اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ جس نے استحقاق خلافت میں سیدنا علیؓ کو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر مقدم کیا وہ گمراہ اور بدعتی ہے، اور جس نے حضرت علیؓ کو سیدنا عثمانؓ پر مقدم کیا وہ گمراہ اور مبتدع تو نہیں لیکن غلطی پر ضرور ہے۔
(مجموع الفتاویٰ: جلد 3 صفحہ 101، 102)
اگرچہ بعض علماء نے سیدنا علیؓ کو سیدنا عثمانؓ پر ترجیح دینے والوں کے خلاف سخت نکیر کی ہے، اور یہاں تک لکھا ہے کہ جس نے استحقاق خلافت میں سیدنا علیؓ کو سیدنا عثمانؓ پر ترجیح دی گویا اس کا زعم یہ ہے کہ اصحابِ رسولﷺ نے سیدنا عثمانؓ کو سیدنا علیؓ پر مقدم کر کے امانت الٰہی میں خیانت کی ہے۔
(حقبۃ من التاریخ: عثمان الخمیس: صفحہ 66)
ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’اہل سنت اس بات پر متفق ہیں کہ سیدنا عثمانؓ، سیدنا علیؓ پر مقدم ہیں۔ عثمان و علی (رضی اللہ عنہما) کو ایک دوسرے پر ترجیح دینے کا مسئلہ ان اصولی مسائل میں سے نہیں ہے جن کی مخالفت کرنے والوں کو جمہور اہل سنت کے نزدیک گمراہ قرار دیا جاتا ہے، البتہ استحقاق خلافت کے مسئلہ میں حضرت علیؓ کو حضرت عثمانؓ پر ترجیح دینے والوں کو ضرور گمراہ کہتے ہیں۔ ان کا ایمان و عقیدہ ہے کہ اللہ کے رسولﷺ کے بعد بالترتیب ابو بکر، پھر عمر پھر عثمان، پھر علی رضی اللہ عنہم خلیفہ ہیں، اگر کوئی شخص ان ائمہ کرام میں سے کسی کی خلافت پر اعتراض کرتا ہے تو اپنے گدھے سے بھی زیادہ احمق ہے۔‘‘
(مجموع الفتاویٰ: جلد 3 صفحہ 101، 201)
امام ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ حضرت علیؓ پر حضرت عثمانؓ کی فضیلت کے مسئلہ میں علماء کے اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’اس مسئلہ میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ حضرت علیؓ کو حضرت عثمانؓ پر فضیلت دینا اور انھیں مقدم جاننا جائز نہیں ہے۔ جو شخص ایسا کرتا ہے وہ سنت سے خارج ہو کر بدعت میں گرفتار ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ اجماعِ صحابہؓ کا مخالف ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جس نے حضرت علیؓ کو حضرت عثمانؓ پر مقدم کیا اس نے مہاجرین اور انصار دونوں پر تہمت لگائی۔ کئی ایک حضرات کا یہی مسلک ہے۔ انھیں میں سے ایوب سختیانی، احمد بن حنبل اور دارقطنی رحمۃاللہ علیہم ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ جس نے حضرت علیؓ کو حضرت عثمانؓ پر مقدم کیا اسے بدعتی نہیں کہا جائے گا اس لیے کہ دونوں کے احوال و مناقب تقریباً ملتے جلتے ہیں۔
(مجموع الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 267، لیکن قول اول ہی راجح ہے کیونکہ اجماعِ صحابہؓ حجت شرعی ہے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
(کُنَّا فِی زَمَنِ الْاَرْضِ صلي الله عليه وسلم لَاتَعْدِلُ بِأَبِیْ بَکْرٍ اَحَدًا، ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ ثُمَّ نَتْرُکَ أَصْحَابُ النَّبِیّ صلي الله عليه وسلم لَانُفَاضِلُ بَیْنَہُمْ) (البخاری: فضائل الصحابۃ:3697) ’’ہم ابوبکر کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے پھر عمر اور پھر عثمان اور پھر ان کے بعد صحابہ کے درمیان ایک کو دوسرے پر فوقیت نہیں دیتے تھے۔ ‘‘سیدنا عثمانؓ فضیلت و خلافت دونوں میں سیدنا علیؓ پر فوقیت رکھتے ہیں۔ (مترجم)