1۔ عہد عثمانی میں حدود کی تنفیذ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سپرد:
حصین بن منذر کا بیان ہے کہ میں حضرت عثمان بن عفانؓ کے پاس تھا، حضرت ولیدؓ پکڑ کر لائے گئے، دو آدمیوں نے ان کے خلاف گواہی دی کہ انھوں نے شراب پی ہے، گواہی دینے والوں میں ایک حمران بھی تھے اور دوسرے نے گواہی دی کہ میں نے اس کو شراب کی قےطذ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ حضرت عثمانؓ نے گواہی لینے کے بعد کہا: اگر شراب نہ پی ہوتی تو شراب کی قے کیوں کرتا، لہٰذا اے علی! اٹھو اور اسے کوڑے لگاؤ اور حضرت علیؓ نے حسن سے کہا، اے حسن! تم اٹھو اور کوڑے لگاؤ، تو حضرت حسنؓ کہنے لگے: حکومت کی آسائشوں سے جو شخص لطف اندوز ہو مشکلات بھی اسی کے سپرد کرو، گویا انھوں نے اپنی ناراضی کا اظہار کیا، پھر حضرت علیؓ کہا: اے عبداللہ بن جعفر! اٹھو اور اسے کوڑے لگاؤ، چنانچہ انھوں نے کوڑے مارے اور حضرت علیؓ انھیں شمار کرتے رہے، جب وہ چالیس کوڑے لگا چکے تو حضرت علیؓ نے کہا: رک جاؤ، اور پھر فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر نے چالیس، چالیس کوڑے لگائے ہیں اور عمر رضی اللہ عنہ
نے اسّی کوڑے لگوائے اور یہ سب سنت ہے، لیکن میں چالیس ہی کو پسند کرتا ہوں۔
(شرح النووی علی صحیح مسلم: الحدود: جلد 11 صفحہ 216)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ حضرت عثمانؓ سے بہت قریب تھے، اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری پر ان سے تعاون کرتے تھے اور جو شخص ولید کی طرف منسوب اس فعل کی وجہ سے حضرت عثمانؓ کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتا آپ حضرت عثمانؓ کی طرف سے دفاع کرتے ہوئے اسے جواب دیتے کہ جس کام کے حوالہ سے تم لوگ حضرت عثمانؓ پر عیب لگاتے ہو، ایسے ہی ہے جیسے کوئی آدمی اپنے اوپر وار کرے تاکہ اپنے معاون کو قتل کر دے،
(تاریخ الطبری: صفحہ 177، 178)
عثمان کا کیا جرم؟ ایک شخص کو انھوں نے اس کے فعل کی وجہ سے کوڑے لگوائے اور منصب سے معزول بھی کر دیا اور (کہا) پھر عثمان کا کیا جرم انھوں نے جو کچھ کیا ہمارے مشورہ سے کیا۔
(تحقیق موافق الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 421)