سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیانِ شرع اس بارے میں کہ یہاں کے لوگ سو فیصد شیعہ ہیں اور ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت علیؓ کو تصرف فی الکائنات جزوی حیثیت سے حاصل ہے۔ لہٰذا ان شیعہ لوگوں کا ذبیحہ سنی عقیدہ مسلمان کے لیے جائز ہے یا نہیں؟ اور ان لوگوں کے ساتھ ملنا مصافحہ یا سلام وغیرہ شریعت کی رو سے جائز ہے یا نہیں؟
جواب: پاکستانی شیعہ اکثری طور پر کفری عقیدہ رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان کے نکاح اور ذبیحہ سے اجتناب ضروری ہے اور آپ کے ہاں شیعہ لوگ اگر کفری عقیدہ نہ رکھتے ہوں تو جزوی جزوی تصرف سے اگر مراد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کے اذن کے بغیر تصرف کرتا ہے یعنی اذن اول کافی ہے ہر جزوی جزوی امر میں اذن کا محتاج نہیں ہے تو یہی شرکی عقیدہ ہے۔ کما فی الفوز الکبیر و کتاب الوسیلہ اور اگر ہر جزوی جزوی امر میں اس کو محتاج مانتا ہو تو شرک نہ ہو گا البتہ افترا اور جھوٹ ہو گا۔
(فتاویٰ فریدیہ: جلد8 صفحہ321)