شیعوں کا ذبیحہ - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعوں کا ذبیحہ


سوال:* کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ شیعہ اثناء عشری مسلمان ہیں یا خارج از اسلام؟ اور ان کے ساتھ مناکحت اور ان کا ذبیحہ حلال ہے یا نہیں؟ ان کے جنازہ کی نماز پڑھنا، اپنے جنازہ میں شریک کرنا درست ہے یا نہیں؟ نیز اگر وہ کسی مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ دینا چاہیں تو لیا جائے یا نہیں؟  

جواب:  شیعہ اثناء عشری خارج از اسلام ہیں۔ ہمارے علماءِ سابقین کو چونکہ ان کے مذہب کی حقیقت کما ینبغی معلوم نہ تھی، بوجہ اس کے کہ یہ لوگ اپنے مذہب کو چھپاتے ہیں اور کتابیں بھی ان کی نایاب تھیں، لہٰذا بعض محققین نے بنا بر احتیاط ان کی تکفیر نہیں کی تھی۔ مگر آج ان کی کتابیں نایاب نہیں رہیں اور ان کے مذہب کی کیفیت منکشف ہو گئی، اس لیے تمام محققین ان کی تکفیر پر متفق ہو گئے۔

ضروریات کا انکار قطعاً کفر ہے اور قرآنِ شریف ضروریات میں سب سے ارفع و اعلیٰ چیز ہے۔ اور شیعہ بالاتفاق، کیا ان کے متقدمین اور کیا متأخرین، سب کے سب تحریفِ قرآن کے قائل ہیں۔ 

ان کی معتبر کتابوں میں دو ہزار سے زائد روایات تحریفِ قرآن کی موجود ہیں، جن میں پانچ قسم کی تحریف قرآنِ شریف میں بیان کی گئی ہے: کمی، زیادتی، تبدلِ الفاظ، تبدلِ حروف، خرابیِ ترتیب۔ سورتوں میں بھی، آیتوں میں بھی اور کلمات میں بھی۔

ان پانچ قسم کی تحریف کی روایات کے ساتھ ان کے علماء کا اقرار ہے کہ یہ روایات متواتر ہیں، تحريفِ قرآن پر صَرِيح الدِّلَالَةِ ہیں اور انہی کے مطابق عقیدہ رکھتے ہیں۔

المختصر شیعوں کا کفر بر بنائے عقیدہ تحریفِ قرآن محلِ تردد نہیں علاوہ اس کے دوسرے وجوہِ کفر بھی ہیں۔ لہٰذا شیعوں کے ساتھ مناکحت قطعاً ناجائز اور ان کا ذبیحہ حرام، ان کا چندہ مسجد میں لینا ناروا ہے۔ ان کا جنازہ پڑھنا، ان کو اپنے جنازہ میں شریک کرنا جائز نہیں۔  

(امداد الفتاویٰ: جلد 10 صفحہ 413)