نقش اولیں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

نقش اولیں

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 1 از 3

الحمد لله و كفى و سلام على عباده الذين اصطفىٰ اما بعد!

اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ پر جس دین کو مکمل فرمایا، بطورِ دین جس پر راضی ہوا اور اس نے اس دین کی نسبت آئندہ کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف کر دی:

اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا‌ (سورۃ المائدة: آیت 3)

ترجمہ: آج کے دن تمہارے لیے تمہارے دین کو میں نے کامل کر دیا اور میں نے تم پر اپنا انعام تمام کر دیا، اور میں نے اسلام کو تمہارا دین بننے کے لیے پسند کر لیا۔

سو اس دین کی تاریخ اصحابِؓ رسولﷺ سے شروع ہوتی ہے جن کے فضائل و کمالات کے انبیائے سابقین تک معترف رہے ہیں اور اممِ سابقہ بھی ان کی مدح و ستایش کو بیان کر کے اپنے چہرۂ ایمان کو سنوارتی اور نکھارتی رہی ہیں:

ذٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ (سورۃ الفتح: آیت 29)

یہ ان کے اوصاف توریت میں ہیں اور انجیل میں۔

اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تاریخ اسلام سے نکال دیا جائے تو دینِ اسلام ایک قدم بھی آگے نہیں چل سکتا، آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے:

عن عويم بن ساعدة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم

قال: ان الله تبارك و تعالى اختارنی، و اختار لی أصحاباً،

فجعل لى منهم وزراء وانصاراً واصهاراً، فمن سبهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس اجمعين، لا يقبل منه يوم القيامة صرف ولا عدل۔ هذا حديث صحيح الأسناد ولم يخرجاه وقال الذهبی رحمة الله عليه صحيح 

(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ  632 کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب ذكر عويم بن ساعدة رضی اللہ عنہ)

سیدنا عویم بن ساعدة رضی اللہ عنہ آنحضرتﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے چن لیا، اور میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو چن لیا، پس ان میں سے بعض کو میرے وزیر، میرے مددگار اور میرے سسرالی رشتہ دار بنا دیا، پس جو شخص ان کو برا بھلا کہتا ہے اس پر اللہ کی، ملائکہ کی اور سارے انسانوں کی لعنت، روزِ قیامت اس کا نہ کوئی فرض قبول ہو گا نہ نفل۔

سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ:

إن الله نظر فی قلوب العباد فاختار محمداًﷺ‏ فبعثه برسالة وانتخبه بعلمه، ثم نظر فی قلوب الناس بعده فاختار له أصحاباً، فجعلهم أنصار دينه و وزراء نبيه وما رآه المؤمنون حسناً فهو عند الله حسن وما رآه المؤمنون قبيحاً فهو عند الله قبيح 

(مسند ابوداؤد طیالسی: صفحہ 33 ما اسند عبد اللہ بن مسعودؓ)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے بندوں کے قلوب پر نظر فرمائی تو حضرت محمدﷺ کے قلبِ اطہر کو چن لیا، پس آپﷺ کو اپنے پیغام کے ساتھ مبعوث فرمایا اور آپﷺ کو اپنے علم کے ساتھ منتخب فرمایا، پھر آپﷺ کے بعد لوگوں کے قلوب پر نظر فرمائی تو آپﷺ کے لیے حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو چن لیا اور ان کو دین کے مددگار اور اپنے نبیﷺ کے وزیر بنایا اور جس چیز کو اہلِ ایمان (متفقہ طور پر) اچھا سمجھیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اچھی ہے اور جس چیز کو اہلِ ایمان قبیح جانیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبیح ہے۔

منقولہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح آنحضرتﷺ کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساری کائنات میں سے چھانٹ کر منتخب فرمایا اسی طرح تمام نسلِ انسانی میں سے انتہائی مقدس و مطہر شخصیات اور سعید کو مسعود روحوں کو صحبت و رفاقتِ نبویﷺ‏ کے لیے چھانٹ کر منتخب فرمایا۔ یہ حضرات اپنے شرف و کمال، عزت و افتخار، فضیلت و منقبت اور جمال و جلال میں سوائے انبیائے کرام علیہم السلام کے ساری کائنات سے افضل ہیں۔ اگر اس کائنات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ مقدس وجود کسی اور کا ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے حبیبﷺ کی رفاقت و معیت اور صحبت اور مجالست کے لیے منتخب فرماتا لہٰذا صحابہ کرامؓ کی توہین و تنقیص اور ان کی شان میں بدگوئی و ہرزہ سرائی نہ صرف آنحضرتﷺ کی صحبت شریفہ کی توہین و تنقیص ہے بلکہ انتخابِ خداوندی کا بھی تمسخر ہے۔ یہی حال حضرات اہلِ بیتؓ کا ہے کہ وہ قربت دارانِ رسالتﷺ‏ ہونے کے ساتھ ساتھ صحابہؓ میں بھی شامل ہیں اور صحبتِ نبویﷺ‏ کا شرف بھی انہیں حاصل ہے (بشرطیکہ اسے حالتِ ایمان میں زیارتِ نبویﷺ‏ کا شرف حاصل ہوا ہو اور اس کا خاتمہ بھی ایمان پر ہوا ہو) جس طرح صحابہ کرامؓ واجب الاحترام ہیں اسی طرح اہلِ بیتؓ عظام بھی واجب التعظیم ہیں، مخدومِ محترم مفکرِّ اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب دامت برکاتہم لکھتے ہیں:

صحیح العقائد مسلمانوں میں جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایمان اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی عظمت کا اعتقاد ضروریاتِ مسلک میں سے ہے اسی طرح جو اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کرے وہ بھی اہلِ سنت کے دائرہ حقہ میں شمار کے لائق نہیں رہتا۔ 

(اہل بیتؓ: صفحہ 4)

امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی قدس سرّہ (متوفی 1034ھ) لکھتے ہیں:

و گوئیم چگونہ عدم محبت اہلِ بیتؓ در حق اہلِ سنت گمان برده شود کہ آن محبت تبرد ایں بزرگواران جزو ایمان است و سلامتی خاتمہ را بر سوخ آن محبت مربوط ساختہ اند۔ محبت اہلِ بیتؓ سرمایہ اہلِ سنت است مخالفان از ایں معنیٰ غافل اند و از محبت متوسط ایشان جاہل جانب افراط و تفریط خود اختیار کرده اند و ماوراء افراط را تفریظ انگاشتہ حکم بخروج نموده اند و مذہب خوارج انگاشتہ اند نہ دانستہ اند کہ درمیان افراط و تفریط حدیست وسط کہ مرکز حق است و موطن صدق کہ اہل سنت گشتہ است شکر اللہ تعالیٰ سعیہم 

(مکتوباتِ امام ربانی: دفتر دوم مکتوب 34)

صفحہ 1 از 3