حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃاللہ کا…

حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃاللہ کا فتویٰ


شیعہ کے ذبیحہ کا حکم:

سوال: رافضی کے ہاتھ کا ذبیحہ جائز ہے یا نہیں؟  

جواب: شیعہ کے ذبیحہ کی حلت میں علماءِ اہلِ سنت کا اختلاف ہے۔ راجح اور صحیح یہ ہے کہ حلال ہے۔ قال الشامی: وَكَيْفَ يَنْبَغِی الْقَوْلُ بِعَدَمِ حِلِّ ذَبِيحَتِهِمْ مَعَ قَوْلِنَا بِحِلِّ ذَبِيحَةِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى

وضاحت: حضرت تھانوی  رحمۃ اللہ نے شیعہ کے ذبیحہ کی حلت پر استدلال کے لیے جو عبارت نقل فرمائی ہے وہ درحقیقت شامی کی وہ عبارت ہے جس کو علامہ شامی ؒ نے معتزلہ کے بارے میں نقل فرمایا ہے۔ اور معتزلہ کا ذبیحہ واقعی راجح قول کے اعتبار سے حلال ہے۔ 

لیکن یہاں مسئلہ معتزلہ سے متعلق نہیں بلکہ شیعوں اور رافضیوں سے متعلق ہے۔ اور جو شیعہ تفضیلی ہیں ان کا ذبیحہ اور ان سے نکاح سب جائز ہے۔ یہاں مسئلہ شیعہ غالی سے متعلق ہے، کیونکہ ہندوستان میں جو شیعہ ہیں وہ سب غالی ہیں۔ ان کو جمہور نے کافر اور خارج از اسلام قرار دیا ہے۔ وہ کتابی کے حکم میں بھی نہیں ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ نکاح بھی جائز نہیں اور ان کا ذبیحہ بھی حلال نہیں۔ اس بارے میں صریح جزئیہ شامی وغیرہ میں موجود ہے۔  

(امداد الفتاویٰ: جلد8 صفحہ372)