شیعہ اصولِ حدیث پر ایک نظر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ اصولِ حدیث پر ایک نظر

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 2

۴۔ حدیث قوی: اس کا اطلاق اس حدیث پر ہوتا ہے جس کے تمام راوی امامیہ شیعہ ہوں لیکن کتبِ رجال میں نہ تو ان پر جرح ہو اور نہ ہی تعدیل ہو۔

(اصول الحدیث از الدکتور عبد الھادی الفضلی صفحہ108)

۵۔ ضعیف حدیث:جس میں اوپر بیان کی گئیں تینوں اقسام کی شرائط نہ پائی جائیں یعنی اس میں مجروح اور فاسق راوی ہو یا مجھول الحال ہو یا دونوں طرح کے راوی پائے جائیں۔(المبادی العامۃ العلم مصطلح الحدیث المقارن از الدکتور علی خضیر حجی صفحہ 297)

(پ) اتصالِ سند کے لحاظ سے :

۱۔ مرسل: جس حدیث کا واسطہ معصوم اور راوی کے درمیان سے ٹوٹتا ہو اسے مرسل روایت کہتے ہیں۔

(اصول الحدیث از الدکتور عبدالھادی الفضلی صفحہ175)

۲۔ المسند: جو سلسلہ سند شروع سے آخر تک متصل ہو اور اس میں کہیں بھی ایک راوی بھی ساقط نہ ہو ،چاہے معصوم سے مروی ہو یا غیرِ معصوم سے۔

(اصولِ حدیث و احکامہ فی علم الدرایہ از آیت اللہ العظمیٰ الشیخ جعفر السبحانی الفصل الثالث صفحہ65)

۳۔ المرفوع: وہ حدیث جس کا سلسلہ سند معصوم تک پہنچتا ہو خواہ متصل خواہ منقطع طریقے سے۔

(مکتب اہل بیت میں علوم حدیث کا ارتقاء از ڈاکٹر محسن نقوی صفحہ 262)

۴۔ الموقوف: اس کا سلسلہ سند صحابیِ رسول ﷺ تک یا اصحاب الائمہ معصوم کے کسی قول یا فعل تک متصلاً یا منقطعاً پہنچے چاہے صحیح ہو یا غیر صحیح۔ 

(المبادی العامۃ العلم مصطلح الحدیث المقارن از الدکتور علی خضیر حجی صفحہ 371) 

۵۔ المقطوع: جس کا سلسلہ سند تابعین تک پہنچتا ہو یا اصحابِ آئمہ کے ساتھیوں تک جاتا ہو۔ (المبادی العامۃ العلم مصطلح الحدیث المقارن از الدکتور علی خضیر حجی صفحہ379) 

۶۔ المعلق: جس کا سلسلہ سندکے ابتدا سے ایک راوی یا ایک سے زیادہ راوی حذف ہوں۔ (شرح البدایہ فی علم الدرایہ از الشہید الثانیصفحہ 33)

۷۔ المفرد : جس کو روایت کرنے والا راوی صرف اور صرف ایک ہو جو معصوم سے روایت کرے۔ (اصولِ حدیث و احکامہ فی علم الدرایہ ازآیت اللہ العظمیٰ الشیخ جعفر السبحانی الفصل الثالث صفحہ65)

۸۔ المعنعن: جس حدیث کا ہر راوی دوسرے راوی سے ’’عن‘‘ کے ساتھ روایت کرے اور اس میں ’’اخبرنی‘‘ اور’’حدثنی‘‘ وغیرہ الفاظ نہ ہوں۔ اس سے قرات، اجازۃ اور سماع تینوں ثابت ہوتے ہیں۔(مکتب اہل بیت میں علوم حدیث کا ارتقاء از ڈاکٹر محسن نقوی صفحہ 262)

۹۔ المجھول:وہ حدیث جو ایسے راوی سے مروی ہو جو کہ نہ تو ثقہ ہو ، نہ اس پر جرح کی گئی ہو اور نہ ہی اس تعدیل ملتی ہو یا وہ غیر معروف ہو۔ (المبادی العامۃ العلم مصطلح الحدیث المقارن از الدکتور علی خضیر حجی صفحہ485) 

۱۰۔ الموضوع: یہ جھوٹی روایت کو کہتے ہیں جو جعل سازی سے ایجاد کی ہوتی ہے۔ (اصولِ حدیث و احکامہ فی علم الدرایہ از آیت اللہ العظمیٰ ٰالشیخ جعفر السبحانی الفصل الثالث صفحہ485)

(د) متن کے لحاظ سے:

۱۔ الشاذ: جو اپنے سے ثقہ راوی کی اور مشہور روایت کی مخالفت کرے ۔ (اصولِ حدیث و احکامہ فی علم الدرایہ از آیت اللہ العظمیٰ الشیخ جعفرالسبحانی الفصل الثالث صفحہ81)

