سوال: کتابِ کبریٰ سے موافق معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ کتاب کا ذبیحہ درست ہے۔ چنانچہ اسی قاعدے کے موافق علمائے کبار نے یہود و نصاریٰ کے ذبیحے کو درست فرمایا۔ پس اہلِ تشیع کا فرقہ بھی داخلِ کتاب ہے یا نہیں؟ اور ان کا ذبیحہ درست ہے یا نہیں؟
جواب: صورتِ مسئولہ میں جو روافض ایسے ہیں کہ ان کے عقائد منجر بارتداد و کفر ہیں، مثلاً غلاة اور اسماعیلیہ و غیرہما، ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام ہے۔ اس لیے کہ مرتد کا ذبیحہ حرام ہے۔ کتبِ فتاویٰ اس امر سے مشحون ہیں۔ اور ایسے روافض کا ارتداد عامہ فتاویٰ میں مذکور ہے۔ چنانچہ جندی نے شرحِ نقایہ میں لکھا ہے:
وَ هَؤُلَاءِ خَارِجُونَ عَن مِّلَّةِ الْإِسْلَامِ وَ أَحْكَامُهُم أَحْكَامُ الْمُرْتَدِّينَ
ترجمہ: یہ لوگ اسلام سے خارج ہیں اور ان کے احکام وہی ہیں جو مرتدوں کے احکام ہیں۔
بلکہ حضرت مولانا شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ کی تحفہ اثناء عشریہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو روافض سیدنا صدیقِ اکبر یا سیدنا فاروقِ اعظم یا سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہم کی تکفیر کرتے ہوں، یا ان کے دخولِ جنت و قابلیت و لیاقت کا اعتبارِ اوصافِ دین مثلِ علم و عدالت و تقویٰ و ورع کا انکار کرتے ہوں، وہ کافر ہیں۔ چنانچہ اس کتاب میں بزبانِ فارسی تحریر ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:
اہلِ سنت والجماعت کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت امیر کی تکفیر کرنے والے، یا ان کے بہشتی ہونے کا انکار کرنے والے، یا ان کی لیاقتِ خلافت کا انکار کرنے والے اوصافِ دین کے اعتبار سے مثلِ علم و عدالت و تقویٰ و ورع کافر ہیں۔ اور ہم کہتے ہیں ایسا ہی حکم ہے حضراتِ خلفائے ثلاثہؓ کی تکفیر کرنے والوں کا بھی۔ اور جو روافض ایسے عقائد رکھتے ہوں جیسے تفضیلیہ ان کا ذبیحہ درست ہے۔
(مجموعۃ الفتاویٰ اردو: جلد3 صفحہ 225)