سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کردہ تہمتیں اور جھوٹی…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کردہ تہمتیں اور جھوٹی روایات

  علی محمد محمد الصلابی

3۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کردہ تہمتیں اور جھوٹی روایات:

حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’ابن جریر وغیرہ بہت سارے مؤرخین کا متعدد مجہول روایوں کے حوالہ سے یہ لکھنا کہ حضرت علیؓ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ (رضی اللہ عنہ) سے کہا کہ تم نے مجھے دھوکا دیا اور عثمان کو اس لیے ترجیح دی کہ وہ تمھارے سسرالی رشتہ کے ہیں اور ہر روز اپنے معاملات میں تم سے مشورہ لیں گے اور پھر آپ (علی رضی اللہ عنہ ) نے بیعت کرنے میں توقف کیا، یہاں تک کہ عبدالرحمٰن کو اس آیت کریمہ کا سہارا لینا پڑا:

اِنَّ الَّذِيۡنَ يُبَايِعُوۡنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوۡنَ اللّٰهَ يَدُاللّٰهِ فَوۡقَ اَيۡدِيۡهِمۡ‌ فَمَنۡ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنۡكُثُ عَلٰى نَفۡسِهٖ‌ وَمَنۡ اَوۡفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَيۡهُ اللّٰهَ فَسَيُؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞ (سورۃ الفتح آیت 10)

ترجمہ: اے پیغمبر!) جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں درحقیقت وہ اللہ سے بیعت کررہے ہیں ۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے، اس کے بعد جو کوئی عہد توڑے گا، اس کے عہد کو توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا، اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے گا، جو اس نے اللہ سے کیا ہے تو اللہ اس کو زبردست ثواب عطا کرے گا۔  

یہ اور اس طرح کی دوسری روایات جو صحیح احادیث کے خلاف ہیں، ان کے قائلین اور نقل کرنے والے مردود ہیں، واللہ اعلم۔ 

صحابہ کرامؓ کے بارے ہمارا علم و عقیدہ ان روافض اور قصہ گو احمقوں کی توہمات سے بالکل پاک ہے جن کے یہاں صحیح اور ضعیف، درست اور غلط کی کوئی تمیز نہیں ہے۔‘‘ 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 152)