شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی سید نجم الحسن امروہوی کا فتویٰ…

شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی سید نجم الحسن امروہوی کا فتویٰ (رئیس دار الافتاء و مہتمم دارالعلوم یاسین القرآن، نارتھ کراچی)


بوہری اور آغا خانی فرقوں کے ذبیحہ کا حکم:

سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل ایک فرقہ جو اپنے آپ کو بوہری کے نام سے موسوم کرتا ہے، لیکن بعض معاملات میں مسلمانوں سے بالکل الگ ہے۔ اسی طرح آغا خانی۔ شریعت میں ان کا کیا حکم ہے؟ ان کے ساتھ معاملات اور لین دین، میل جول صحیح ہے یا نہیں؟  

جواب: بوہری فرقہ اور آغا خانی دونوں دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ لہٰذا ان کے ساتھ کسی طرح کا معاملہ، لین دین اور میل جول جائز نہیں ہے۔ ان کے ساتھ نکاح کرنا اور ان کا ذبیحہ بھی حرام ہے۔  

وَفِی رَدِّ الْمُحْتَارِ: يُعْلَمُ مِمَّا هُنَا حُكْمُ الدُّرُوزِ وَالتيْامَنَةِ فَإِنَّهُمْ فِی الْبِلَادِ الشَّامِيَّةِ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ وَالصَّوْمَ وَالصَّلَاةَ مَعَ أَنَّهُمْ يَعْتَقِدُونَ تَنَاسُخَ الْأَرْوَاحِ وَحِلَّ الْخَمْرِ وَالزِّنَا وَأَنَّ الْأُلُوهِيَّةَ تَظْهَرُ فِی شَخْصٍ بَعْدَ شَخْصٍ وَيَجْحَدُونَ الْحَشْرَ وَالصَّوْمَ وَالصَّلَاةَ وَالْحَجَّ وَذُكِرَ فِيهَا أَنَّهُمْ يَنْتَحِلُونَ عَقَائِدَ النصيْرِيَّةِ وَالْإِسْمَاعِيلِيَّةِ الَّذِينَ يُلَقَّبُونَ بِالْقَرَامطَةِ وَالْبَاطِنِيَّةِ الَّذِينَ ذَكَرَهُمْ صَاحِبُ الْمَوَاقِفِ: وَنُقِلَ عَنْ عُلَمَاءِ الْمَذَاهِبِ الْأَرْبَعَةِ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ إِقْرَارُهُمْ فِی دِيَارِ الْإِسْلَامِ بِجِزْيَةٍ وَلَا غَيْرِهَا وَلَا تَحِلُّ مُنَاكَحَتُهُمْ وَلَا ذَبَائِحُهُمْ  

(نجم الفتاویٰ: جلد 1 صفحہ504)