سیدہ فاطمہ ناراض ہوگئیں اور وہاں سے چلی گئیں اور آخر عمر تک…

سیدہ فاطمہ ناراض ہوگئیں اور وہاں سے چلی گئیں اور آخر عمر تک خلیفہ سے بات تک نہیں کیں۔  یہاں تک کہ نماز(جنازہ) میں بھی شرکت کی اجازت نہیں دی۔(شیعہ مناظر)(قسط 9)

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 3

اب آپ کا بنیادی اعتراض :سیدہ فاطمہ کی ناراضگی راوی کا گمان ہے۔کسی اور راوی نے اس کو بیان نہیں کیا ہے۔

   پہلا جواب:راوی اہل سنت کے امام اور سب کے نزدیک ثقہ ،خاص کر صحاح ستہ کے مصنفین کے نزدیک قابل اعتماد  اور صحیحین کے کثیر الروایات راوی ہے۔  ہزار کے نزدیک اس سے روایات بخاری میں ہیں۔

اب ہم یہ کہیں گے کہ کم از کم یہ تو کلیئر ہے کہ جو شیعہ کہتے ہیں وہ اہل سنت کے ہی امام اور ایک اہم راوی کا نظریہ ہے اور صحیحین میں بغیر کسی اعتراض کے اس کی روایت نقل ہے۔

خاص کر جو اوپر اسکین والی روایت ہے اس میں صاف ظاہر ہے کہ یہ راوی کی بات نہیں ہے بلکہ جناب عائشہ کا قول ہے   جیساکہ اہل سنت کے بہت سے شارحین نے اس کو روایت کا حصہ قرار دے کر ناراضگی کی بات کو  مانا ہے ،جیسے  ابن حجر،  ابن بطال وغیرہ اور اہلِ سنت کے ہی کافی علماء نے اس معاملے میں جناب فاطمہ ع کو خطا کار کہا ہے جیسے ابنِ تیمیہ،  ابنِ عثیمین۔اس کے علاوہ جس نے اندراج کا دعویٰ کیا ہے وہ  اس کا اپنا گمان ہے۔کچھ اور لکھنا تھا ، فی الحال یہی کافی۔


صفحہ 3 از 3