سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیانِ شرع اس بارے میں کہ میں ہمیشہ علاقہ غیر میں کاروبار کرتا ہوں، وہاں پر اہلِ شیعہ جانور وغیرہ ذبح کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ لوگ ہم کو کھانے کی دعوت دیتے ہیں، کیا ان کا یہ ذبیحہ حلال ہے؟
جواب: اگر یہ ذبیحہ اہلِ شیعہ کا ہو جو کہ کافر ہیں، مثلاً حضرت علیؓ کو الہٰ یا پیغمبر ماننے کا اعتقاد رکھتے ہیں، یا حضرت عائشہؓ کے واقعہ افک کو صحیح و درست سمجھتے ہیں، تو کفر کی وجہ سے ان کا ذبیحہ مردار ہے۔
اور اگر یہ لوگ سبِّ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سبِّ ازواجِ مطہراتؓ میں مبتلا ہوں تو اکثر محققین کے نزدیک یہ لوگ کافر نہیں ہیں: صَرَّحَ بِهِ فِی تَمْهِيدِ السَّلَفِی وَسَائِرِهِ ابْنُ الْهُمَامِ وَفَتْحِ الْقَدِيرِ وَشَرْحِ الْفِقْهِ الْأَكْبَرِ لِعَلِی الْقَارِی وَبَحْرِ الْعُلُومِ شَرْحِ الْمُسْلِمِ وَغَيْرِهِ
لہٰذا ان کا ذبیحہ کھانا جائز ہو گا بشرط یہ کہ کوئی نجاست اس میں مخلوط نہ ہو۔
(فتاویٰ فریدیہ: جلد 8 صفحہ367)