سوال: رافضی تبرّائی یعنی جو رافضی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو سبّ وشتم کرتا ہے اور قسم قسم کے القاب دیتا ہے، اس رافضی کے ہاتھ کا ذبیحہ درست اور حلال ہے یا حرام یا مکروہ؟
جواب: اکثر اصحابِ فتاویٰ حنفیہ سبِّ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ازواجِ مطہراتؓ کو کفر و ارتداد لکھتے ہیں۔ پس اس تقدیر پر روافض کا ذبیحہ حرام ہے۔ اور محققینِ حنفیہ اس کو موجبِ کفر نہیں لکھتے بلکہ موجبِ فسق لکھتے ہیں۔ پس اس تقدیر پر رافضی کا ذبیحہ حلال ہے۔
(فتاویٰ مولانا عبد الحئی اردو: صفحہ 435)