت دارانہ اجتہاد پر مبنی ہے، چنانچہ ہر فریق دوسرے کو رائے اور اجتہاد میں غلطی پر سمجھتا تھا لیکن کافر یا فاسق قرار نہیں دیتا تھا۔ معاذ اللہ

(مکتوباتِ امام ربانی: مکتوب 94)

اس کی تفصیل آگے اپنے مقام پر آئے گی۔ یہ اہلِ سنت و الجماعت کا متفقہ مؤقف ہے، تمام کتب عقائد میں یہ مسئلہ (عدالت و معرفتِ صحابہؓ) مستقل باب کے تحت درج ہے لہٰذا اس کا فیصلہ صرف تاریخی روایات کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ فنِ تاریخ کی اہمیت اور اس کے درجہ پر کلام کرتے ہوئے مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1396) فرماتے ہیں:

صحابہ کرامؓ کی ذوات و شخصیات اور ان کے مقام کا تعین صرف تاریخی روایات کی بنیاد پر کر لینا درست نہیں، کیونکہ یہ حضرات رسالت اور امت کے درمیان واسطہ ہونے کی حیثیت سے از روئے قرآن و سنت ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ تاریخی روایات کا یہ درجہ نہیں ہے کہ ان کی بناء پر ان کے اس مقام کو گھٹایا بڑھایا جا سکے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں سمجھنا چاہیے کہ فنِ تاریخ بالکل ناقابلِ اعتبار و بیکار ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اعتماد کے بھی مختلف درجات ہوتے ہیں۔ 

اسلام میں اعتبار و اعتماد کا جو مقام قرآن کریم اور احادیثِ متواترہ کا ہے وہ عام احادیث کا نہیں، جو حدیثِ رسولﷺ کا درجہ ہے وہ اقوالِ صحابہؓ کا نہیں۔ اسی طرح تاریخی روایات کے اعتماد و اعتبار کا بھی وہ درجہ نہیں ہے جو قرآن و سنت یا سندِ صحیح سے ثابت شدہ اقوالِ صحابہؓ کا ہے۔ بلکہ جس طرح نصِ قرآنی کے مقابلہ میں اگر کسی غیر متواتر حدیث سے اس کے خلاف کچھ مفہوم ہوتا ہو تو اس کی تاویل واجب ہے یا تاویل سمجھ میں نہ آئے تو نصِ قرآنی کے مقابلہ میں اس حدیث کا ترک واجب ہے اسی طرح تاریخی روایات اگر کسی معاملہ میں قرآن و سنت سے ثابت شدہ کسی چیز سے متصادم ہوں تو وہ بہ مقابلہ قرآن و سنت کے متروک یا واجب التاویل قرار دی جائیں گی خواہ وہ تاریخی اعتبار سے کتنی ہی معتبر و مستند روایات ہوں۔ 

(مقامِ صحابہؓ: صفحہ، 14، 15 تحت فنِ تاریخ کی اہمیت)

چند صفحات کے بعد حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ مزید لکھتے ہیں:

پوری اُمت کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرامؓ کی معرفت، ان کے درجات اور ان میں پیش آنے والے باہمی اختلافات کا فیصلہ کوئی عام تاریخی مسئلہ نہیں بلکہ معرفتِ صحابہؓ تو علمِ حدیث کا اہم جز ہے جیسا کہ مقدمہ اصابہ میں حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ نے اور مقدمہ استیعاب میں حافظ ابنِ عبدالبر رحمۃ اللہ نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقام اور باہمی تفاضل و درجات اور ان کے درمیان پیش آنے والے اختلافات کے فیصلے کو علمائے امت نے عقیدہ کا مسئلہ قرار دیا ہے اور تمام کتبِ عقائدِ اسلامیہ میں اس کو ایک مستقل باب کی حیثیت سے لکھا ہے۔

ایسا مسئلہ جو عقائدِ اسلامیہ سے متعلق ہے اور اسی مسئلہ کی بنیاد پر بہت سے اسلامی فرقوں کی تقسیم ہوئی ہے اس کے فیصلہ کے لیے بھی ظاہر ہے قرآن و سنت کی نصوص اور اجماعِ امت جیسے شرعی حجت درکار ہیں، اس کے متعلق اگر کسی روایت سے استدلال کرنا ہے تو اس کو محدّثانہ اصولِ تنقید پر پرکھ لینا واجب ہے۔ اس کو تاریخی روایتوں میں ڈھونڈنا اور ان پر اعتماد کرنا اصولی اور بنیادی غلطی ہے، وہ تاریخیں کتنے ہی بڑے ثقہ اور معتمد علمائے حدیث ہی کی لکھی ہوئی کیوں نہ ہوں ان کی فنی حیثیت ہی تاریخی ہے جس میں صحیح سقیم جمع کر دینے کا عام دستور ہے۔

(ایضاً 34، 35 تحت صحابہؓ اور مشاجراتِ صحابہؓ کا مسئلہ)

حافظ ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ (متوفی 974ھ) فرماتے ہیں:

صفحہ 2 از 3