6: اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کی نسل کی بقا کا ذریعہ بنایا:
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فارس کو فتح کیا تو اس کے اموال غنیمت میں سے شاہ فارس یزد گرد کی بیٹی کو حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دے دیا اور اسی کے بطن سے آپ کے بیٹے زین العابدین علی بن حسین پیدا ہوئے، آپ کے تمام بیٹے آپ کے ساتھ شہید ہو گئے ان میں تنہا یہی بچے تھے اور انھیں سے سیدنا حسینؓ کی نسل آگے بڑھی اور انھیں کی طرف نسبت کی جانے لگی۔
(عمدۃ الطالب فی أنساب ابی طالب: الفصل الثانی: عقب الحسین، بحوالہ: اذہبوا فانتم الرافضۃ: صفحہ 232)
لہٰذا جو لوگ خود کو حسینی نسل قرار دیتے ہیں اور حضرت عمر فاروقؓ کو برا بھلا کہتے ہیں وہ ہوش میں رہیں، کیونکہ اگر اللہ کی توفیق سے حضرت عمرؓ نے ایسا نہ کیا ہوتا تو شاید آج اس بابرکت خاندان کا کوئی وجود نہ رہتا۔ (اذہبوا فأنتم الرافضۃ: صفحہ 232)
اسی طرح حضرت عمرؓ ہی نے اس کی بہن کو محمد بن ابوبکر کے نکاح میں دے دیا تھا، جو کہ حضرت حسینؓ کے ہم زلف ٹھہرے، اسی کے بطن سے ان کے بیٹے قاسم بن محمد بن ابوبکر پیدا ہوئے، اس طرح قاسم بن محمد بن ابوبکر، اور علی زین العابدین بن حسین بن علی دونوں خالہ زاد بھائی ہوئے۔
(سیرأعلام النبلاء: جلد 6 صفحہ 254)