حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہید رحمۃاللہ کا فتویٰ -…

حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہید رحمۃاللہ کا فتویٰ


قادیانی اور شیعہ کے ذبیحہ کا حکم:

سوال: 1: ایک مولوی صاحب نے بروز جمعہ یہ فتویٰ بیان فرمایا کہ شرعاً جملہ افراد اہلِ شیعہ و احمدی کافر ہیں۔ اور جو شخص ان کے ساتھ خورد و نوش کرے گا یا ان کے ساتھ کسی تقریب میں شامل ہو گا کافر متصور ہو گا۔ پھر اس کے ساتھ برتاؤ کرنے والا بھی کافر ہو گا۔ علی ھذا القیاس: سلسلہ کفر جاری رہے گا اور جملہ عورتوں کا نکاح ناجائز اور فسخ شدہ ہے۔ جو لڑکیاں اہلِ سنت والجماعت کی کسی شیعہ یا احمدی کے ساتھ بیاہی ہوئی ہیں ان کی اولاد ولد الحرام ہے اور وہ زنا کرا رہی ہیں۔ کیا جملہ افراد اہلِ شیعہ کافر ہیں؟

2: کیا جملہ افراد احمدی جماعت کے کافر ہیں؟ ہم حنفی ہیں اور جس فرقہ احمدیہ کا ہم سے تعلق ہے وہ کسی مسلمان کو کافر نہیں کہتے۔

3: کیا جملہ عورتوں کے نکاح ناجائز اور فسخ شدہ ہیں جو اہلِ سنت والجماعت کی لڑکیاں ہیں، اور کسی شیعہ یا احمدی سے بیاہی ہوئی ہیں؟ اسی طرح وہ زنا کر رہی ہیں؟

4: کیا کسی معزز شیعہ یا احمدی اہلِ برادری کی تعظیم کرنا کفر ہے؟ اور پھر جو اس کے ساتھ برتاؤ کرے گا یا اس کی کسی تقریب میں شریک ہو گا وہ بھی کافر ہو گا یا گناہ گار؟

جواب: مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین سب باتفاق علمائے اہلِ حق کافر و مرتد ہیں۔ ان سے کسی قسم کا اتحاد و ارتباط رکھنا اور بیاہ شادی کرنا سب حرام ہے۔ اور روافض میں یہ تفصیل ہے کہ جو فرقہ ان کی قطعیات کا منکر ہے اور سبِّ شیخینؓ کرتا ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتا ہے یعنی افک کا معتقد ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تکفیر کرتا ہے، وہ بھی کافر و مرتد ہے۔ ان سے مناکحت و مجالست حرام ہے۔ اور واضح ہو کہ روافض تبرا گو ہی ہوتے ہیں، اگرچہ بوجہِ تقیہ کے جو ان کے نزدیک دینی فعل ہے اپنے آپ کو چھپاتے ہیں اور اپنے عقائدِ باطلہ کو مخفی رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان کے قول و فعل کا اعتبار نہ کیا جائے بلکہ ان کے اصولِ مذہب کو دیکھا جائے۔ پس بعدِ اس تمہید کے آپ خود اپنے سوالات کا جواب سمجھ سکتے ہیں۔

1: اکثر افرادِ شیعہ ایسے ہیں کہ ان پر ان کے کفر کا فتویٰ ہے اور اصولِ مذہب کے اعتبار سے ان کے کفر میں کچھ تردد نہیں۔ لہٰذا ان کے ذبیحہ میں اور ان سے رشتہ مناکحت قائم کرنے میں احتیاط کی جائے، احتراز کیا جائے۔

2: قطعاً کافر و مرتد ہیں۔ یہ غلط ہے کہ وہ مسلمان کو کافر نہیں کہتے۔ ان کی کتبِ مذہب کو دیکھو۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کوئی مرزا کو نبی نہ مانے وہ کافر ہے، جو اس کو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے۔

3: یہ صحیح ہے کہ وہ نکاح نہ ہوا اور اسی حالت میں صحبت و جماع کرنا زنا ہے۔

4: حکم یہ عام نہیں ہے مگر معصیت اور فسق ہونے میں اس میں کلام نہیں ہے۔ اور حدیثِ شریف میں ہے: مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَقَدْ أَعَانَ عَلَى هَدْمِ الْإِسْلَامِ۔ بس جب کہ مبتدع کی تعظیم و توقیر کرنا گویا اسلام کو منہدم کرنا ہے، تو ایسے گمراہ کافر و مرتد فرقوں کی تعظیم و توقیر کس درجہ کی معصیت ہو گی۔  

(فتاویٰ ختم نبوت: جلد 1 صفحہ 100)