جو شیعہ ضروریاتِ دین کا انکار کرتے ہیں ان کا ذبیحہ حلال نہیں ہے اور ان کے ساتھ مناکحت جائز نہیں ہے۔ ابو شکور سلمیؒ کتاب التمہید فی التوحید میں لکھتے ہیں:
كَلَامُ الرَّوَافِضِ مُخْتَلِفٌ، فَبَعْضُهُ يَكُونُ كُفْرًا وَبَعْضُهُ لَا، فَلَو قَالَ: إِنَّ عَلِيًّا كَانَ إِلٰهًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ كَفَرَ، وَلَوْ قَالَ: النُّبُوَّةُ كَانَتْ لِعَلِی وَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخْطَأَ كَفَرَ، وَ مِنْهُمْ مَنْ قَالَ: إِنَّ عَلِيًّا أَفْضَلُ مِنْ رَسُولِ اللّهِ، فَهذَا كُلُّهُ كُفْرٌ
ترجمہ: روافض کی حالت مختلف ہے۔ بعض کافر ہیں، بعض کافر نہیں ہیں۔ پس اگر کوئی کہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خدا تھے جو آسمان سے نازل ہوئے تو وہ کافر ہیں، اور جو کہے کہ نبوت حضرت علیؓ کے لیے تھی، حضرت جبرئیل علیہ السلام سے غلطی ہو گئی تو وہ کافر ہے۔ اور بعض روافض کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حضور اکرمﷺ سے افضل ہیں تو وہ بھی کافر ہیں۔
اور رد المختار میں ہے:
وَبِهَذَا ظَهَرَ أَنَّ الرَّوافِض إِنْ كَانَ مِمَّنْ يَعْتَقِدُ الْأُلُوهِيَّةَ فِی عَلِی أَوْ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ غَلِطَ فِی الْوَحْی كَانَ كَافِرًا، أَوْ إِنْ كَانَ يُنْكِرُ صُحْبَةَ الصِّدِّيقِ أَوْ يَقْذِفُ عَائِشَةَ فَهُوَ كَافِرٌ
اس سے معلوم ہوا کہ روافض اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا ہونے یا حضرت جبرئیل علیہ السلام سے وحی میں غلطی ہونے کے قائل ہیں تو وہ کافر ہیں۔ اور اگر سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے صحابی ہونے کے منکر ہوں یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتے ہوں تو کافر ہیں۔
(مجموعۃ الفتاویٰ اردو: جلد 2 صفحہ234)