مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد رفیع عثمانی رحمۃاللہ کا…

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد رفیع عثمانی رحمۃاللہ کا فتویٰ


شیعوں کے ذبیحہ کا حکم:

سوال: کیا شیعہ عالم کی امامت میں اہلِ سنت نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اور ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت یا تعزیت کر سکتے ہیں؟ اور شیعہ کے قبرستان میں دعا کر سکتے ہیں؟ اور ان کا ذبیحہ حلال ہے یا نہیں؟ اسکردو میں سب قصاب شیعہ ہیں، انہی کا ذبیحہ گوشت اہلِ سنت والجماعت کے گھروں میں پکتا ہے۔ لہٰذا اس کی وضاحت فرمائیں؟  

جواب: پہلے اصولی طور پر یہ سمجھ لیجیے کہ دین کی جو بات قرآنِ حکیم یا حدیثِ متواترہ سے قطعی طور پر ثابت ہو، جو شخص ایسی بات کا منکر ہو وہ کافر ہے۔ ایسے شخص کی نہ نمازِ جنازہ میں اقتدا جائز ہے، نہ اس کی نمازِ جنازہ میں شرکت، اور نہ اس کے لیے دعائے استغفار۔

اور جو شخص ایسی بات کا منکر نہ ہو وہ مسلمان ہے، اگرچہ بدعت اور دوسرے گناہوں میں مبتلا ہو۔ پس جو شیعہ حضرت عائشہؓ پر جو بہتان لگایا گیا تھا اسے صحیح سمجھتے ہیں، یا حضرت علیؓ کو معبود مانتے ہیں، یا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے صحابی ہونے کے منکر ہیں، یا یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے وحی پہنچانے میں غلطی ہوئی ہے، یا قرآنِ شریف کو تحریف شدہ یا غیر معتبر کہتے ہیں، وہ کافر ہیں کیونکہ یہ عقائد قرآنِ حکیم اور تواتر کے خلاف ہیں۔ ایسے شیعوں کے پیچھے نہ نماز جائز ہے، اور نہ ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت جائز ہے، نہ ان کے لیے دعائے مغفرت جائز ہے، نہ ان کے قبرستان میں جانا چاہیے، نہ تعزیت کے لیے۔ ان کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہے۔ ان سے کسی مسلمان مرد یا عورت کا نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔

اور جو شیعہ مذکورہ بالا عقائد میں سے تو کسی چیز کے قائل نہیں مگر شیخین (حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما) کو گالیاں دیتے اور تبرّا کرتے ہیں، ان کے کافر ہونے میں اختلاف ہے۔ مگر احتیاط اس میں ہے کہ جس کو شامی نے اختیار کیا کہ تکفیر نہ کی جائے۔ لیکن اس میں شبہ نہیں کہ وہ فاسق ہیں۔

اور جو شیعہ تبرّا بھی نہیں کرتے مگر حضرت علیؓ کو باقی خلفائے ثلاثہؓ سے افضل سمجھتے ہیں، وہ بالاتفاق کافر نہیں مگر اہلِ بدعت اور فاسق ہیں، اہلِ سنت والجماعت سے خارج ہیں۔

آخری دونوں قسموں کے شیعوں کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی ہے۔ اگر وہ اس طرح نماز پڑھاتے ہیں کہ نماز کا کوئی رکن یا شرط فوت ہو جاتی ہے تو ان کے پیچھے کسی سنی مسلمان کی نماز ادا نہ ہو گی، فرض ہی ادا نہ ہو گا۔ اگر فرض کا کوئی واجب ترک کرتے ہیں تو ان کے پیچھے نماز واجب الاعادہ ہو گی، اگرچہ فرضیت ادا ہو جائے گی۔ ان کے جنازہ اور نمازِ جنازہ میں شرکت کی بھی گنجائش ہے، تعزیت و دعائے مغفرت بھی کی جا سکتی ہے۔ مگر مشہور علمائے کرام اور دینی پیشواؤں کو علی الاعلان ایسا کرنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے: إِلَّا لِحَاجَةٍ شَرْعِيَّةٍ۔ ان کے قبرستان میں دعا بھی کر سکتے ہیں، ان کا ذبیحہ بھی حلال ہے۔  

(فتاویٰ دارالعلوم کراچی: جلد 6 صفحہ 395)