۲۔ المدرج:وہ حدیث جس میں راوی اپنے سے کچھ الفاظ شامل کر دے ۔ (جامع المقال فیما یتعلق باحوال الحدیث والرجال از الشیخ فخرالدین الطریحی صفحہ 4)

۳۔ المتروک: وہ حدیث جس کے راوی پر جھوٹ کا الزام ہو ،اور نہ ہی اسے حدیث کا علم ہو،اور وہ معروف قواعد کے برعکس ہو ،اور وہ اپنے کلام میں جھوٹ بولنے کی وجہ سے معروف ہو اور وہ حدیث کے موقع پر موجود نہ ہو۔

(اصولِ حدیث و احکامہ فی علم الدرایہ ازآیت اللہ العظمیٰ الشیخ جعفر السبحانی الفصل الثالث صفحہ489)

۴۔ المضمر: جس حدیث میں صحابیؓ یا اصحاب آئمہ ؒ معصوم کا نام ذکر کئے بنا روایت ایسے کرے جیسے کسی معصوم سے ہی روایت کر رہا ہو اور یہ الفاظ استعمال کرے ’’میں نے ان سے سوال کیا،انہوں نے کہا‘‘ یا ’’ انہوں نے مجھے حکم دیا‘‘۔حدیث کی یہ قسم عام راویو ں میں غیر مقبول تھی اس پر تب عمل کیا جاتا تھا جب تقیہ کا ارادہ ہو۔(وصول الاخیار الی اصول الاخبار ازالشیخ حسین بن عبدالصمد الحارثی العاملی صفحہ 146)

شیعہ روایات میں کثرتِ ضعف کے اسباب:

شیعہ روایات میں کثرتِ سے وارد تعارض کی درج ذیل بنیادی وجوہات ہیں:

۱۔ راوی کا معصوم اور غیر معصوم کے کلام کو خلط ملط کر دینا

 (اسباب اختلاف الحدیث از محمد احسانی فراللنکرودیصفحہ 86)

۲۔ راوی کا حدیث کے متن میں تحریف کرنا۔

(اسباب اختلاف الحدیث از محمد احسانی فراللنکرودیصفحہ 148) 

۳۔ اکثر روایات میں تقیہ اختیار کرنا۔(اسباب اختلاف الحدیث از محمد احسانی فراللنکرودیصفحہ 453)

۴۔ شیعہ روایات میں علت کی ایک بڑی وجہ تدلیس بھی ہے۔

( علل الحدیث فی تہذیب الاحکام ازعادل عبدالجبار ثامر الشاطی صفحہ 120)

۵۔ قرآن پاک کی صریح نصوص سے متعارض روایات کا شیعہ کتب میں وارد ہونا۔

(علل الحدیث فی تہذیب تہذیب الاحکام ازعادل عبدالجبار ثامرالشاطی صفحہ 120)

۶۔ شیعہ کتبِ حدیث میں کثرت سے درج مختلف الحدیث کا آنا۔

(علل الحدیث فی تہذیب تہذیب الاحکامازعادل عبدا لجبارثامرالشاطی صفحہ 120)

۷۔ اصولِ کافی کی اکثر روایات میں سند کے بعض حصہ کو حذف کر کے غیر معروف الفاظ کا استعمال جیسا کہ’’ عدۃ من اصحابنا‘‘’’عن غیر واحد‘‘ ۔( مکتب اہل بیت میں علوم حدیث کا ارتقاء از ڈاکٹر محسن نقوی صفحہ 86،87)

حاصلِ بحث :

اثنا عشریہ اصولی نے جو اصولِ حدیث مرتب کئے ہیں انہی اصولوں کی روشنی میں احادیثِ شیعہ میں کثرت سے وارد ضعیف و موضوع روایات کی نشاندہی ہوتی ہے۔شیعہ روایات کا حال تو یہ ہے کہ شیعہ حضرات اپنے عقیدہ عصمتِ آئمہ کی دلیل میں پیش کی جانے والی حدیثِ ثقلین کی بھی کوئی صحیح سند شیعہ کتب سے ثابت کرنے سے قاصر ہیں۔حتیٰ کہ واقعہ کربلا بھی تاریخ طبری میں موجود ابومخنف کی روایات سے سرقہ کیا جاتا ہے۔شیعہ راوی کب ، کہاں اور کیسے تقیہ اختیار کرتے ہیں یہ اپنے آپ میں ایک معمہ ہے جس کے حل کہ لئے شیعہ علما ایک سے ایک بے تکی توجیہات پیش کرتے ہیں۔راوی تو راوی شیعہ اپنے آئمہ کو بھی تقیہ کے الزام سے نہیں بخشتے،دو متعارض روایات یہ صحیح روایت کا ادراک تب انتہائی مشکل ہوجا تا ہے جب یہ کہا جائے کہ راوی نے یہاں تقیہ کیا ہو گا۔


صفحہ 2 از 2