سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ شیعہ کے ہاتھ کے ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: غالی شیعہ جو سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی شان میں مغلظات بکتے ہیں، اسی طرح فرقہ اثناء عشریہ اور فرقہ اسماعیلیہ کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال نہیں، بلکہ حرام ہے۔ اور جو شیعہ فی زماننا ہندوستان میں ہیں، وہ سب غالی شیعہ ہیں۔ ان کا ذبیحہ بھی حرام ہے کیونکہ ان سب کے خارج از اسلام اور مرتد ہونے پر تمام علمائے اسلام کا اجماع ہے۔
وَفِی السُّنَنِ الْكُبْرى لِلْبَيْهقِی: عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللهِﷺ إِلَى مَجُوسِ هَجَرَ يَعْرِضُ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ، فَمَنْ أَسْلَمَ قُبِلَ مِنْهُ، وَمَنْ أَبَى ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْجِزْيَةُ عَلَى أَنْ لَا تُؤْكَلَ لَهُمْ ذَبِيحَةٌ وَلَا تُنْكَحَ لَهُمُ امْرَأَةٌ ھذا مرسل واجماع اکثر امۃ علیہ یؤیدہ
وَفِی فَتَاوى الْعَالَمْگِيرِيَّةِ: فَلَا تُؤْكَلُ ذَبِيحَةُ أَهْلِ الشِّرْكِ وَالْمُرْتَدِّ، لِأَنَّهُ لَا يُقرُّ عَلَى الدِّينِ الَّذِی انْتَقَلَ إِلَيْهِ
(فتاویٰ قاسمیہ: جلد 22 صفحہ131)