سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیانِ شرع اس بارے میں کہ ایک اہلِ تشیع فرقہ اثناء عشری نوحہ خوانی کرنے والا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذات بابرکات کی شان میں گستاخی کرنے والا اور تبرا بازی کرنے والا غرض یہ کہ اپنے فرقہ کی تمام رسومات کا پابند ہے۔ اس کے گھر کا پکا ہوا کھانا کھانا جبکہ کھانا بھی محرم الحرام کی دسویں کا پکا ہوا ہو، لاہور یا دیگر کسی شہر کے اہلِ سنت والجماعت کے ایک متقی شخص یا کوئی شخص بھی ہو جو کہ عقیدہ اہلِ سنت والجماعت رکھتا ہو، اس کے لیے ایسا کھانا کھانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: جو شیعہ کفر کے درجہ کو پہنچے ہوں، مثلاً حضرت عائشہ صدیقہؓ پر بہتان لگاتے ہوں یا حضرت علیؓ کو پیغمبر سمجھتے ہوں، تو ان کا ذبیحہ حرام ہے۔ اور دیگر خوراک حلال ہے، البتہ ان کے ساتھ اسی ماتم وغیرہ میں حصہ لینا حرام ہے۔
(فتاویٰ فریدیہ: جلد 8 صفحہ320)