سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے حق میں…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے حق میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کلمات خیر

  علی محمد محمد الصلابی

2: سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے حق میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کلمات خیر

ابنِ عباسؓ کا بیان ہے کہ جب سیدنا عمر فاروقؓ کو (شہادت کے بعد) ان کے بستر پر رکھا گیا تو تمام لوگوں نے میت مبارک کو گھیر لیا اور ان کے لیے اللہ سے دعائے مغفرت کرنے لگے، میت ابھی اٹھائی نہیں گئی تھی، میں بھی وہیں موجود تھا، اسی حالت میں اچانک ایک صاحب نے میرا شانہ پکڑ لیا، میں نے دیکھا تو وہ حضرت علیؓ تھے۔ پھر انھوں نے سیدنا عمرؓ کے لیے دعائے رحمت کی، اور (ان کی میت مبارک کو مخاطب کر کے کہنے لگے) آپ نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللہ سے جا ملوں اور اللہ کی قسم! مجھے پہلے سے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا، میرا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ میں نے اکثر رسول اللہﷺ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے تھے:

ذَہَبْتُ اَنَا وَاَبُوْبَکْرٍ وَ عُمَرَ،وَدَخَلْتُ اَنَا وَاَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ ،وَخَرَجْتُ اَنَا وَاَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ۔

(صحیح البخاری: حدیث، نمبر 3685)

’’ میں، ابوبکر اور عمر گئے، میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے، میں ابوبکر اور عمر باہر آئے۔‘‘