آغا خانیوں کے ذبیحہ کا حکم - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

آغا خانیوں کے ذبیحہ کا حکم


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آغا خانی مسلمان ہیں یا نہیں؟ اگر مسلمان نہیں تو ان سے میل جول رکھنا کیسا ہے؟  

جواب: آغا خانی اسماعیلی فرقہ شیعیت میں غالی فرقہ ہے۔ اور ان کے عقائد کی روشنی میں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ان کا دعویٰ اسلام معتبر ہے۔ 

آغا خانیوں کے کفریہ عقائد کی وجہ سے اس فرقے کو کسی بھی طرح سے مسلمان تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ متقدمین اور متأخرین علماءِ کرام نے ان کے کفریہ عقائد کے سبب سے آغا خانی فرقے کو کافر اور زندیق قرار دیا ہے۔ ان کے لوگوں کے ساتھ مناکحت جائز نہیں، ان کا ذبیحہ حلال نہیں، ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا چاہیے۔ الغرض ان کے ساتھ مسلمانوں جیسے معاملات اور میل جول رکھنا درست نہیں۔

لِمَا فِی أَحْكَامِ الْقُرْآنِ لِلْجَصَّاصِ: وَقَوْلُهُمْ فِی تَرْكِ قَبُولِ تَوْبَةِ الزِّنْدِيقِ: يُوجِبُ أَنْ لَا يُسْتَتَابَ الْإِسْمَاعِيلِيَّةُ وَسَائِرُ الْمُلْحِدِينَ الَّذِينَ قَدْ عُلِمَ مِنْهُمُ اعْتِقَادُ الْكُفْرِ كَسَائِرِ الزَّنَادِقَةِ وَأَنْ يُقْتَلُوا مَعَ إِظْهَارِهِمُ التَّوْبَةَ وَفِی الْهِندِيَّةِ: وَيَجِبُ اكْفار الرَّوَافِضِ فِی قَوْلِهِمْ بِالرَّجْعَةِ وَالْأَمْوَاتِ إِلَى الدُّنْيَا وَبِتَنَاسُخِ الْأَرْوَاحِ وَبِانْتِقَالِ رُوحِ الْإِلَهِ إِلَى الْأَئِمَّةِ وَبِقَوْلِهِمْ فِی خُرُوجِ إِمَامٍ بَاطِنٍ وَفِی رَدِّ الْمُحْتَارِ: يُعْلَمُ مِمَّا هُنَا حُكْمُ الدُّرُوزِ وَالتَّيْامَنَةِ فَإِنَّهُمْ فِی الْبِلَادِ الشَّامِيَّةِ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ وَالصَّوْمَ وَالصَّلَاةَ مَعَ أَنَّهُمْ يَعْتَقِدُونَ تَنَاسُخَ الْأَرْوَاحِ وَحِلَّ الْخَمْرِ وَالزِّنَا وَأَنَّ الْأُلُوهِيَّةَ تَظْهَرُ فِی شَخْصٍ بَعْدَ شَخْصٍ وَيَجْحَدُونَ الْحَشْرَ وَالصَّوْمَ وَالصَّلَاةَ وَالْحَجَّ وَذُكِرَ فِيهَا أَنَّهُمْ يَنْتَحِلُونَ عَقَائِدَ النصيْرِيَّةِ وَالْإِسْمَاعِيلِيَّةِ الَّذِينَ يُلَقَّبُونَ بِالْقَرَامِطَةِ وَالْبَاطِنِيَّةِ الَّذِينَ ذَكَرَهُمْ صَاحِبُ الْمَوَاقِفِ: وَنُقِلَ عَنْ عُلَمَاءِ الْمَذَاهِبِ الْأَرْبَعَةِ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ إِقْرَارُهُمْ فِی دِيَارِ الْإِسْلَامِ بِجِزْيَةٍ وَلَا غَيْرِهَا وَلَا تَحِلُّ مُنَاكَحَتُهُمْ وَلَا ذَبَائِحُهُمْ 

(النجم الفتاویٰ: جلد1 صفحہ500)